اتوار , 6 دسمبر 2020

ایرانی سفارت خانے کے احاطے میں گرنے والے راکٹ کے پیچھے امریکہ ملوث

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کابل میں راکٹ حملوں کو دہشت گردوں کی امریکی نیابت میں جنگ کا ایک نمونہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، افغانتسان کے دارالحکومت کابل میں ایرانی سفارتخانہ کے احاطہ میں راکٹ حملہ کا براہ راست ذمہ دارہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ  نے کابل میں راکٹ حملوں کو دہشت گردوں کی امریکی نیابت میں جنگ کا ایک نمونہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، افغانتسان کے دارالحکومت کابل میں ایرانی سفارتخانہ کے احاطہ میں راکٹ حملہ کا براہ راست ذمہ دارہے۔

خطیب زادہ نے کابل میں کئي راکٹوں کے حملے اور ایک راکٹ کے ایرانی سفارتخانہ میں گرنے کے بارے میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں جاری دہشت گردی کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے ہم کابل اور افغانستان میں دہشت گردانہ اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس حملے میں افغان شہریوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے پر افغان حکومت عوام اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم  دہشت گردوں کی طرف سے سول شہریوں  پر حملے اور افغان شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں۔

دہشت گردوں کے بہیمانہ حملے اسلامی ، انسانی اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کابل پر کئي راکٹ داغے گئے ہیں جن میں سے ایک راکٹ سفارتی علاقہ میں ایرانی سفارت خانہ کے احاطہ میں گرا ہے اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ ایران کے تمام سفارتکار محفوظ ہیں۔ خطیب زادہ نے کہا کہ افغانستان میں جاری دہشت گردی کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے اور امریکہ براہ راست اس حملے کا ذمہ دار ہے۔

یہ بھی دیکھیں

فرانس کو بہت جلد صدر میکرون کے شر سے نجات مل جائے گی ، ترک صدر

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امید ظاہر کی ہے کہ فرانس کے عوام …