جمعرات , 24 ستمبر 2020

اسلام آباد میں قومی علماء و ذاکرین کانفرنس کا انعقاد

اسلام آباد: امام بارگاہ جامع صادق میں عظیم الشان قومی علماءو ذاکرین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں استادالعلماء مفسر قرآن جامعہ الکوثر کے سربراہ علامہ شیخ محسن نجفی ،قائدوحدت علامہ راجہ ناصرعباس جعفری ،تحریک اسلامی پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی ، جامع المنتظر کے سربراہ علامہ حافظ ریاض نجفی ، علامہ شیخ حسن جعفری، امت واحدہ کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی مخزن العلوم جعفریہ ملتان کے سربراہ علامہ سید تقی شاہ سمیت شیعہ تنظیموں آئی ایس او، جے ایس او ،آئی او کے مرکزی رہنما بزرگ علماکرام و ذاکرین اور ملت تشیع کے اکابرین نے شرکت کی۔مقررین نے کہا کہ پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کا منظم منصوبہ یہود و ہنود کی سازش ہے۔اس مل کر ناکام بنایا جائے گا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ تہذیب و شائستگی ،قانون پسندی ، ذمہ دارانہ طرز عمل اورحب الوطنی ملت جعفریہ کا طرہ امتیاز ہے۔ ملت جعفریہ نے ہزاروں قمیتی جانوں کی قربانی دے کر قومی سلامتی اور بین المسالک ہم آہنگی کو استوار رکھا اور داخلی وحدت پر آنچ نہیں آنے دی۔جن عناصر نےوطن عزیز کو عدم استحکام کا شکار کیا وہی شرپسند عناصر فرقہ واریت پھیلا کر غیر ملکی وطن دشمن ایجنڈےکو تقویت دے رہے ہیں ان تکفیری عناصر کے خلاف بلاتفریق کاروائی کی جائے۔وطن عزیز کی حفاظت و بقاء کے لیے ہماری شرعی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مسلمہ مقدسات کا احترام کریں۔اجلاس میں اتفاق رائے سے قرارداد کی منظوری دی گئی اور اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع فرانس سے شائع ہونےوالے چارلی ایبڈو میگزین میں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان اقدس کے حوالے سے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں اور سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے مذموم واقعے کی پرزور مذمت کرتاہے۔ یہ اجتماع عرب امارات، بحرین اوردیگر عرب ممالک کے اسرائیل کےساتھ تعلقات کی بحالی کو فلسطینی موقف سے کھلا انحراف سمجھتے ہوئے اس صورتحال پر اپنے غم و غصہ کا اظہارکرتاہے۔علماءوذاکرین کانفرنس کا یہ عظیم الشان اجتماع مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان پر توڑے جانے والے بھارتی مظالم کی شدید مذمت کرتا ہے۔ پاکستان کا آئین اپنے تمام شہریوں کو اظہار رائے کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے اور ملت تشیع اس کی دفاعی و نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔اس ملت نے طول تاریخ میں ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی دے کر وطن عزیز کو عدم استحکام کا شکار ہونے سے بچایا ہے اور کسی بھی صورت شرپسند عناصر کو فرقہ واریت پھیلانے کا موقع نہیں دیا۔اور نہ ہی آئندہ اس قسم کی کسی کوشش کو کامیاب ہونے دیاجائےگا۔
یہ عظیم الشان اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ملک بھر میں مجالس عزا اور روایتی جلوسوں کے خلاف جو ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں ان کو فی الفور واپس لیا جائے اوریہ اجتماع یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عزاداری سید الشہداء کے راستے میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا لہٰذا ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے ورنہ حالات کی تما م ترذمہ داری ارباب اختیار پر ہوگی۔شیعہ قوم کےقائدین و بزرگان پوری امت کو ہمیشہ اتحاد ووحدت کی دعوت دی ہے اور فرقہ واریت پھیلانے والے تمام عناصر کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔شیعہ قوم کے قائدین و بزرگان ایک غیر ذمہ دار شخص کی طرف سے ہونے والی گستاخی سے بےزاری کااعلان کرتے ہیں اور ایک فرد کی دریدہ دہنی کوجوازبناکرشیعہ قوم کےخلاف اسی نوعیت کی دریدہ دہنی کو غیر شرعی اورسنگین جرم قراردیتے ہیں ۔یہ اجتماع پنجاب اسمبلی کےاجلاس میں پیش کردہ تحفظ بنیاد اسلام بل کو متنازع قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کرتا ہے جبکہ اس حوالے سے پہلے سے ہی قانون موجود ہے لہٰذا تحفظ بنیاد اسلام جیسے متنازعہ بل کو فی الفور واپس لیاجائے

یہ بھی دیکھیں

عبدالمجید اچکزئی کی بریت کا فیصلہ بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج

کوئٹہ: محکمہ پولیس بلوچستان نے عبدالمجید اچکزئی کی بریت کے فیصلہ کو بلوچستان ہائی کورٹ …