جمعرات , 24 ستمبر 2020

اہل سنت و دیگر مکاتب فکر کے علماء عالمی ایجنڈے کی تکمیل کا حصہ نہ بنیں: علامہ امین شہیدی

اسلام آباد: اسلام آباد میں مکتب تشیع کے جید علماء کی سرپرستی میں "قومی علماء و ذاکرین کانفرنس” کا انعقاد ہوا جس میں ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور محرم الحرام کے دوران کالعدم تکفیری تنظیموں کے پروپیگنڈہ کے حوالہ سے مختلف علماء اور ذاکرین نے اپنا مؤفف بیان کیا۔ امت واحدہ پاکستان کے سربراہ حجتہ الاسلام و المسلمین علامہ امین شہیدی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور تکفیری پروپیگنڈہ کا جواب دینے کے لئے چند تجاویز پیش کیں:

1۔ اہل سنت و دیگر مکاتب فکر کے علماء عالمی ایجنڈے کی تکمیل کا حصہ نہ بنیں۔

بین الاقوامی طاقتوں کی خواہش ہے کہ عالم اسلام کے حساس ترین مسائل سے مسلمانوں کی توجہ ہٹا کر ڈیل آف دا سنچری کے خواب کو پورا کیا جا سکے۔ اہل سنت اور دیگر مکاتب فکر کے سادہ لوح علماء کرام کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی ذاکر یا خطیب کے معاندانہ جملہ یا غیر منصفانہ بات پر مشتعل ہو کر اس عالمی ایجنڈے کی تکمیل کا حصہ نہ بنیں۔

2۔ مکتب تشیع کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مخصوص کونسل کی تشکیل کی جائے۔

میری تجویز ہے کہ ہمارے بزرگ علماء کرام فوری طور پر ایک کونسل کی تشکیل دیں جہاں وہ مکتب تشیع کو درپیش چیلنجز کا بروقت جواب دے سکیں۔ اہل بصیرت افراد جو دشمن کی شناخت رکھتے ہوں، کے ذریعہ مدارس میں اسی قسم کا سلسلہ شروع کیا جائے تاکہ کوئی دشمن کے بنائے ہوئے گراؤنڈ میں نہ کھیل سکے۔

3۔ قاطعانہ فیصلوں کے ذریعہ تشیع کے ناسور کو ختم کیا جائے۔

جو لوگ شیعیت کے لباس میں اللہ، قرآن، رسول (ص) اور مراجع تقلید کی توہین کرتے ہیں، وہ چند ایک اور مشخص شدہ ہیں۔ ایسے افراد کو قوم کی صفوں سے باہر نکال کر اعلان کیا جائے کہ ان کا مکتب اہل بیت علیہم السلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ وہ ناسور ہیں جن کے کندھے کو استعمال کر کے دشمن مکتب تشیع کو نشانہ بناتا ہے۔

4۔ توہین آمیز خطابت کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائے۔

وہ صالح ذاکرین جو اپنی گفتگو میں حدود کو پامال نہیں کرتے، ان سے رابطہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کے اچھے کام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے خود سے قریب کیا جائے۔ اسی طرح توہین آمیز خطابت کی مکمل اور ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

5۔ اصول عقائد پر سمجھوتہ ممکن نہیں!

ہمیں اپنے عقائد کو ڈٹ کر منطق اور استدلال کے ساتھ پیش کرنا چاہیے اور یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ہم عقائد کے حوالہ سے کسی اصول پر سمجھوتہ کے لئے تیار نہیں۔ اہل سنت کے متفق علیہ موضوعات کو نہ چھیڑا جائے لیکن ان کے آپس کے اختلافی موضوعات پر کھل کر بات ہونی چاہیے کہ پہلے آپ آپس کے اختلافات کو حل کریں اور پھر ہم پر اعتراض کیا جائے۔

6۔ معتدل اہل سنت علماء کے ساتھ مشترکہ مؤقف کا اعلان کیا جائے

موجودہ فضا میں اہل سنت کے معتدل علماء کرام کے ساتھ گفتگو، تبادلہ خیال اور مشترکہ مؤقف کا اعلان کرنے کے لئے ہمیں اپنی کوششیں تیز تر کرنی چاہییں۔ اہل حدیث، دیوبندی اور اہل سنت مکاتب کے علاوہ کسی بھی شدت پسند جماعت میں موجود معتدل افراد تک ہمیں اپنی آواز اور واضح موقف پہنچانا چاہیے۔

7۔ تبرا اور متنازعہ تاریخی شخصیات پر مدلل مؤقف پیش کیا جائے

ہمیں "تبرا” کی واضح تعریف اور "تبرا” کرنے کی وجہ بیان کرنی چاہیے۔ استدلال کے ساتھ دوسرے مکتب کے پیروکار کو با آسانی قائل کیا جاسکتا ہے۔ قرآن، سنت اور ثبوت کی روشنی میں متنازعہ تاریخی شخصیات کے حوالہ سے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔،اور اجتماعات میں بیان کرنا چاہیے کہ دوسروں کے مقدسات کی توہین کو ہمارے مراجع کرام نے باقاعدہ فتوی کے ذریعہ حرام قرار دیا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

عبدالمجید اچکزئی کی بریت کا فیصلہ بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج

کوئٹہ: محکمہ پولیس بلوچستان نے عبدالمجید اچکزئی کی بریت کے فیصلہ کو بلوچستان ہائی کورٹ …