جمعرات , 24 ستمبر 2020

محمد علی جناح: معاملہ بانی پاکستان کی ایک روپیہ تنخواہ اور دو بار نمازِ جنارہ کا

عقیل عباس جعفری

بانی پاکستان محمد علی جناح کی وفات صرف 72 سال پرانا واقعہ ہے مگر اب بھی ان سے وابستہ کچھ واقعات ایسے ہیں جن کی تفصیلات واضح نہیں۔ وہ چاہے اُن کی تنخواہ کا معاملہ ہو یا نمازِ جنازہ کا، کسی سوانح عمری میں کوئی واقعہ ملتا ہے اور کسی سوانح عمری میں کچھ اور۔

آئیے ان دو واقعات کی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی تفصیل کہیں کچھ اور ہے اور تو کہیں کچھ اور۔

نمازِ جنازہ ایک بار ادا کی گئی یا دو بار؟

مؤرخین کا اصرار ہے کہ 11 ستمبر 1948 کو انتقال کے بعد محمد علی جناح کی نماز جنازہ صرف ایک مرتبہ ادا کی گئی اور یہ نماز اہل سنت کے طریقے سے مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی مگر بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ بانی پاکستان کی نماز جنازہ دو مرتبہ ادا کی گئی، ایک مرتبہ اہل تشیع کے طریقے سے اور دوسری مرتبہ اہل سنت کے طریقے سے۔

ان مؤرخین کے مطابق اہل تشیع کے طریقہ سے ادا کی گئی نماز جنازہ کی امامت کا فریضہ مولانا سید انیس الحسنین رضوی نے ادا کیا تھا۔

محمد علی جناح سے نیاز مندانہ مراسم رکھنے والے مولانا انیس الحسنین رضوی کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح نے ان سے اثنا عشری طریقے سے تجہیز و تکفین کے لیے کہا تھا۔

محمد علی جناح کے انتقال کے چار روز بعد سید انیس الحسنین نے صغیر حسن نقوی کو جو خط تحریر کیا اس میں لکھا گیا کہ ’یہ 11 اور 12 ستمبر کی درمیانی رات تھی۔ میں اپنے گھر میں سو رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی، میں نے دروازہ کھولا تو بتایا گیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا انتقال ہو گیا ہے اور محترمہ فاطمہ جناح نے مجھے گورنر جنرل ہاؤس بلایا ہے۔‘

’میں سرکاری گاڑی میں گورنر جنرل ہاؤس پہنچا تو فاطمہ جناح نے بیگم نصرت عبداللہ ہارون کے ذریعے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں قائد اعظم کے غسل اور تکفین کا بہ طریقہ شیعہ اثنا عشری انتظام کروں اور بعدازاں ان کی نماز جنازہ بھی پڑھاؤں۔‘

انیس الحسنین کے مطابق انھوں نے کھارادر میں واقع بڑے امام باڑہ پہنچ کر حاجی ہدایت اللہ عرف حاجی کلو غسال کو جگا کر قائد اعظم کی وفات کی خبر دی اور فاطمہ جناح کی خواہش سے آگاہ کیا جس کے بعد ’حاجی کلو نے خوجہ اثنا عشری جماعت کے صدر سیٹھ رحیم چھاگلہ اور سیکریٹری عبدالرسول کو اطلاع کر کے ان کی اجازت سے غسل اور کفن کا تمام سامان فراہم کیا اور حاجی کلو، سیٹھ رحیم چھاگلہ اور عبدالرسول میرے ساتھ گورنر جنرل ہاؤس واپس روانہ ہو گئے۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’گورنر جنرل ہاؤس پہنچنے کے بعد قائد اعظم کے کمرے سے ملحق غسل خانے میں حاجی کلو اور ان کے مددگاروں نے اثنا عشری طریقے کے مطابق قائد اعظم کی میت کو غسل دیا اور کفن پہنایا۔ اس کے بعد میں نے قائد اعظم کے کمرے میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں کراچی کے ایڈمنسٹریٹر ہاشم رضا، کراچی کے انسپکٹر جنرل پولیس سید کاظم رضا، سندھ کے وزیراعلیٰ یوسف ہارون، آفتاب پسر حاتم علوی اور حاجی کلو وغیرہ نے شرکت کی۔‘

انیس الحسنین نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ ’اس کے بعد میت کو راہداری میں رکھ دیا گیا تاکہ عوام الناس آخری دیدار کر سکیں۔۔۔۔ یہاں تک کہ دن نکل آیا اور میت علموں کے سائے میں (جو بڑا امام باڑہ کھارادر سے اسی غرض سے لائے گئے تھے) فوجی گاڑی پر مقام تدفین کی طرف روانہ ہوئی جہاں لاکھوں آدمیوں نے علامہ شبیر احمد عثمانی کی قیادت میں دوبارہ نماز جنازہ ادا کی۔

’قائداعظم کی تدفین کے بعد مولوی سید غلام علی احسن مشہدی اکبر آبادی نے بہ طریقہ شیعہ اثنا عشری تلقین بھی پڑھی تھی۔ تلقین پڑھائے جانے کے بعد قبر پر وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزرا اور اسلامی ممالک کے سفیروں نے مٹی دی۔ بعدازاں ہزاروں انسان سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد منتشر ہو گئے۔‘

پہلی نماز جنازہ میں شریک کراچی کے ایڈمنسٹریٹرسید ہاشم رضا نے محمد وصی خان کے نام لکھے گئے اپنے ایک مکتوب اور پھر اپنی خودنوشت سوانح عمری ’ہماری منزل‘ میں تحریر کیا ہے کہ ’میں قائد اعظم کی اس نماز جنازہ میں شامل تھا جو مولانا سید انیس الحسنین رضوی نے پڑھائی تھی۔ یہ نماز اس کمرے میں ادا کی گئی تھی جو گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی زیریں حصے میں ہے۔ اس نماز جنازہ میں میرے برادر بزرگ سید کاظم رضا اور یوسف ہارون بھی شریک تھے۔‘

بیگم نصرت عبداللہ ہارون نے پانچ اکتوبر 1972 کو محمد وصی خان کے نام لکھے گئے ایک خط میں تحریر کیا کہ ’میں تصدیق کرتی ہوں کہ 11 اور 12 ستمبر کی درمیانی رات تین بجے میں نے مولانا سید انیس الحسنین رضوی کو گورنر جنرل ہاؤس بلایا اور فاطمہ جناح نے مولانا سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی مراسم تجہیز وتکفین بہ طریقہ شیعہ اثنا عشری ادا فرمائیں۔‘

بیگم نصرت نے مزید لکھا ’پس تمام مراسم غسل و کفن مولانا موصوف کی نگرانی میں انجام پائے۔ بعد نماز صبح مولانا موصوف نے نماز میت بہ طریق شیعہ اثنا عشری پڑھائی، اس نماز میں سید ہاشم رضا، سید کاظم رضا، آفتاب پسر حاتم علوی اور کئی آدمی شریک ہوئے۔‘

معاملہ ایک روپیہ تنخواہ کا

محمد علی جناح نے جب پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا تو ان کی تنخواہ کیا تھی؟ گذشتہ چند برسوں سے یہ سوال بھی سوشل میڈیا پر گردش میں رہا ہے۔

ان کے علامتی طور پر ایک روپیہ تنخواہ لینے کی بات بار بار دہرائی جاتی ہے مگر یہ بات پہلی بار سنہ 1976 میں اس وقت منظرعام پر آئی تھی جب محمد علی جناح کی پیدائش کا صد سالہ جشن منایا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ بات مروج ہو گئی اور متعدد کتابوں میں نقل بھی ہوئ۔

مگر اس سلسلے میں حکومت پاکستان کا ریکارڈ کیا کہتا ہے اور محمد علی جناح کے پے بل کے مطابق ان کی ماہانہ تنخواہ کیا تھی اس سلسلے میں کسی نے بھی تحقیق کی زحمت نہیں اٹھائی۔

محمد علی جناح کی تنخواہ کی سرکاری فائل نیشنل آرکائیوز آف پاکستان اور قائد اعظم پیپر سیل اسلام آباد میں محفوظ ہے۔ اس فائل کے سرسری مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بطور گورنر جنرل ان کا باقاعدہ ماہانہ مشاہرہ مقرر تھا اور پے بل سرکاری طریقے پر پیش ہوتا تھا اور منظوری کے رسمی مراحل سے بھی باقاعدگی سے گزرتا تھا۔

محمد علی جناح کی مجموعی تنخواہ 10416 روپے 10 آنے اور 8 پائی تھی جس میں سے 6112 روپے سپر انکم ٹیکس کی مد میں حکومتی خزانے میں جمع ہو جاتے تھے اور قائد اعظم کے حصے میں 4304 روپے 10 آنے آتے تھے۔

یہ دستور ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہ کی فائل میں چارج لینے کی تاریخ اور نمونے کے دستخط موجود ہوتے ہیں چنانچہ محمد علی جناح سے بھی نمونے کے دستخط حاصل کیے گئے۔

انھوں نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالے جانے کا سرٹیفکیٹ بھی درج ذیل الفاظ میں اپنے دستخطوں سے مہیا کیا ’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے 15 اگست 1947ء کی صبح کو اختیار سنبھال لیا۔‘

بانی پاکستان کا دفتری عملہ ان کا پے بل باقاعدگی سے ان کے ملٹری سیکریٹری کرنل جے نولس کے حوالے کرتا تھا کہ وہ محمد علی جناح سے مقررہ جگہ پر دستخط کروا لیں۔ وہ ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ بل عملے کو واپس کر دیتے جو اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو بھیج دیا جاتا تھا۔ ایک کاپی قائداعظم کی ذاتی فائل میں رکھ دی جاتی جو اسسٹنٹ سیکریٹری ایف امین کے پاس ہوا کرتی تھی۔

محمد علی جناح کا پہلا پے بل اگست 1947 تا جنوری 1948 کا بنایا گیا۔ اس کی مجموعی رقم 57795 روپے اور 13 آنے تھی جو انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس منہا کرنے کے بعد 34588 روپے پانچ آنے بنی۔

پے بل کی فائل سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس کی ادائیگی اہتمام کے ساتھ پورا پورا حساب لگا کر کی جاتی تھی، تاہم ان کی تنخواہ کا آخری حساب لگانے پر معلوم ہوتا کہ کٹوتی کہیں زیادہ تھی۔

پے بل کے فائل سے مطالعے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں قاعدہ قانون ہر چھوٹے بڑے کے لیے تھا اور قاعدے کی نشاندہی پر کوئی جُز بُز نہ ہوتا تھا۔

قائداعظم کا پے بل برائے اپریل 1948 اے جی پی آر کے اسسٹنٹ اکاؤنٹ آفیسر نے اس اعتراض کے ساتھ واپس کر دیا کہ ان کے نمونے کے دستخط، جو ان کے پے بل کی فائل میں موجود ہے، پے بل پر کیے گئے دستخطوں سے مختلف ہیں لہٰذا یا تو محمد علی جناح سے درخواست کی جائے کہ وہ بل پر دوبارہ دستخط کر دیں یا پھر قائد اعظم کے دستخطوں کی تصدیق ان کا ملٹری سیکریٹری خود کرے۔

قائداعظم کا پہلا پے بل اگست 1947ء تا جنوری 1948ء کا بنایا گیا۔ اس کی مجموعی رقم 57795.13 تھی جو انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس منہا کرنے کے بعد 34588.5 روپے بنی

جیسا کہ اوپر بیان ہوا بانی پاکستان کی مجموعی تنخواہ 10416 روپے 10 آنے اور آٹھ پائی تھیں۔ آٹھ پائی حساب کتاب میں دقت کا سبب بن رہی تھیں چنانچہ فروری 1948 کے بل میں یہ تصریح کی گئی کہ جنوری کے بل میں 10416 روپے 11 آنے وصول کیے گئے جو چار پائی زیادہ تھے چنانچہ وہ رقم فروری 1948 کے بل میں دو آنے کم وصول کر کے برابر کر دی گئی ہے۔

بل کے صفحہ نمبر 10 پر اکاؤنٹس آفیسر نے ہدایت درج کردی کہ مارچ 1948 کا بل 10416 روپے 10 آنے کے حساب سے پاس کیا گیا ہے اور آئندہ بھی اتنا بل بنایا جائے اور اس ماہانہ فرق کو آٹھ آنے فی سال کے حساب سے آئندہ فروری کی تنخواہ میں، جو مارچ 1949 میں وصول ہو گی، برابر کر لیا جائے چنانچہ اپریل 1948 کا بل اسی حساب سے بنایا گیا۔ یہ تنخواہ لائیڈز بینک کراچی میں جمع ہوتی تھی جہاں بانی پاکستان کا اکائونٹ نمبر 1 تھا۔

جب محمد علی جناح کی وفات ہوئی تو ان کی تنخواہ کا بل اے جی پی آر کے دفتر میں برائے منظوری موجود تھا۔ اس بل پر قائداعظم نے 24 اگست 1948 کو دستخط کیے تھے، ظاہر اس میں ستمبر1948ء کے 11 دنوں کی تنخواہ شامل نہ تھی۔

چنانچہ اے جی پی آر نے حساب لگایا کہ اگست اور ستمبر کی تنخواہ ملا کر15036 روپے ایک آنہ بنتی ہے۔ اس حساب کتاب کے وقت معلوم ہوا کہ تنخواہ سے انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی مد میں یکم مارچ 1948 سے 31 جولائی 1948 کے عرصے کے لیے منہا کی جانے والی رقم 4434 روپے سات آنے زائد تھی، چنانچہ اگست 1948 کے بل سے ٹیکس کٹوتی نہ کی گئی اور قائداعظم کے وصیت کے مطابق ان کے وراثت کے ذمہ داروں یعنی مس فاطمہ جناح اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے حوالے کر دیا گیا۔

ان دونوں بلوں کی رقم 14236 روپے پانچ آنے تھی جو فاطمہ جناح کو بھجوا دی گئی۔ اس میں اگست 1948 کی تنخواہ 10416 روپے 10 آنے جبکہ ستمبر 1948 کے 11 دنوں کی تنخواہ 3829 روپے 11آنے تھی۔ سمچوری الاؤنس میں بقایا رقم 12129 روپے ایک آنہ 11 پائیاں فاطمہ جناح کو بذریعہ خط الگ بھجوائی گئیں۔

یہ ہے بانی پاکستان محمد علی جناح کی تنخواہ کا اصل قصہ جس کی تصدیق نیشنل آرکائیوز آف پاکستان اور قائداعظم پیپر سیل اسلام آباد سے کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل اور بھارت کا غبارہ فوبیا

منصور جعفر ہیلیم ایک بے رنگ، بے ذائقہ اور بے بو خواص کی حامل گیس …