اتوار , 6 دسمبر 2020

امریکی الیکشن اورجو بائیڈن کا مستقبل

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف کے حالیہ چوتھے دورہ پاکستان سے باہمی تعلقات کو بلندیوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

اس دورے میں ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات بڑھانے، سلامتی دو طرفہ تعاون اور ترقی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس دورے میں سفارتی، تجارتی اور سیاسی معاملات پر مفید اور با مقصد مذاکرات کیے گئے۔

ایرانی وزیر خارجہ ایران کے سینئر سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست یا اس سے جڑی عالمی سیاست میں اُن کا شمار ایران کے اہم پالیسی میکرز میں ہوتا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ خطے میں ممالک کے درمیان باہمی مذاکرات پر زور دیا ہے۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لیے امریکی کوششوں میں مددگار ہے۔ جب کہ ایران کا مفاد بھی اسی میں ہے۔ اسی لیے وہ مسلسل افغان طالبان کی حمایت کر رہا ہے۔

افغانستان میں امن آگے چل کر مشرق وسطی میں بھی استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ جس کی امید نئی امریکی انتظامیہ سے کی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں امریکا ایران جوہری معاہدے کے روح رواں بھی ڈاکٹر جواد ظریف ہی تھے یہ معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطی بلکہ عالمی امن کے لیے ناگزیر تھا۔ لیکن اسرائیلی دبائو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکل گئے۔

اس دورے میں ایرانی چاہ بہار بندرگاہ اور پاکستانی بندر گاہ، گوادر کو جنھیں سسٹر بندرگاہ بھی کہا جاتا ہے کو ایک دوسرے کا معاون بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اس دورے میں انھوں نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ کی طرح پاکستان کی حمایت کی۔ اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ نے علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے حوالے سے کیک کاٹا۔ یاد رہے کہ اقبال جو ایران میں اقبال لاہوری کے نام سے مشہور ہیں اپنے فارسی کلام کی وجہ سے ایرانی عوام میں اُن کی بڑی قدرو منزلت ہے۔ یہاں تک کہ ایرانی قوم اپنے اسلامی انقلاب کی کامیابی میں اقبال کی شاعری کو ایک اہم عنصر قرار دیتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کی حالیہ دورہ پاکستان کی ٹائمنگ بڑی قابلِ غور ہے۔ انھوں نے اُس وقت پاکستان کا دورہ کیا جب نئے امریکی صدر جو بائیڈن کو جیتے ہوئے کچھ دن ہی ہوئے تھے۔ پاکستان اور ایران اپنے اپنے حوالوں سے امریکی دبائو کا شکار ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ اور امریکی وزیر دفاع کے حالیہ دورہ بھارت کے بعد امریکی بھارتی عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ چین کا دنیا پر بڑھتا ہوا اثرو رسوخ امریکا کی عالمی بالادستی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ امریکا بھارت کے ساتھ چین کے خلاف متحدہ محاذ بنا کر خطرے میں پڑی ہوئی اپنی عالمی بالا دستی کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ لیکن عالمی بالادستی مضبوط معیشت سے مشروط ہے۔

امریکی معیشت اس وقت بحران سے دوچار ہے جب کہ کورونا وائرس کے باوجود چین کی معیشت مثبت ہے۔ بھارت خطے میں اپنا ایک بڑا کردار چاہتا ہے جس کا دائرہ کار مشرقِ وسطیٰ سے برصغیر تک محیط ہو۔ اس کردار کے حصول کے لیے نہ صرف امریکا بلکہ اسرائیل بھی مددگار ہو گا۔ لیکن ان مفادات کے حصول میں بھارت کا ایران پاکستان سے ٹکرائو ناگزیر ہے۔ جس میں بھارت کو امریکا کی حمایت حاصل ہو گی۔

ایران چاہتا ہے کہ اوباما دور میں ہونے والا امریکا ایران جوہری معاہدہ بحال ہو۔ اس کے اثرات پاکستان اور خطے کے ممالک پر کیا مرتب ہوں گے۔ اسی پر مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کو بہت بڑے معاشی سیاسی مفادات حاصل ہوں گے۔ سستی گیس اور سستا تیل ان میں اہم ترین ہے۔ اس طرح سے پاکستان کی معاشی مشکلات کا بہت حد تک خاتمہ ہو جائے گا۔

جو بائیڈن اس مہینے 20 نومبر کو 79 سال کے ہو جائیں گے۔ اس طرح وہ امریکی تاریخ کے معمر ترین صدر ٹھہریں گے۔ جب کہ 56 سالہ امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی والدہ بھارتی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھتی تھیں۔ جب کہ ان کے والد سٹینفورڈ یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ہیں۔ جوبائیڈن جب اپنی مدت صدارت پوری کریں گے تو 83 برس کے ہو جائیں گے۔ لگتا نہیں کہ وہ اس عمر رسیدگی میں دوسری مدت صدارت کے لیے لڑ سکیں گے۔ تو ہو سکتا ہے کہ کملا، بائیڈن کی جگہ صدارتی امیدوار ہوں کامیابی کی صورت میں وہ امریکی تاریخ کی پہلی کالی خاتون صدر کہلائیں گی۔ اب بھی وہ امریکا کی پہلی بلیک نائب صدر ہیں۔

امریکی الیکشن میں جیت کے باوجود بائیڈن کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ صدر ٹرمپ وائٹ ہائوس میں اگلے چار سال مزید مقیم رہنے کے لیے آئینی چور دروازے تلاش کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم پوسٹل بیلٹ ووٹ ہیں۔ جو بائیڈن کے لیے پریشانی کی بات یہ ہے کہ 9 سوئنگ اسٹیٹس میں سے 8 میں ری پبلیکن قانون ساز ادارے ہیں۔ اگر ان اسٹیٹس میں سے ایک یا اس سے زیادہ یہ کہہ دیں کہ پوسٹل بیلٹ وصول کرنے میں بدنظمی اور بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو ری پبلیکنز متنازع اسٹیٹس کو گنتی سے نکالنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔ معاملہ عدالت میں جائے گا ایسی صورت میں امریکی آئین کے مطابق ایوان کے نمایندگان صدارتی انتخاب کا فیصلہ کریں گے۔ امریکی آئین کے ماہرین کے مطابق یوں ٹرمپ آئینی طور پر دوبارہ صدر منتخب ہو سکتے ہیں۔

امریکا کے 78 فیصد ووٹر گوری نسل سے تعلق رکھتے ہیں، بیشتر نے ٹرمپ کو ووٹ دیے ہیں۔ یہ سفید فام گورے انتہائی مذہبی اور نسل پرست ہیں۔ سابق صدر اوباما کا صدر بننا ان کے لیے ایک سانحہ تھا کہ کہیں سفید فام گوری نسل کی بالادستی ختم نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے صدر ٹرمپ جیسے شخص کو منتخب کیا جو اُن جیسے ہی تعصبات رکھتا تھا۔ اس وقت امریکی عالمی بالادستی کو لاحق خطرات سے نجات ایک عالمی جنگ ہی دلا سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کو تسلیم کرنے کامسئلہ ؟

پاکستان میں کھل کر یا پھر ڈرائنگ روموں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ …