ہفتہ , 17 اپریل 2021

سعودی عرب سرمایہ کاری سے پہلے عراق کی تین سالہ جنگ کا معاوضہ دے ، امام جمعہ نجف اشرف

حجت الاسلام و المسلمین قبانچی نے کہا کہ سعودی عرب کو عراق میں سرمایہ کاری سے پہلے عراق کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر معذرت کرتے ہوئے تین سالہ جنگ کا معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔

امام جمعہ نجف اشرف حجت الاسلام و المسلمین سید صدر الدین قپانچی نے کہا کہ سعودی عرب کو عراق میں سرمایہ کاری سے پہلے عراق کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر معذرت کرتے ہوئے تین سالہ جنگ کا معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ السماوہ سے لے کر الانبار تک عراق کے صحراؤں میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا منصوبہ حکومت اور ایوان نمائندگان کی ذمہ داری ہے ، لیکن السماوہ قبائل نے سعودی عرب کی اس پالیسی اور سعودی حکومت کی پشت پناہی میں داعش سے جنگ میں 120،000 افراد کی شہادت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔

امام جمعہ نجف اشرف نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سعودی عرب نے 5000 دہشت گرد عراق بھیجے تھے اور نہ تو معافی مانگی اور نہ ہی خیر سگالی کا مظاہرہ کیا، مزید کہا کہ  سعودی عرب کے توسط سے عراق میں ہونے والی ہلاکتوں پر اسے معافی مانگنی ہوگی ، پہلے تین سالہ جنگ اور اس ملک کو ہونے والے نقصان کی تلافی کرے پھر عراق میں سرمایہ کاری کرے۔

حجت الاسلام و المسلمین صدر الدین نے اپنی تقریر کے ایک حصے میں عراق سے اپنی افواج کو کم کرنے کے بارے میں امریکی کارروائی کو ایک مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ  ایک خاص شیڈول کے مطابق تمام امریکی فوجیوں کو لازمی طور پر عراقی سرزمین چھوڑنا چاہیے۔عراق میں امریکی موجودگی ملکی معاشی پیشرفت کو روکنے کے لئے ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …