اتوار , 6 دسمبر 2020

احتیاط کریں ورنہ آنکھیں نکال لیں گے ، چائنہ کی دھمکی

امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں اپنے ناقدین کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ چین نے ہانگ کانگ میں منتخب اراکین پارلیمان کو نا اہل قرار دینے کے لیے نئے متنازع قوانین وضع کیے ہیں۔ مغربی ممالک کے ان الزامات پر چین کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان ممالک کو چین کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا،’انھیں محتاط رہنا چاہیے ورنہ ان کی آنکھیں نکال لیں گے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وہاں پانچ یا دس ہیں۔‘

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاوٴ لیژیان نے کہا کہ ‘چین کے لوگ کسی کے لیے نہ مشکلیں کھڑی کرتے ہیں اور نا ہی انھیں کسی کا خوف ہے۔‘

ہانگ کانگ

متنازع قانون کیا ہے؟

گزشتہ ہفتے چین نے ایک قانون پاس کیا جس کے تحت ہانگ کانگ کی حکومت ان رہنماوٴں کو برخاست کر سکتی ہے جو ان کے مطابق قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

اس قانون کے پاس ہونے کے کچھ دیر بعد ہی ہانگ کانگ کی حکومت نے جمہوریت کے حامی چار رکن پارلیمان کو برخاست کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس کے بعد، اس اعلان کی مخالفت میں ہانگ کانگ میں تمام جمہوریت حامی اراکین پارلیمان نے اپنے استعفے دینے کا اعلان کیا۔

سنہ 1997 کے بعد، جب سے برطانیہ نے ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کیا ہے تب سے پہلی مرتبہ ایسی صورت حال ہے کہ پارلیمان میں کوئی حکومت مخالف آواز نہیں بچی ہے۔ پارلیمان کے چار ممبران کو برخاست کرنے کی کارروائی کو ہانگ کانگ کی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حالانکہ چین ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

برطانیہ اور امریکہ سمیت پانچ مغربی ممالک کے وزرا خارجہ نے چین سے اپیل کی ہے کہ وہ ان اراکین پارلیمان کو ان کے عہدوں پر بحال کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ہانگ کانگ کی خودمختاری اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے چین کے قانونی عزم کی خلاف ورزی ہے۔

ہانگ کانگ

انھوں نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کے عوام کو اپنے رہنما کا انتخاب کرنے کے حق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ان پانچوں ممالک کو ایک ساتھ ’فائو آئز‘ یعنی پانچ آنکھیں بھی کہا جاتا ہے، جو آپس میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

فائو آئز کو سرد جنگ کے دوران تشکیل دیا گیا تھا جس کا مقصد سوویت یونین اور اس کے حامیوں پر نظر رکھنا تھا۔

ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون پر کشیدگی

اس سے قبل ہانگ کانگ میں چین کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چین کو ڈرانے یا دبانے کی دیگر ممالک کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔

ہانگ کانگ نے ’ایک ملک دو نظام‘ کے اصول کے تحت چین کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اصول کے تحت 2047 تک یعنی 50 برسوں کے لیے ہانگ کانگ کو وہ سب حقوق اور آزادیاں حاصل ہوں گی جو فی الحال چین میں نہیں ہیں۔

ہانگ کانگ میں ایک خاص نظم کی حیثیت سے اپنا نظام قانون، مختلف سیاسی جماعتیں، اظہار رائے کی آزادی اور ہم آہنگی موجود ہوں گے۔

ہانگ کانگ

لیکن کئی برسوں سے جاری جمہوریت کے حامی اور چین مخالف احتجاجوں کے بعد جون میں چین نے قومی سلامتی کا ایک متنازع قانون نافذ کر دیا ہے۔ اس قانون کی وجہ سے ہانگ کانگ کی خود مختاری کمزور ہو گئی اور مظاہرین کو سزا دینا آسان ہو گیا ہے۔ اس کے مطابق ملک کے ساتھ بغاوت، غداری یا غیر ملکی طاقتوں کا ساتھ دینا جرم ہو گا۔

چین کا کہنا ہے کہ یہ قانون ہانگ کانگ میں استحکام لائے گا ، لیکن مغربی ممالک میں حکومتوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون آزادی اظہار رائے چھیننے اور احتجاج کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اس قانون کے نفاذ کے بعد سے متعدد جمہوری گروہ اپنی حفاظت کی فکر کے سبب ٹوٹ گئے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک صحافی کو گرفتار کر لیا گیا تھا جس نے مظاہرین پر پولیس کے تشدد کے بارے میں تفتیش کی تھی۔ صحافیوں کا الزام ہے کہ انھیں خوفزدہ کرنے کے لیے رپورٹر کے خلاف کارروائی کی گئی۔

قومی سلامتی کے اس قانون کے جواب میں برطانیہ نے ہانگ کانگ کے ان لوگوں کو شہریت دینے کی بات کہی تھی جن کے پاس برطانوی شہریت اور اوورسیز پاسپورٹ ہے۔ یعنی جو لوگ 1997 سے قبل پیدا ہوئے ہیں۔

تقریباً تین لاکھ افراد کے پاس یہ پاسپورٹ ہے اور 1997 سے قبل پیدا ہونے والے 29 لاکھ افراد یہ پاسپورٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ چین نے برطانیہ کے اس اعلان کی مذمت کی تھی اور اس سے فوری طور پر اپنی غلطی سدھارنے کو کہا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

فرانس کو بہت جلد صدر میکرون کے شر سے نجات مل جائے گی ، ترک صدر

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امید ظاہر کی ہے کہ فرانس کے عوام …