اتوار , 6 دسمبر 2020

ایران سے متعلق بائیڈن کے منصوبے

ڈونلڈ ٹرمپ ایسا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے سربراہ شہید جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ میں براہ راست ملوث ہیں۔ ان کے اس اقدام کے باعث پوری ایرانی قوم ان سے شدید متنفر ہوچکی ہے۔ جو بائیڈن اپنی الیکشن مہم کے دوران بارہا اعلان کرچکے ہیں کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپس لوٹ جانا چاہیئے۔ لہذا وہ پہلے مرحلے پر ایران سے تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف انجام پانے والے اقدامات نہ صرف جو بائیڈن کی نظر میں برے نہیں بلکہ وہ ان اقدامات کو ایران کے خلاف دباو کیلئے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کریں گے۔
امریکی حکمرانوں نے ایران کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک مرحلہ وار حکمت عملی وضع کی ہے۔ یہ حکمت عملی ایسی ہے جو ایک شخص کے جانے اور دوسرے شخص کے برسراقتدار آنے سے تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے زمانے میں پہلے نکی ہیلی ایران کو گوشہ گیر کرنے اور ایران کی تیل کی درآمدات بند کرنے کی پالیسی لائیں، جنہیں شکست اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکے بعد جان بولٹن جنگ کی دھمکی دیکر ایران کو ڈرانے کی پالیسی پر گامزن ہوئے۔ اس سلسلے میں امریکہ کی آخری حکمت عملی زیادہ سے زیادہ دباو اور وسیع اور جامع پابندیوں پر مشتمل تھی۔ یہ حکمت عملی بھی ناکامی کا شکار ہوئی اور ایران نہ صرف تسلیم نہ ہوا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کیجانب سے ایک ٹیلیفون کال کا انتظار کرتے کرتے رخصت ہوگیا۔اہمیت کا حامل نکتہ یہ ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا اصلی مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کس طرح ایران سے تعاون کرے؟ یا کس طرح ایران کے ساتھ مثبت تجارتی تعلقات استوار کرے؟ اور حتیٰ اس کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کی تکمیل ہوسکے؟ یا کس طرح مشرق وسطیٰ اور دنیا میں امن و امان قائم کرسکے؟ بلکہ امریکہ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس طرح ایران کی طاقت اور اثر و رسوخ کا مقابلہ کرکے اسے رام کرے؟ امریکہ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس طرح خطے کو ہمیشہ جنگ اور بدامنی کا شکار رکھ کر اسرائیل کی قومی سلامتی کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے؟ امریکہ کو درپیش اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ مزید مراعات حاصل کرنے کیلئے اقتصادی ہتھکنڈے کس طرح بروئے کار لا سکتا ہے۔؟

امریکی حکمرانوں نے ایران کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک مرحلہ وار حکمت عملی وضع کی ہے۔ یہ حکمت عملی ایسی ہے، جو ایک شخص کے جانے اور دوسرے شخص کے برسراقتدار آنے سے تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے زمانے میں پہلے نکی ہیلی ایران کو گوشہ گیر کرنے اور ایران کی تیل کی درآمدات بند کرنے کی پالیسی لائیں، جنہیں شکست اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد جان بولٹن جنگ کی دھمکی دے کر ایران کو ڈرانے کی پالیسی پر گامزن ہوئے۔ اس سلسلے میں امریکہ کی آخری حکمت عملی زیادہ سے زیادہ دباو اور وسیع اور جامع پابندیوں پر مشتمل تھی۔ یہ حکمت عملی بھی ناکامی کا شکار ہوئی اور ایران نہ صرف تسلیم نہ ہوا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے ایک ٹیلیفون کال کا انتظار کرتے کرتے رخصت ہوگیا۔

امریکی حکمران ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھول کر اسے مجبور کر دینے والے بین الاقوامی معاہدوں میں پھنسانے کے خواہاں ہیں۔ ان کی نظر میں ایران کو کنٹرول کرنے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے۔ لہذا وہ ایران میں بھی ایک ایسی آئندہ حکومت برسراقتدار آنے کے شدید مشتاق ہیں، جس کی پہلی ترجیح امریکہ سے مذاکرات اور سازباز پر مشتمل ہو۔ جو بائیڈن اپنی الیکشن مہم کے دوران کئے گئے وعدوں اور یورپی اتحادی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی خاطر اپنی مدت صدارت کے ابتدائی ایام میں ہی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپس لوٹ آنے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ ان کے مشیروں نے ایران سے جوہری معاہدے میں امریکہ کی مشروط واپسی کا موقف ظاہر کیا ہے۔

اگر جو بائیڈن مختصر مدت میں ایران سے ایک نیا معاہدہ کرنا چاہیں تو انہیں اس کام کیلئے کانگریس اور سینیٹ کی منظوری حاصل کرنی پڑے گی، جو ایک طویل اور وقت لینے والا عمل ہے۔ لہذا ان کے پاس پہلے سے ایران کے ساتھ موجود جوہری معاہدے میں واپسی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ایران کی موجودہ حکومت آئندہ چھ ماہ میں ختم ہونے والی ہے اور جو بائیڈن ان چھ ماہ میں ایران سے کوئی نیا معاہدہ انجام نہیں دیں گے۔ ان کی کوشش ہوگی کہ ایران کے سابق جوہری معاہدے میں ہی کچھ شقیں ردوبدل کرکے اس کی اصلاح کی جائے۔ اس بار امریکہ ایران کے خلاف کرنسی کا ہتھکنڈہ استعمال کرے گا۔ یہ کام ایران کے اندر موجود امریکہ نواز حلقوں کی جانب سے انجام پائے گا۔ لیکن ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار بھی امریکہ کو ایران کے مقابلے میں ناکامی اور شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تحریر: محمد عبد الہی

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کو تسلیم کرنے کامسئلہ ؟

پاکستان میں کھل کر یا پھر ڈرائنگ روموں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ …