منگل , 13 اپریل 2021

سلامتی کونسل عالمی مسائل کے حل میں ناکام ہو رہی ہے، صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر و ترک سفارتکار وولکن بوزکیر نے عالمی مسائل سے نمٹنے میں سلامتی کونسل کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسابقتی مفادات کے باعث عالمی مسائل کے حل میں ناکام ہو رہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے کئی بار اپنی ذمہ داریاں صحیح انداز میں سرانجام نہیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کے مابین مسابقتی مفادات اور ویٹو کے بار بار استعمال نے سلامتی کونسل کی افادیت کو محدود کر دیا یہاں تک کہ کئی ضروری انسانی بحرانوں کے حل میں بھی سلامتی کونسل بروقت اور مناسب جواب نہیں دے سکی۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات بہت ضروری اور چیلنجنگ ہونے کے ساتھ ساتھ ناگزیر ہو گئی ہیں ۔ سلامتی کونسل نے مزید بین الاقوامی تعاون اور جنگ زدہ ممالک میں کورونا وائرس کے خلاف مدد کے لیے سیکرٹری جنرل کے جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت بارے یکم جولائی کی قرارداد کی منظوری پر امریکہ اور چین کے اختلافات کو دور کرنے میں 3 ماہ کا عرصہ لگا دیا۔ سلامتی کونسل میں اصلاحات بہت ضروری اور چیلنجنگ ہو گئی ہیں ۔

کورونا وائرس کی وبا سے متعلق سلامتی کونسل کے چند ہی اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔ اصلاحات پر بحث کے دوران اقوام متحدہ کے 193 اراکین نے ویٹو کے حق اور سلامتی کونسل کے 5 مستقل رکن ممالک امریکہ ، چین ، روس، فرانس اور برطانیہ کےخصوصی استحقاق اور سلامتی کونسل کی توسیع اور علاقائی توازن پر بات کی ۔ واضح رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ سلامتی کونسل نے عالمی مسائل کا کوئی مفید حل نہیں نکالا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …