جمعہ , 27 نومبر 2020

نئے کراچی کا خواب

غریدہ فاروقی

جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وزیر اعظم عمران خان کراچی کے دورے کا آغاز کر رہے ہوں گے۔ عروس البلاد کہلاتا کراچی جو کبھی نئی نویلی دلہن کی طرح آنکھوں کی چمک اور رخساروں کی دمک کی طرح چمکتا دمکتا تھا اب اس تباہ حال بیوہ کی مانند ہے جو بال بکھرائے مٹی سے اَٹے وجود کے ساتھ درگور نگاہوں سے ہاتھ پھیلائے گلی گلی گھومتی ہے کہ کوئی اس کی امداد کرے۔

ملکہ مشرق، ایشیا کا پیرس، گوہرِ بحیرہ عرب، عروس البلاد، مِنی پاکستان اور ’سندھ جی ماروی‘ کہلانے والا خوابوں سے لبریز شہرِ کراچی آج جس حال میں ہے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کراچی کی کشادہ سڑکیں جو روز عرق ملے پانی سے دھلا کرتیں، شہریوں کے چلنے کو کھلے کھلے صاف ستھرے ٹوٹ پھوٹ اور پان کی پیکوں سے عاری فٹ پاتھ، عوام الناس کے لیے خرام خرام چلتی ٹرام، ایک سے بڑھ کر ایک نئی سے نئی اور کلاس کی گاڑی جو شہر کے متمّول ہونے کی مسلسل نشاندہی کرتی رہیں، کھلے دل وسیع ظرف اعلیٰ تہذیب و تمدن کے گواہ شہر کے مکین، سب خواب و خیال ہوا اور محض کتابوں کی ہی زینت بن کر رہ گیا۔

چمکتی صبحوں، مہکتی شاموں اور جگمگاتی راتوں والا کراچی دو کروڑ سے زیادہ لوگوں کے خوابوں کا مرکز۔ ایک زمانہ تھا کہ شہر کے گرد دیو مالائی رومان کا جالا سا بنا تھا کہتے تھے کہ جو اس شہر سے ایک بار نظر ملا لے وہ اس کے رومانس اور مسحور کُن حصار سے باہر نہ آ سکتا تھا۔ ملک بھر سے نوجوان آنکھوں میں گہرے سپنے سجائے اس شہر میں قسمت چمکانے آتے اور اس حصار سے باہر نہ جا پاتے۔

یہ شہر ایک دوست کی طرح سب کو خوش آمدید کہتا رہا اور ماں کی طرح سب کو تحفظ میں لے کر پروان چڑھاتا رہا۔ اس شہر نے اپنے مکینوں کے ساتھ ساتھ پورے ملک کو کیا کچھ نہ دیا لیکن افسوس ہم سب مل کر بھی اس شہر کو کچھ نہ دے سکے۔ ایشیا کے پیرس کو قدیم روم کا کھنڈر بنا دیا۔ ملکہ مشرق کو خاک کی پیوند پہنا دی۔ عروس البلاد سے چمک چھین لی۔ مِنی پاکستان کو لوٹ کھسوٹ کی آماجگاہ بنا ڈالا۔

شہرِ قائد کا مان کِرچی کِرچی کیے جا رہے ہیں اور اب ایک نئے کراچی کا خواب دکھایا جا رہا ہے۔ کیا کراچی واقعی تین سال میں بدل سکتا ہے؟ کیا دہائیوں کی زیادتیوں کا اِزالہ محض تین سال میں ممکن ہے؟ کراچی کے مکینوں سے پوچھیے تو جہاں نئے کراچی کے خواب کے ذکر سے ہی ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں وہیں زمینی حقائق ان کے چہرے سے عیاں ہوتے خاموش زبان تک آ کر ٹھہر جاتے ہیں۔

اس خوبصورت شہر کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے۔ بے ہنگم آبادی، بے ڈھنگ نظام، بے ڈھب تعمیرات اور بے ترتیب ترجیحات۔ نہ شہر کی آبادی کی کوئی پلاننگ، نہ وسائل کی اور نہ شہر کے پھیلاؤ کی۔ جس کا جہاں داؤ لگا مال بنانے کی خاطر شہر کو داؤ پر لگا دیا۔

کراچی کا مرثیہ کس سے پڑھیں، نوحہ کس کو سنائیں، ماتم کس سے کریں… اور اب جو نئے کراچی کا خواب دکھاویں ہیں تو تعبیر پانے کی ہمت کس میں ہے… تعمیر سے تخریب تک اس بے مثال شہر کا آوے کا آوا ہی بگاڑ کر رکھ دیا گیا۔ نہ پینے کو پانی نہ لینے کو صاف ہوا، نہ بجلی نہ گیس، نہ ضروریاتِ زندگی کی فراہمی، آسائشات تو دور کی بات۔ اب جو سات سو آٹھ سو ارب روپوں کی بات چل نکلی ہے تو کراچی کے اصل مکینوں تک کیا ان روپوں کی سہولت پہنچ پائے گی بھی؟ پاکستان بھر کو پالنے والا شہر، ملکی ٹیکس کا 60 سے 70 فیصد ادا کرنے والا شہر اندھیروں کچرے کنڈیوں تالابوں سیلابوں گندے پانی کے عذابوں کے حوالے کر دیا گیا۔

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان سننے کو تو کانوں کو بڑا بھَلا معلوم ہوتا ہے لیکن کیا گارنٹی ہے کہ اس بار بھی ہر بار کی طرح آواز دے کر زندگی چھُپ نہ جائے گی اور کراچی والے ایسے سادہ لوح کے ہر بار کی پکار پر آ جائیں۔ ایک بار پھر نئے کراچی کے خواب کے خریدار تلاش میں ہیں کیا ضمانت ہے کہ اس بار مال کھوٹا نہ نکلے گا…؟

کراچی کی تبدیلی کوئی محض تین سال کا ماجرا نہیں۔ اس شہر کے عوام کو سکھ دینا ہے تو وفاق اور صوبائی حکومت مل کر کم از کم اگلے دس سال کا پلان بنائیں۔ کراچی کو بے رحم اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔ اس شہر میں اس قدر استعداد، قوت، صلاحیت اور توانائی ہے کہ دس سال میں اس شہر کا نقشہ بدلا جا سکتا ہے اور اسے دبئی ہانگ کانگ نیو یارک جیسے شہروں کے مقابلے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

ضرورت ہے صرف خالص نیت کی اور درست ترجیحات کی۔ کراچی بدل گیا تو مانیں پاکستان بدل جائے گا۔ اِدھر کراچی کی تعمیر نو کریں اُدھر گوادر کی تعمیر اور پھر دیکھیے پاکستان کیسے ایشیا کا ٹائیگر ہی نہیں سُپر ٹائیگر بن سکتا ہے۔ اِس بار تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ذاتی دلچسپی لی ہے کراچی کے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے۔ امید ہے کہ اب کی بار کراچی کی تبدیلی کے لیے واقعی سنجیدہ اور دیر پا کوشش کی جائے گی۔

گذشتہ بار جب کراچی کے امن و امان کی تباہ کن صورت حال میں اس وقت کے آرمی چیف اور ن لیگ کی وفاقی حکومت نے مل کر ٹھان لی تھی کہ بس اب بہت ہو گیا تو سب نے دیکھا کہ کیسے قلیل مدت میں کراچی کے امن و امان کی کایا ہی پلٹ گئی اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔

کراچی میں امن قائم ہونے نے ملک بھر کے امن و امان کی دلیل قائم کر دی۔ یہ کریڈٹ یقیناً اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ن لیگ کی وفاقی حکومت کا تھا اور رہے گا۔ لیکن کراچی کی تعمیر نو امن قائم کرنے سے کئی گنا بڑا چیلنج ہے اور یہ قلیل مدتی بھی نہیں طویل مدتی تسلسل مانگے گا۔

کراچی کی اگر تعمیر نو ہو گئی، یہ شہر اگر یکسر تبدیل ہو گیا، ایک نیا کراچی خواب سے تعبیر کا سفر طے کر گیا تو تا قیامت رہتے پاکستان میں یہ عظیم کریڈٹ آرمی چیف جنرل باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو جائے گا اور یہ صرف کراچی ہی نہیں پورے پاکستان پر ایسا احسان ہوگا جو نسل در نسل یاد رکھا جائے گا۔

اس لیے وزیراعظم عمران خان جب کراچی کے دورے پر بڑے بڑے وعدوں اور دعووں کے ساتھ بھاری بھر کم پیکج کا اعلان کریں گے اور ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت نئے کراچی کا خواب دکھائیں گے تو احتیاط رہے اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ محض سیاسی وعدہ نہیں ہوگا بلکہ کراچی کے عوام کے دکھوں اور تکلیفوں کا حقیقی اور آخرِکار مداوا ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

آنکھیں دھوکا دیتی ہیں!

مجھے ’’ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق ‘‘ پر ترس آتا ہے۔ یہ لوگ بسم اللہ کے …