جمعرات , 24 ستمبر 2020

حضرت امام سجاد (ع) ہر کار خير پر سجدہ کیا کرتے تھے

ذہبی نے طبقات الحفاظ میں بحوالہ امام محمدباقرعلیہ السلام لکھاہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کوسجاد اس لیے کہاجاتاہے کہ آپ تقریبا ہرکارخیرپرسجدہ کیا کرتے تھے جب آپ خداکی کسی نعمت کاذکرکرتے توسجدہ کرتے جب کلام خداکی آیت ”سجدہ“ پڑھتے توسجدہ کرتے جب دوشخصوں میں صلح کراتے توسجدہ کرتے اسی کانتیجہ تھاکہ آپ کے مواضع سجودپراونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑجاتے تھے پھرانہیں کٹواناپڑتاتھا۔
علامہ شبلنجی کابیان ہے کہ امام مالک کاکہناہے کہ حضرت امام زین العابدین کوکثرت عبادت کی وجہ سے زین العابدین کہاجاتاہے۔

حضرت علی بن الحسین امام زین العابدین کی ولادت باسعادت 5 شعبان المعظم ۳۸ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی. آپ کے دادا حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السّلام اور خاندان کے سب لوگ اس مولود کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اورحضرت علی علیہ السّلام نے پوتے میں اپنے خدوخال دیکھ کر اس کانام اپنے نام پر علی رکھا . حضرت امام زین العابدین شیعوں کے چوتھے امام ہیں۔آپ کے والد گرامی حضرت امام حسین علیہ السلام اور والدہ حضرت بی بی شہر بانو ہیں۔

آپ کااسم گرامی ” علی” کنیت ابومحمد۔ ابوالحسن اورابوالقاسم تھی، آپ کے القاب بےشمارتھے جن میں زین العابدین ،سیدالساجدین، ذوالثفنات، اورسجاد وعابد زیادہ مشہورہیں ۔(1)

آپ کے لقب زین العابدین کی توجیہ :

علامہ شبلنجی کابیان ہے کہ امام مالک کاکہناہے کہ آپ کوزین العابدین کثرت عبادت کی وجہ سے کہاجاتاہے (2) علماء فریقین کاارشاد ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ایک شب نمازتہجد میں مشغول تھے کہ شیطان اژدھے کی شکل میں آپ کے قریب آگیا اوراس نے آپ کے پائے مبارک کے انگوٹھے کومنہ میں لے کاٹناشروع کیا، امام جوہمہ تن مشغول عبادت تھے اورآپ کارجحان کامل بارگاہ ایزدی کی طرف تھا، وہ ذرابھی اس کے اس عمل سے متاثرنہ ہوئے اوربدستورنمازمیں منہمک ومصروف ومشغول رہے بالآخروہ عاجزآگیا اورامام نے اپنی نمازبھی تمام کرلی اس کے بعدآپ نے اس شیطان ملعون کوطمانچہ مارکردورہٹادیا اس وقت ہاتف غیبی نے انت زین العابدین کی تین بارصدادی اورکہابے شک تم عبادت گزاروں کی زینت ہو، اسی وقت آپ کایہ لقب ہوگیا ۔ (3)

علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اژدھے کے دس سرتھے اوراس کے دانت بہت تیزاوراس کی آنکھیں سرخ تھیں اوروہ مصلی کے قریب سے زمین پھاڑکے نکلاتھا ایک روایت میں اس کی وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ قیامت میں آپ کواسی نام سے پکاراجائے گا ۔(4)

آپ کےلقب سجادکی توجیہ

ذہبی نے طبقات الحفاظ میں بحوالہ امام محمدباقرعلیہ السلام لکھاہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کوسجاد اس لیے کہاجاتاہے کہ آپ تقریبا ہرکارخیرپرسجدہ فرمایا کرتے تھے جب آپ خداکی کسی نعمت کاذکرکرتے توسجدہ کرتے جب کلام خداکی آیت ”سجدہ“ پڑھتے توسجدہ کرتے جب دوشخصوں میں صلح کراتے توسجدہ کرتے اسی کانتیجہ تھاکہ آپ کے مواضع سجودپراونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑجاتے تھے پھرانہیں کٹواناپڑتاتھا۔
تربیت
حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کا ابھی دوبرس کاسن تھا جب آپ کے دادا حضرت امیر علیہ السّلام کاسایہ سر سے اٹھ گیا. امام زین العابدین علیہ السّلام اپنے چچا حضرت امام حسن علیہ السّلام اور والد امام حسین علیہ السّلام کی تربیت کے سایہ میں پروان چڑھے . بارہ برس کی عمر تھی جب امام حسن علیہ السّلام کی وفات ہوئی . اب امامت کی ذمہ داریاں آپ کے والد حضرت امام حسین علیہ السّلام سے متعلق تھیں .شام کی حکومت پر بنی امیہ کا قبضہ تھا اور واقعات کربلا کے اسباب حسینی جھاد کی منزل کو قریب سے قریب ترلارہے تھے . یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت زین العابدین علیہ السّلام بلوغ کی منزلوں پر پھنچ کر جوانی کی حدوں میں قدم رکھ رہےتھے ۔
شادی
اسی زمانہ میں جب کہ امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کررہے تھے حضرت نے اپنے فرزند سید سجاد علیہ السّلام کی شادی اپنی بھتیجی یعنی حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی کے ساتھ کردی جن کے بطن سے امام محمدباقر علیہ السّلام کی ولادت ہوئی اور اس طرح امام حسین علیہ السّلام نے اپنے بعد کے لئے سلسلۂ امامت کے باقی رہنے کاسامان خود اپنی زندگی میں فراہم کردیا .

واقعہ كربلا كے بعد 34برس امام العابدين عليہ السّلام نے انتہائي ناگوار حالات ميں بڑے صبروضبط اور استقلال سے بسر کئے۔ اس تمام مدت ميں آپ دنيا كے شور وشر سے عليحدہ صرف دومشغلوں ميں رات دن بسر كرتے تھے ايک عبادت خدا دوسرے اپنے باپ پر گريہ , يہي آپ كي مجلسيں تھيں جو زندگي بھر جاري رہيں آپ جتنااپنے والد بزرگوار كے مصائب كو ياد كركے روئے ہيں دنيا ميں اتنا كسي نے گريہ نہيں كيا , ہر لمحہ آپ كوامام حسين عليہ السّلام كي مصيبت ياد آتي تھي جب كھانا سامنے آتا تھا تب روتے تھے جب پاني سامنے آتا تھا تب روتے تھے , امام حسين عليہ السّلام كي بھوک وپياس ياد آجاتي تھي تو اكثر اس شدت سے گريہ وزاري فرماتے تھے اور اتني دير تك رونے ميں مصروف رہتے تھے كہ گھر كے دوسرے لوگ گھبراجاتے تھےاور انھيں آپ كي زندگي كے بارے ميں خطرہ محسوس ہوجاتا تھا ۔ ايک مرتبہ كسي نے پوچھا كہ آخر كب تک روتے رہیں گے تو آپ نے فرمايا كہ حضرت يعقوب عليہ السّلام كے بارہ بيٹے تھےايک فرزند غائب ہوگيا تو وہ اس قدر روئے كہ آنكھيں جاتي رہيں ميرے سامنے تو اٹھارہ عزيزواقارب جن كا مثل ونظير دنيا كے پردہ پر نہ تھا قتل ہوگئے ہيں ميں كيسے نہ روؤں۔
يوں تو يہ رونا بالكل فطري تاثرات كي تحريک سے تھا مگر اس كے ضمن ميں نہايت پر امن طريقہ سے امام حسين عليہ السّلام كي مظلوميت اور شہادت كاتذكرہ زندہ رہا اور امام زين العابدين عليہ السّلام كے غير معمولي گريہ كے چرچے كے ساتھ شہادت امام حسين عليہ السّلام كے واقعات كاتذكرہ فطري طور پر سے لوگوں كي زبانوں پر آتا رہا جو دوسري صورت ميں اس وقت حكومت وقت كے مصالح كے خلاف ہونے كي بنا پر ممنوع قرار پاجاتا ۔
اتني پر امن زندگي كے باوجود حكومت شام كو اپنے مقاصد ميں حضرت امام سجاد عليہ السّلام كي ذات سے نقصان پہنچنے كاانديشہ ہوا ۔ ابن مروان نے اپني حكومت كے زمانے ميں آپ كو گرفتار كراكے مدينہ سے شام كي طرف بلوايا اور دوتين دن آپ دمشق ميں قيد رہے مگر خدا كي قدرت تھي اور آپ كي روحانيت كااعجاز جس سے عبدالملك خود پشيمان ہوا اور مجبورا حضرت امام زين العابدين عليہ السلام كو مدينہ واپس پہنچا ديا۔

حضرت امام سجاد (ع) شہادت
افسوس ہے كہ حضرت امام زين العابدين عليہ السّلام كي يہ خاموش زندگي بھي ظالم حكومت كوناگوار ہوئي اور وليد بن عبدالملک اموي بادشاہ شام نے آپ كو زہردلوا ديا اور 25محرم 95 ہجري شہر مدينہ ميں آپ درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔ امام محمد باقر عليہ السّلام نےاپنے مظلوم باپ كي تجہيز وتكفين كاانتظام كيااور جنت البقيع ميں حضرت امام حسن عليہ السّلام كے پہلو ميں دفن كرديا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ۔ (مطالب السؤل ص ۲۶۱ ،شواہدالنبوت ص ۱۷۶ ،نورالابصار ص ۱۲۶ ،الفرع النامی نواب صدیق حسن ص ۱۵۸) ۔

2۔ (نورالابصار ص ۱۲۶) ۔

3۔ (مطالب السؤل ص ۲۶۲ ،شواہدالنبوت ص ۱۷۷) ۔

4۔ (مناقب جلد ۴ ص ۱۰۸)، (دمعة ساکبة ص ۴۲۶) ۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل اور بھارت کا غبارہ فوبیا

منصور جعفر ہیلیم ایک بے رنگ، بے ذائقہ اور بے بو خواص کی حامل گیس …