جمعرات , 22 اپریل 2021

امریکہ ہمیشہ کی طرح بین الافغان مذاکرات میں رخنہ اندازی کر رہا ہے

افغانستان کے صدر نے افغانستان کے صوبے بامیان میں شیعہ رہائشی والے علاقے پر دہشتگردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف قرار دیا۔

مزید اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی نے مظلوم افغان عوام کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ان اسلام دشمن عناصر کی ہے جو اس ملک میں جنگ کے خاتمے اور امن و امان کی برقراری کے مخالف ہیں۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ طالبان اور دیگر دہشتگرد گروہ، اس ملک میں عام شہریوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کل افغانستان کے صوبے بامیان کے مرکزی بازار کی جانب جانے والی سڑک میں نصب بم پھٹنے سے دھماکے ہوئے جن میں 17 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے جس کی وجہ سے  ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ بامیان میں ہزارہ قبیلے کی اکثریت ہے ۔

یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حکومت افغانستان اور طالبان کے درمیان بارہ ستمبر سے امن مذاکرات جاری ہیں تاہم فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

امریکہ ہمیشہ کی طرح بین الافغان مذاکرات میں رخنہ اندازی کر رہا ہے اور افغانستان میں بدامنی کے ذریعے اپنے مفادات پورے کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …