جمعہ , 23 اپریل 2021

پاکستان میں بھارتی دہشت گردی بے نقاب ، کیا بھارت ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ ہوگا ؟

وطنِ عزیز میں بھارت کی طرف سے دہشت گردی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کیونکہ قیامِ پاکستان کے وقت سے ہی بھارتی قیادت کے بیانات، پالیسیاں، مقبوضہ کشمیر پر قبضہ اور اب تک ہونے والی پاک بھارت جنگیں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ بھارت سے بڑا پاکستان کا دشمن اور کوئی نہیں۔

آج وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی جس کے دوران پاکستان کے خلاف بھارت کے مذموم عزائم اور منظم دہشت گردی کو بے نقاب کیا گیا۔
آئیے سب سے پہلے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس میں گفتگو، اعدادوشمار اور حقائق کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا بھارت کو ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی فورم پر بلیک لسٹ کیا جاسکتا ہے؟

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان

ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے جبکہ ہمیں آج بھارت کا فاشسٹ چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرنا ہے۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ بھارت سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں میں مصروف ہے اور اس نے پاکستان کو غیر مستحکم بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا مزید خاموش رہنا خطے کے امن و امان کیلئے مناسب نہیں ہے اور آج کی پریس کانفرنس اس حوالے سے بے حد اہم ہے۔ وقت آگیا ہے کہ بھارت کی سرحد پار سے دہشت گردی پر قوم اور عالمی برادری کو اعتماد میں لیا جائے۔ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات اور شواہد موجود ہیں کہ بھارت دہشت گردی کا منصوبہ بنا کر بیٹھا ہے۔

نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے بہت بڑی قیمت ادا کی۔ پاکستان پر دہشت گردوں کے حملوں میں 32 ہزار شہادتیں اور 83 ہزار شہری زخمی ہوئے۔ بھارت ایک بدمعاش ریاست کا روپ دھارتا جارہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی نمایاں کامیابیاں بھارت ہضم نہیں کر پایا۔ ہم امن حاصل کرنے کی کوششش کر رہے تھے اور بھارت ہمارے خلاف دہشت گردی کا جال بن رہا تھا۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے پاس ناقابلِ تردید شواہد ہیں جو آج دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان میں مزید دہشت گردی کیلئے اُکسایا جارہا ہے۔ علماء اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی ترغیب دی جارہی ہے جبکہ دہشت گردی سے پاکستان کو 126 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ سن 2001ء سے 2020ء تک پاکستان میں 19 ہزار 130 دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے امن میں خلل ڈالنا چاہتا ہے اور اس کا دوسرا مقصد ہمیں معاشی طور پر غیر مستحکم کرنا ہے جس کیلئے بھارت نے ہمیں ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق بھارت دہشت گرد تنظیموں کے درمیان 22 ارب روپے تقسیم کرچکا ہے۔ سی پیک کو سبو تاژ کرنا بھارت کا واضح منصوبہ ہے۔ سی پیک کے خلاف سیل کو بھارت نے 80 ارب روپے ادا کیے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے سی پیک کی حفاظت کیلئے 2 سیکیورٹی ڈویژنز بنائے ہیں۔ بھارت گلگت بلتستان میں شورش پیدا کرنا چاہتا ہے۔ گلگت بلتستان انتخابات کے بعد بھارت کے ارادے نیک نہیں ہیں۔ بھارت نومبر اور دسمبر میں پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آرکی گفتگو

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے وزیرِ خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس بھارت کی اشتعال انگیزیوں سے متعلق ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔ بھارت دہشت گردوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ بھارت داعش پاکستان کے نام سے دہشت گرد تنظیم کے ساتھ ساتھ کالعدم تنظیموں کا ایک کنسورشیم بھی بنا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت پاکستان میں موجود کالعدم اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔ بھارتی کرنل راجیش افغانستان میں موجود بھارتی سفارت خانے سے پاکستان مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی میں ملوث ہے۔ بھارتی قونصل خانے اور سفارت خانے پاکستان مخالف سرگرمیوں کا گڑھ اور دہشت گردی کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان میں حال ہی میں جو بھی دہشت گردی ہوئی، اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ تھا، بھارت نے حال ہی میں 30 داعش ہشت گرد پاکستان اور گردونواح میں منتقل کیے۔

بھارتی خفیہ ایجنسی را اپنے ایجنٹوں کو تیسرے ممالک کے ذریعے فنڈنگ میں ملوث ہے۔ دہشت گردی کیلئے رقوم افغانستان بھیجی جاتی ہیں۔ الطاف حسین گروپ کو بھی را فنڈنگ کرتی رہی۔

بھارت کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت عالمی برادری کے سامنے رکھتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے 700 افراد پر مشتمل ملیشیاء بنائی۔ کئی تنظیموں کو بھارت ہتھیار، آئی ای ڈی ، خودکش جیکٹس اور دیگر سازوسامان مہیا کرتا ہے جو دہشت گردی کیلئے کام آتے ہیں۔ ٹی ٹی پی اور الطاف حسین گروپ کو بھی بھارت نے ہتھیار دئیے۔ دہشت گردوں کے تربیتی مراکز بھارت اور افغانستان میں موجود ہیں۔

تربیتی مراکز کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت الطاف حسین گروپ کو تربیت دیتا ہے، یہ بات اجمل پہاڑی نے بھی تسلیم کی۔ ڈاکٹر اللہ نذر را سے مصدقہ روابط رکھتے ہیں۔ اللہ نذر جعلی افغان پاسپورٹ کے ساتھ بھارت گئے۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف گوادر میں پرل کانٹی نینٹل حملوں میں ملوث رہے۔ را پشاور زرعی یونیورسٹی اور اے پی ایس حملے میں بھی ملوث تھی جن کی ویڈیوز بھارت سے اپ لوڈ کی گئیں۔

دشمن کی دہشت گردی بے نقاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بھارت نے دہشت گردی کی، پاکستان میں اہم شخصیات کا قتل بھی بھارتی منصوبہ بندی تھی۔ ملک فریدون بھی را سے خفیہ روابط رکھتا تھا، اے پی ایس پشاور کے بعد جشن منانے کیلئے فریدون افغانستان میں موجود بھارتی قونصلیٹ جاپہنچا۔ پی سی گوادر حملے کا ماسٹر مائنڈ انوراگ سنگھ تھا جو را کا آفیسر ہے۔

کیا بھارت ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ ہوگا؟

مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گرد تنظیموں سے بھارتی رابطوں کے خطوط پیش کیے اور بتایا کہ داعش کے دہشت گردوں کو افغانستان پہنچایا گیا۔ اجمل پہاڑی نے چیف جسٹس کے سامنے 4 بھارتی دہشت گرد کیمپس کا اعتراف کیا۔

یعنی گفتگو کے ساتھ ساتھ ثبوت اور حقائق بھی سامنے لائے گئے جو بھارت کو ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کرنے کیلئے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اہم بات یہ بھی تھی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی قونصل خانے کے ان افراد کے نام میڈیا کے سامنے رکھ دئیے جو دہشت گردی میں ملوث رہے۔
قونصل خانے کے مذکورہ افراد کے نام حاجی حبیب اللہ، عزیز اللہ اور حاجی بیدار ہیں اور میڈیا کو ڈاکٹر اللہ نذر کی وہ آڈیو ٹیپ بھی سنائی گئی جس میں را سے رابطے کا انکشاف ہوتا ہے اور پھر ایف اے ٹی ایف کا ذکر بھی آیا۔

خود ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت ایف اے ٹی ایف میں مسلسل پاکستان کے خلاف لابنگ میں مصروف ہے۔ ایسے میں بھارت کی دہشت گردی اور دہشت گردوں کو مالی معاونت بے نقاب ہوئی۔

ایسے میں بھارت ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ ہوجائے، اس کے امکانات پہلے سے کہیں بڑھ گئے ہیں، تاہم پاکستان کو اِس معاملے میں ثبوت و شواہد سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سفارت کاری اور ایف اے ٹی ایف میں کاؤنٹر لابنگ کا سہارا لینا ہوگا۔ تب کہیں جا کر ایف اے ٹی ایف میں بھارت کے بلیک لسٹ ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …