منگل , 26 جنوری 2021

مبشر لقمان اور اسرائیل کی عظیم قوم

حالیہ دنوں اسرائیلی ٹی وی چینل آئی 24 پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ایک مشہور معروف صحافی مبشر لقمان نے اسرائیل کی قوم کو ایک عظیم قوم قرار دیا اور یہ کوشش کی کہ پاکستان اور اسرائیل کے مابین تعلقات کی راہ ہموار کی جائے بہر حال یہ ان کی اپنی ذاتی رائے تو ہو سکتی ہے لیکن پاکستان میں بسنے والے بیس کروڑ سے زائد نفوس اس بات سے بالکل متفق نہیں ہیں۔

ان بیس کروڑ لوگوں کا متفق نہ ہونا بھی دلائل اور حقائق کی روشنی میں سمجھ آتا ہے لیکن مبشر لقمان جیسے ایک صحافی کی زبان سے اسرائیل جیسی خونخوار اور غاصب ریاست کے لئے قصیدے سن کرحیرت کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوا لیکن ان سب باتوں کے باوجود یہ بھی احساس ہوا ہے کہ پاکستان میں کالی بھیڑیں کہاں کہاں اور کس لبادے میں موجود ہیں۔

مبشر لقمان نے اسرائیل کی قوم کو ایک عظیم قوم قرار دیتے ہوئے اسرائیلی نیوز چینل پر گفتگو کو جاری رکھا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قو میں کب اور کیسے عظیم ہوتی ہیں کیا ایسی قوم عظیم ہو سکتی ہے کہ جس نے دوسروں کے گھر میں ڈاکہ ڈالا ہو؟ کیا ایسی قوم عظیم ہو سکتی ہے کہ دوسروں کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہو؟ کیا ایسی قوم کو عظیم قرار دیا جا سکتا ہے کہ جس کا بچہ بچہ نسل پرستی کے بھوت پر سوار ہو کر دوسرے انسانوں کے قتل کو جائز سمجھتا ہو؟ اسرائیل میں بسنے والی صہیونی قوم کہ جو فلسطین پر غاصب ہے اس کے بارے میں اس طرح کے سیکڑوں سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، اس بات کا بھی یقین ہے کہ ان سوالات میں سے شاید مبشر لقمان اور ان جیسے دیگر افراد ایک سوال کا بھی مناسب جواب نہ دے پائیں ۔

اب بات کرتے ہیں اسی انٹرویو میں پاکستان اور اسرائیل کے مابین تعلقات سے متعلق بات ک،  جیسا کہ مبشر لقمان نے اس انٹرو یو میں یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ پاکستان اور اسرائیل باہم تعلقات قائم کر لیں اور ایک دوسرے سے ان کو سیکھنا چاہئیے تو یہاں بھی ذی شعور انسانوں کے لئے اور بالخصوص ہر اس پاکستانی کے لئے سوال پیدا ہوتے ہیں کہ جو قائداعظم محمد علی جناح کو اپنا رہنمامانتا ہے۔

مبشر لقمان نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اسرائیلی نیوز چینل کو انٹر ویو دیا اور پھر اس انٹرویو میں ایسے سوالات کو اٹھا یا کہ جن کے ذریعہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کی بحث کو جنم دیا جا سکے۔

یہ سب کچھ انہوں نے ایسے وقت میں انجام دیا کہ جب دوسری طرف غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا وزیر اعظم سرزمین مقدس حجاز پر سعودی حکمرانوں سے ملاقات کر رہا تھا،  اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ مبشر لقمان نے باقاعدہ طور پر حکومت پاکستان کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ بنتے ہوئے حکومت پاکستان کو دباؤ کا شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔

حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ حکومت پاکستان پہلے ہی امریکہ اور عرب ممالک کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے اور ا س بات کا اظہار خود وزیر اعظم پاکستان عمران خان کر چکے ہیں ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اس تمام تر دباؤکے باجود بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔

اب سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کامران خان، غریدہ فاروقی اور مبشر لقمان کی طرح دیگر افراد مسلسل پاکستان اور اسرائیل کے تعلقا ت کے بارے میں بات کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کامران خان کے ٹی وی شو میں ان کی اس سازش کو بہترین انداز سے ناکام بنایا ہے۔

مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے جو مؤقف وزیراعظم عمران خان نے اپنایا ہے وہ پاکستان کا دیرینہ مؤقف ہے جس کا عرب لیگ یا او آئی سی سے کوئی تعلق نہیں۔

ُان تمام صحافیوں اور دانشوروں کے لئے صرف یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ وہ پہلے قیام پاکستان کے مقاصد پڑھ لیں۔ اسرائیل کے حوالے سے قائد اعظم محمدعلی جناں نے 1940 میں دو قراردادیں پیش کی تھیں جس میں ایک قرار داد پاکستان تھی دوسری قرارداد فلسطین تھی، پاکستان وہ واحد غیر عرب ملک ہے جس نے اسرائیل کے خلاف دو جنگیں لڑی ہیں جس میں 1967 میں اردن کی جانب سے جبکہ دوسری 1973 میں شام کی طرف سے پاکستان تو اسرائیل کے خلاف اس حد تک گیا ہے جتنا کوئی دوسرا ملک نہیں گیا پاکستان کی فلسطین کے حوالے سے بڑی قربانیاں ہیں ہم اپنے دیرینہ مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

ان تمام عناصر سے سوال ہے کہ بتائیے جن ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے ان کو کیا فوائد حاصل ہوئے ہیں اور وہ فوائد پاکستان حاصل نہیں کر پایا مصر کی مثال ہمارے سامنے ہے اسی طرح ترکی کی صورتحال بھی ہمارے سامنے ہے۔

اب اگر متحدہ عرب امارات اور بحرین نے تسلیم کیا ہے تو وہ کون سے ایسے فوائد حاصل کر رہے ہیں کہ جو پاکستان کو حاصل نہیں ہیں ان تمام سوالات کے جواب شاید مبشر لقمان اور کامران خان سمیت غریدہ فاروقی جیسے صحافیوں کے پاس موجود نہ ہوں گے کیونکہ انہوں نے اسرائیل کو ایک ایسی عینک سے دیکھنا شروع کیا ہے شاید کسی اور کے پاس دنیا میں موجود نہیں ہے اور شاید یہ شخصیات بانیان پاکستان سے زیادہ عقل و فہم اور فراست رکھتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کی عظیم قوم عالمی استعمار اور اس کے ایجنٹوں اور بالخصوص صہیونیوں کی پاکستان کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کی خواہش کو کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے چاہے ماضی کے حکمران ہوں یا موجودہ حکمران ہوں سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی اور تعلقات کا مطلب ہے کہ حکومت کا خاتمہ اور اقتدار سے علیحدگی۔

حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نابود ہو رہاہے اور ایسے حالات میں اسرائیل کو عرب دنیا کے کمزور سہارے زیادہ دیر تک آکسیجن فراہم نہیں کر سکیں گے۔

اسرائیل ایک غاصب اور جعلی ریاست ہے جس کے ساتھ تعلقات بنانا پاکستان کے لئے کشمیر موقف سے دستبرداری پر انجام پذیر ہوگا، جو موقف پاکستان کا مقبوضہ کشمیر پر ہے وہی موقف مقبوضہ فلسطین پر ہے اگر ہم فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے قبضے کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے دونوں علاقوں کا مسئلہ ایک سا ہے ایک مشرقی وسطیٰ میں ہے تو دوسرا جنوبی ایشیا میں، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مقصد ہے کہ پاکستان کشمیر پر اپنے درینہ موقف کو بھی خیر آباد کہہ دے اور یہ ہم کر نہیں سکتے یہ ہماری قومی پالیسی ہے فلسطین ہمارے لیئے بہت مقدس ہے تو کشمیر بھی ہمارے لیئے بہت اہم ہے۔

ہمیں من حیث القوم ہر اس عنصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی جو پاکستان کی پالیسی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے مبشر لقمان جیسے انٹر ویو بیانات دیتا ہے، ہمیں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اسرائیل نامنظور موقف کی حمایت جاری رکھنا ہو گی، فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل ایک جعلی ریاست ہے۔

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی جنگی طیاروں کی لبنانی حدود میں دراندازی

غاصب صیہونی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی …