جمعہ , 23 اپریل 2021

یمن میں انصاراللہ کو بڑی کامیابی ، ’’الماس‘‘ فوجی اڈے پر کنٹرول حاصل

یمنی مسلح افواج و عوامی مزاحمتی فورسز نے گذشتہ 2 ہفتوں سے جاری اپنی جدوجہد کے بعد بڑی پیشقدمی کرتے ہوئے صوبہ مأرب کے اندر سعودی-اماراتی فوجی اتحاد کے آخری ٹھکانے "الماس” فوجی اڈے پر اپنا کنٹرول بحال کر لیا ہے جس کے بعد اب جدعان نامی صحراء یا صنعاء-مأرب ہائی وے کے ذریعے شہر مأرب تک انصاراللہ کی رسائی انتہائی آسانی ہو گئی ہے۔

لبنانی اخبار "الاخبار” نے اس حوالے سے نشر ہونے والی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ الماس فوجی اڈے کا سقوط بالآخر؛ شہر مأرب کے گرد و نواح میں واقع صحرائی علاقوں، "صحن الدجن” اور "تداوین” فوجی اڈوں کے با المقابل واقع علاقے "الدشوش” اور مأرب کے مغرب میں واقع سابق یمنی حکومت کی وزارت دفاع تک رسائی اور وہاں انصاراللہ کے کنٹرول کا باعث بنے گا۔

الاخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ الماس فوجی اڈے پر انصاراللہ کا کنٹرول "رغوان” نامی علاقوں کی آزادی کے ساتھ ہی وقوع پذیر ہوا ہے جبکہ جاری سال کے ماہ جون میں انصاراللہ یمن نے رغوان کے قبیلوں کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت طے پایا تھا کہ رغوان نامی شہر اور اس کے گردونواح کے علاقے جنگ سے دور رہیں گے جس کے جواب میں انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور قبیلہ "الجدعان” منصور ہادی کی صفوں سے باہر نکل جانے کے ساتھ ساتھ صنعاء کی فورسز کو پر امن طور پر علاقے کے اندر داخل ہونے دے گا۔

الاخبار نے لکھا ہے کہ یہ اقدام ریاض کی اتحادی مستعفی یمنی حکومت کو پہنچنے والا ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ قبیلہ جدعان گذشتہ 3 سالوں سے منصور ہادی کے ساتھ مل کر صنعاء کے خلاف لڑ رہا تھا اور اس مدت کے دوران الجدعان قبیلے کے 700 افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق "الماس” فوجی اڈے کے سقوط کے بعد سعودی اتحاد کی فورسز نے جدعان کے صحراء کی جانب عقب نشینی اختیار کر لی ہے جو مأرب کے مغربی حصے سے لے کر الجوف کے مشرقی حصے تک پھیلا ہوا ہے۔ دوسری طرف صوبہ الجوف میں مستعفی یمنی حکومت کی مسلح افواج کے ترجمان "ربیع القرشی” اور زون نمبر 7 کے کمانڈر "احمد حسان جبران” جیسے مستعفی یمنی حکومت کے بعض کمانڈرز نے اپنے الگ الگ بیانات میں "الماس” فوجی اڈے پر انصاراللہ کے کنٹرول کی تردید کی ہے۔ واضح رہے کہ تیل و گیس جیسی قدرتی نعمتوں سے مالامال یمن کا مرکزی صوبہ "مأرب” الاصلاح پارٹی کا گڑھ ہے جو مستعفی یمنی صدر منصور ہادی کی پیدل فوج کا ایک بڑا حصہ تشکیل دیتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …