جمعرات , 15 اپریل 2021

اسرائیلی بدمعاشیاں اور عالم اسلام کی خاموشی

عالمی برادری کی جانب سے مسلسل احتجاج کے باوجود صیہونی ریاست فلسطینیوں کے گھروں اور املاک کی مسماری جاری رکھے ہوئے ہے۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صیہونی حکام نے مقبوضہ فلسطین کے شہر الخلیل کے الراکیز ایریا میں 4 ایسے گھروں کو مسمار کیا جنہیں ویسٹ بینک پروٹیکشن کنسورشیم کے تحت بیلجیئم کے انسانیت کیلئے فنڈ سے تعمیر کیا گیا تھا۔

فلسطین پر قابض صیہونی ریاست اسرائیل کے فلسطینیوں پر انسانیت سوز مظالم کے باوجود بعض خلیجی ملالک کی جانب سے صیہونی ریاست کے ساتھ نام نہاد امن معاہدے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کی حوصلہ افزائی  ہے ۔فلسطینیوں کی زندگیاں پہلے ہی کیا کم بربریت کا سامنا کررہی تھیں جو اب فلسطینیوں کی جان کی طرح ان کے گھر بھی صہیونی دشمنوں کی انتقامی کارروائیوں سے محفوظ نہیں ۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روزقابض اسرائیلی فوج نے پانچ گھنٹوں کے دوران وادی  اردن کی میں خربہ حمصہ میں ایک پورے علاقے کو مسمار کرنے کے بعد تباہ کردیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض صہیونی فوجیوں نے گزشتہ دوپہرکو خربہ حمصہ کے علاقے پر بغیر نوٹس کے اچانک حملہ کیا اور ہیوی مشینریز کے ذریعے ہر جگہ تباہی پھیلادی ، صیہونی  بلدیہ اور صیہونی فوج کے اس مشترکہ آپریشن میں  فلسطینیوں کے کم سے کم  80 کے قریب گھر اور املاک مسمار کئے گئے جس کے نتیجے میں 41 بچوں سمیت 74 فلسطینی  شہری سخت موسم میں بے گھر ہوگئے-

فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ  نے اسرائیلی فوج پر خربہ حمصہ  کے پورے گاؤں کو مسمار کرنے کا الزام عائد  کرتے ہوئے کہا ہے کہ  اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں اندھی ہوچکی ہے ، جبکہ دوسری جانب مقبوضہ فلسطین میں صہیونی حکام بین الاقوامی قانون کو رد کر تے ہوئے مقامی فلسطینیوں کوان کے ذاتی گھروں سے بے دخل کر کے صہیونی آباد کاروں کے لیے نئی تعمیرات  کا آغاز کر دیا ہے جس کا نوٹس لیتے ہوئے یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے کہا ہے کہ یورپین یونین نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نئی تعمیرات شروع کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش ظاہر کر تے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی اس طرح کی کوئی بھی تعمیر بیت المقدس کے مشترکہ دارالحکومت کے ساتھ ایک قابل عمل فلسطینی ریاست اور اس سے بھی بڑھ کر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیارات کے مطابق دو ریاستی حل کو نا ممکن بنا دے گی۔

اس سے قبل حالیہ یورپین یونین کے 1080ممبران پارلیمنٹ نے یورپی قیادت سمیت یورپین یونین کی دیگر حکومتوں کے نام لکھے جانے والےخط کے ذریعہ اسرائیل کا فلسطینی گھروں اور املاک کی مسماری اورفلسطینی علاقوں پرمجوزہ قبضے کو مسترد کرتے ہو ئے اسے روکنے کا مطالبہ کردیا تھا اور انکا کہنا ہےکہ ہمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن کے حصول کی اس تجویز پر شدید تشویش ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …