اتوار , 6 دسمبر 2020

”امن دشمن بھارت”

رواں برس بھارت پاکستان کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی 2729 بار خلاف ورزی کرچکا ہے۔جس میں21بے گناہ شہری شہید اور 206زخمی ہوئے۔بھارت کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریحاًمنافی اقدامات سے علاقائی امن و سلامتی کوشدید خطرات لاحق ہیں۔جبکہ عالمی برادری اس صورتحال پر خاموش ہے۔ایل او سی پر کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
پاکستان کی طرف سے متعدد بار بھارتی سفارتکار کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا گیا مگربھارت اپنی روش پر ہی قائم ہے۔13نومبر کو بھارتی فوج نے مختلف سیکٹرزپر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی فائرنگ سے 4بے گناہ شہری شہید،12زخمی اورایک جوان شہید ہوا۔ جوابی کاروائی میں 4بھارتی فوجی مارے گئے۔

قارئین کرام! پاک فوج کی طرف سے اشتعال انگیزی کا جواب اسی انداز میں دینے کا فیصلہ ہوا۔

پاکستان کی امن کی خواہش کو بھارت نے ہمیشہ نظرانداز کر کے اسی طرح کی اخلاقی پستی کا مظاہرہ کیا۔ سرحدپرفوج کا کام امن وامان قائم رکھنا ہے لیکن بھارتی فوج اپنے زور بازو کامظاہرہ کرنے سے گریز نہیں کرتی۔جوابی کاروائی پر بھارت نقصان اٹھانے پر کشیدگی کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔
بھارت اشتعال انگیزی کے ساتھ الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
لیکن بھارت سرحدی جھڑپوں سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ عالمی برادری کو اس صورتحال سے آگاہ کرنا پاکستانی وزارت خارجہ کی ذمہ داری ہے۔ خارجہ سطح پر بھارت کو موثر جواب دینے کی اشد ضرورت ہے۔
جس طرح پاک فوج جوابی کاروائی کرکے دشمن کی توپوں اور رائفلز کو خاموش کروادیتی ہے۔ اسی طرح خارجہ سطح پر بھی موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
عالمی برادری کے سامنے بھارت کے ہمسایہ ممالک سے اختلافات اور تنازعات کو اجاگر کرناضروری ہے۔ پاکستان ہی نہیں چین، نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا کو بھی بھارت سے شکایات ہیں۔ بھارت معاشی اور فوجی طاقت بننے کے چکر میں خود کو علاقائی تھانے دارسمجھے بیٹھا ہے۔ بھارت کے پاکستان کے ساتھ 73سال سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ امن کی تمام ترکوششیں بے ثمر ہیں۔
بھارت عالمی برادری کو ہمیشہ سے دھوکہ دیتا آرہا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ تعلقات میں کشمیر بنیادی وجہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے بہت کوششیں ہوئیں جن میں آگرہ،شملہ اورلاہورڈیکلریشن شامل ہیں۔ سرحدی کشیدگی اوردہشت گردی کے واقعات نے ان امن تعلقات کو سبوتاژ کیا۔ اب بھارت کی انتہا پسندحکومت کے برسراقتدارآنے سے تو امن کی توقع ہی نہیں رہی۔
بھارتی فوجی کاروائی کے جواب میں موثر کاروائی پر کئی بار ہزیمت اٹھا چکا ہے لیکن بھارتی سرکار نے اپنا رویہ نہیں بدلا۔ کشمیر یوں کے لہوکی ارزانی آخر کیا وجہ ہے۔۔؟ غیروں سے کیا شکوہ،مسلم ممالک بھی مسئلہ کشمیر سے لاتعلق ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے رسمی بیانات اور دوچار سربراہان سے ملاقات اور رسمی بیان، اللہ اللہ خیر صلا-مان لینا چائیے ہم کشمیر کا مقدمہ صحیح انداز میں پیش ہی نہیں کررہے۔
بھارت 73سال سے ظلم و جبر کی داستان رقم کر رہا ہے۔مگر موجودہ صورتحال شاید تاریخ کی بد ترین صورتحال ہے۔
معاملہ سرحد تک ہی محدود نہیں پاکستان میں بھارت کے انٹیلی جنس ادارے دہشت گردی میں ملوث ہیں۔دفتر خارجہ پاکستان کی پریس بریفنگ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاک فوج کے ترجمان نے مختلف دستاویزات کو یکجا کرکرواں برس بھارت پاکستان کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی 2729 بار خلاف ورزی کرچکا ہے۔جس میں21بے گناہ شہری شہید اور 206زخمی ہوئے۔بھارت کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریحاًمنافی اقدامات سے علاقائی امن و سلامتی کوشدید خطرات لاحق ہیں۔جبکہ عالمی برادری اس صورتحال پر خاموش ہے۔ایل او سی پر کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
پاکستان کی طرف سے متعدد بار بھارتی سفارتکار کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا گیا مگربھارت اپنی روش پر ہی قائم ہے۔13نومبر کو بھارتی فوج نے مختلف سیکٹرزپر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی فائرنگ سے 4بے گناہ شہری شہید،12زخمی اورایک جوان شہید ہوا۔ جوابی کاروائی میں 4بھارتی فوجی مارے گئے۔

قارئین کرام! پاک فوج کی طرف سے اشتعال انگیزی کا جواب اسی انداز میں دینے کا فیصلہ ہوا۔

پاکستان کی امن کی خواہش کو بھارت نے ہمیشہ نظرانداز کر کے اسی طرح کی اخلاقی پستی کا مظاہرہ کیا۔ سرحدپرفوج کا کام امن وامان قائم رکھنا ہے لیکن بھارتی فوج اپنے زور بازو کامظاہرہ کرنے سے گریز نہیں کرتی۔جوابی کاروائی پر بھارت نقصان اٹھانے پر کشیدگی کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔
بھارت اشتعال انگیزی کے ساتھ الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
لیکن بھارت سرحدی جھڑپوں سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ عالمی برادری کو اس صورتحال سے آگاہ کرنا پاکستانی وزارت خارجہ کی ذمہ داری ہے۔ خارجہ سطح پر بھارت کو موثر جواب دینے کی اشد ضرورت ہے۔
جس طرح پاک فوج جوابی کاروائی کرکے دشمن کی توپوں اور رائفلز کو خاموش کروادیتی ہے۔ اسی طرح خارجہ سطح پر بھی موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
عالمی برادری کے سامنے بھارت کے ہمسایہ ممالک سے اختلافات اور تنازعات کو اجاگر کرناضروری ہے۔ پاکستان ہی نہیں چین، نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا کو بھی بھارت سے شکایات ہیں۔ بھارت معاشی اور فوجی طاقت بننے کے چکر میں خود کو علاقائی تھانے دارسمجھے بیٹھا ہے۔ بھارت کے پاکستان کے ساتھ 73سال سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ امن کی تمام ترکوششیں بے ثمر ہیں۔
بھارت عالمی برادری کو ہمیشہ سے دھوکہ دیتا آرہا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ تعلقات میں کشمیر بنیادی وجہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے بہت کوششیں ہوئیں جن میں آگرہ،شملہ اورلاہورڈیکلریشن شامل ہیں۔ سرحدی کشیدگی اوردہشت گردی کے واقعات نے ان امن تعلقات کو سبوتاژ کیا۔ اب بھارت کی انتہا پسندحکومت کے برسراقتدارآنے سے تو امن کی توقع ہی نہیں رہی۔
بھارتی فوجی کاروائی کے جواب میں موثر کاروائی پر کئی بار ہزیمت اٹھا چکا ہے لیکن بھارتی سرکار نے اپنا رویہ نہیں بدلا۔ کشمیر یوں کے لہوکی ارزانی آخر کیا وجہ ہے۔۔؟ غیروں سے کیا شکوہ،مسلم ممالک بھی مسئلہ کشمیر سے لاتعلق ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے رسمی بیانات اور دوچار سربراہان سے ملاقات اور رسمی بیان، اللہ اللہ خیر صلا-مان لینا چائیے ہم کشمیر کا مقدمہ صحیح انداز میں پیش ہی نہیں کررہے۔
بھارت 73سال سے ظلم و جبر کی داستان رقم کر رہا ہے۔مگر موجودہ صورتحال شاید تاریخ کی بد ترین صورتحال ہے۔
معاملہ سرحد تک ہی محدود نہیں پاکستان میں بھارت کے انٹیلی جنس ادارے دہشت گردی میں ملوث ہیں۔دفتر خارجہ پاکستان کی پریس بریفنگ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاک فوج کے ترجمان نے مختلف دستاویزات کو یکجا کرکے بین الاقوامی فورم پر بھارت کے عزائم سامنے لانے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مزیدخاموش رہنا پاکستان کے مفاد میں نہ ہوگا اور خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی فائدہ مند نہیں
ہوگا۔
دوسری طرف صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے شہریوں کی شہادتوں پر خبردار کیا کہ بھارتی کاروائیاں نہ رکیں تو بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھارتی اشتعال انگیزی کا فی الفور نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

بھارت سمیت دنیا ایک طرف کورونا وباء سے لڑ رہی ہے۔ ایسے نازک دور میں بھی بھارت مہم جوئی کے چکر میں ہے۔ یہ صورتحال صرف خطہ کے لیے ہی نہیں عالمی امن کے لیے خطرناک بھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے بھارت کے وزیر اعظم مودی کی طرف سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ بھارت امن کا متلاشی ہی نہیں بی جے پی اجتماعی خود کشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
موثر دفاع کے بعد پاکستان کے پاس سفارتی کوششوں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔امریکہ میں صدارتی تبدیلی کے ساتھ موثرسفارتکاری سے امریکی انتظامیہ کو قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت نے پاکستان اور چین سے بیک وقت مسابقت اور کشیدگی کا فائدہ اٹھایا۔اب وقت کا تقاضا ہے پاکستان بھارت کے دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہونے کے ثبوت عالمی برداری کے سامنے رکھے۔ بھارت کا بھیانک چہرہ عیاں کرنے کے لیے ہر فورم پر موثر حکمت عملی اپنائے۔ے بین الاقوامی فورم پر بھارت کے عزائم سامنے لانے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مزیدخاموش رہنا پاکستان کے مفاد میں نہ ہوگا اور خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی فائدہ مند نہیں
ہوگا۔
دوسری طرف صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے شہریوں کی شہادتوں پر خبردار کیا کہ بھارتی کاروائیاں نہ رکیں تو بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھارتی اشتعال انگیزی کا فی الفور نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

بھارت سمیت دنیا ایک طرف کورونا وباء سے لڑ رہی ہے۔ ایسے نازک دور میں بھی بھارت مہم جوئی کے چکر میں ہے۔ یہ صورتحال صرف خطہ کے لیے ہی نہیں عالمی امن کے لیے خطرناک بھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے بھارت کے وزیر اعظم مودی کی طرف سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ بھارت امن کا متلاشی ہی نہیں بی جے پی اجتماعی خود کشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
موثر دفاع کے بعد پاکستان کے پاس سفارتی کوششوں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔امریکہ میں صدارتی تبدیلی کے ساتھ موثرسفارتکاری سے امریکی انتظامیہ کو قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت نے پاکستان اور چین سے بیک وقت مسابقت اور کشیدگی کا فائدہ اٹھایا۔اب وقت کا تقاضا ہے پاکستان بھارت کے دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہونے کے ثبوت عالمی برداری کے سامنے رکھے۔ بھارت کا بھیانک چہرہ عیاں کرنے کے لیے ہر فورم پر موثر حکمت عملی اپنائے۔

تحریر : سلمان احمد قریشی

یہ بھی دیکھیں

فرانس کو بہت جلد صدر میکرون کے شر سے نجات مل جائے گی ، ترک صدر

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امید ظاہر کی ہے کہ فرانس کے عوام …