جمعرات , 25 اپریل 2024

اسرائیل اور عرب امارات کے مابین 25 سالہ خفیہ تعلقات

تل ابیب: اسرائیلی وزارت خارجہ کے رابطہ اور مواصلات کے دفتر کے سربراہ ایلیاو بینجمن نے بتایا کہ اسرائیل گزشتہ 25 سالوں سے ابوظہبی کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی سفارتی کوششوں میں جٹا رہا ہے۔
روزنامہ ہاآرتض نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تل ابیب اور ابوظہبی کا معاہدہ کوئی ایسا اتفاق نہیں ہے جو ایک رات میں حاصل ہو گیا ہو بلکہ اس کے پیچھے 25 سال کی پشت پردہ زحمتیں ہیں جو اب مثمر ثمر واقع ہوئی ہیں۔
اس اخبار نے مزید لکھا ہے کہ مصر اور اردن کے برخلاف اسرائیل اور امارات کے مابین غیر عسکری خفیہ سفارتی تعلقات کافی عرصے سے برقرار تھے۔
ایلیاؤ بینجمن جو عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کی برقراری کے عہدیدار ہیں نے امارات کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بتایا: ’’یہ سب اوسلو معاہدے کے بعد شروع ہوا ، جب وزیر خارجہ شمعون پیریز (وقت کے وزیر خارجہ) ہمارے پاس آئے اور ہمیں کہا کہ عالم اسلام کی طرف دروازے کھول دیں۔”
انہوں نے اس بارے میں مزید کہا: "ہم نے سینئر عہدیداروں کی اجازت سے واشنگٹن ، نیویارک اور ابوظہبی میں ان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا۔” آہستہ آہستہ اور خاموشی سے … پہلے زیادہ تر سرگرمیاں معاشی تھیں، جس کا مقصد سفارتی شعبے میں توسیع کرنا تھا۔ 2002 میں ، جب وہ دبئی میں الماس ایکسچینج قائم کرنا چاہتے تھے تو [اسرائیلی] صراف (اکسچینجر) راماتوگن کو ہم نے نمونہ قرار دیا اور ہمیں وہاں ہمیں غیر متوقع کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ہم نے ان کے ساتھ کئی مذاکرات کئے اور دسیوں اسرائیلی تاجروں کو امارات میں تجارت کے لیے بھیج دیا۔‘‘
ہاآرتض کے مطابق صہیونی وزیر خارجہ نے بھی ان سالوں کوشش کی تاکہ 500 اسرائیلی کمپنیوں جن میں زیادہ تر عسکری نظام سے تعلق رکھتی تھیں کو امارات کی مارکیٹ میں اتار سکیں۔
اس صہیونی عہدیدار نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا متحدہ عرب امارات کی F-35 لڑاکا طیارے خریدنے کی خواہش، آئندہ امریکی صدارتی انتخابات اور اسرائیل میں قبل از وقت ہونے والے انتخابات کے امکان پر اثرانداز ہوئی؟ کہا: کہا جا سکتا ہے کہ تمام ناممکن اتفاقات کے رخ پانے کے بعد یہ معاہدہ انجام پایا ہے۔
بینجمن نے اس بارے میں مزید کہا: "یہ ٹھیک ہے کہ وہ ایف 35 خریدنا چاہتے ہیں ، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس مسئلے کے ساتھ ساتھ، الحاق کے منصوبے کا نفاذ یا عدم نفاذ کا مسئلہ بھی زیر غور تھا۔ نیز دیگر ممالک کے سربراہان بھی موجود ہیں جو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ کیا نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ یہ سب درست ہے۔”
دو ہفتے قبل، واشنگٹن، ابوظہبی اور تل ابیب نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں، ابو ظہبی کے ولی عہد محمد بن زائد اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ اس کے بعد باہمی تعاون سے کام کریں گے۔
گذشتہ روز صہیونی میڈیا نے متحدہ عرب امارات کی وزارت امور خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل ناصریہ شہر یا حیفا کی بندرگاہ میں قونصل خانے کے افتتاح کا خواہاں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

عمران خان نے تحریک انصاف کے کسی بڑے سیاسی رہنما کے بجائے ایک وکیل کو نگراں چیئرمین کیوں نامزد کیا؟

(ثنا ڈار) ’میں عمران کا نمائندہ، نامزد اور جانشین کے طور پر اس وقت تک …