پیر , 12 اپریل 2021

سعودی عرب نے 85 ہزار یمنی بچوں کو بھوکا مار دیا

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ یمن گزشتہ کئی عشروں کی بدترین بھوک مری سے دوچار ہوا ہے۔

مزید تفصیلات ک مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹینو گوتریش نے یمن کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امداد میں شدید کمی اور اس ملک کے اقتصاد کیلئے غیر ملکی حمایت کی شکست یمن کے بحران میں شدت کا باعث بنی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یمن پر جاری حملے اور عوام تک امدادی اشیاء پہنچنے میں رکاوٹ اس ملک کے بحران میں شدت آنے کی ایک اور وجہ ہے۔

گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 80 کروڑ سے زائد افراد دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں۔ 22 ممالک شدید غذائی بحران کا شکار ہیں۔ تاہم بہت سے ممالک میں نام نہاد بڑی طاقتوں اور جارح ممالک کی جانب سے تابڑ توڑ حملوں نے لاکھوں افراد کو  بھی بھوک مری سے روبرو کر دیا ہے، جس کی زندہ مثال یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت ہے۔

یمن میں بچوں کے امور کے عالمی ڈائریکٹر تیمور کیرولوس کا کہنا ہے کہ ہم بہت خوفزدہ ہیں کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک خوراک کی انتہائی کمی کے باعث 85 ہزار بچے جاں بحق ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھوک کے باعث بچوں کے اندرونی اعضاء بتدریج اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں اور بچوں کی موت ہو جاتی ہے تاہم والدین اپنے بچوں کو یوں موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …