پیر , 18 جنوری 2021

پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اب کیسے کام کریں گی۔۔۔؟؟؟

ایک ایسے مرحلے پرجب پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر ترقیوں کا عمل مکمل ہو گیا ہے یعنی چھ میجر جنرلز کو لیفٹینٹ جنرلزکے عہدوں پر ترقی دے کر انہیں نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں صوبائی اور وفاقی سطح پر کام کرنے والی 26 انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے ایک نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (این آئی سی سی)بنانے کی منظوری دے دی ہے اور اس کا سربراہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل فیض حمید کو مقرر کیاگیا ہے۔ یہ وہی لیفٹینٹ جنرل فیض حمید ہیں جن کو گوجرانوالہ میں نام لے کر نواز شریف نے مخاطب کیا اور موجودہ حالات کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ آرمی چیف کی طرح ڈی جی آئی ایس آئی بھی فوج کا ایک اہم ستون ہوتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل فیض حمیداپنے راست اقدام اور پاکستان سے محبت کے لیے مشہور ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کا یہ فیصلہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے لیے ایک بڑی وارننگ ہے۔

وزیر اعظم سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ملاقات - Pakistan  - Dawn News

این آئی سی سی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ امریکاکے بعد پاکستان وہ ملک ہے جہاں دو درجن سے زائد انٹیلی جنس ایجنسیاں کام کرتی ہیں ان کے اپنے اپنے دائرہ کار ہیں۔کچھ اہم ایجنسیاں اور ان کی ذمہ داریوں کا احاطہ درج ذیل سطور میں کیا گیا ہے۔

1:انٹیلی جنس بیورو(آئی بی)

1947  میں بنائی جا نے والی یہ سول انٹیلی جنس ایجنسی براہ راست وزیر اعظم پاکستان کے ما تحت ہے۔اس کا سربراہ  ڈائریکٹر جنرل ہوتا ہے اور صدر پاکستان اس کی تقرری کی منظوری دیتا ہے۔ ڈی جی عام طور پر سول بیورو کریسی اور پولیس سے لیا جاتا ہے۔ آئی بی کا کام ملکی سیاست، سیاست دانوں کی کارگزاری اور تعلقات،مشتبہ ملکی اور غیر ملکی افراد کو دیکھنا، سنسر شپ کرنا،فرقہ وارانہ عناصر اور دہشت گردوں پر نظر رکھنا ہوتا ہے۔ اسے ماضی میں فوجی افسران کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا رہاہے۔نواز شریف کے دور میں ڈی جی آفتاب سلطان کا نام اس سلسلے میں عام لیا جاتا تھا۔ اس دور میں بھی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا نیٹ ورک بنانے کی نواز شریف نے حوصلہ افزائی نہیں کی تھی۔

2:اسپیشل برانچ 

یہ صوبائی سطح پر واحد پولیس ایجنسی ہے جوآئی جی پولیس کے ماتحت کام کرتی ہے۔ یہ صوبائی حکومت کے لیے آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتی ہے۔جو انٹیلی جنس اور کاؤنٹر انٹیلی جنس کے فرائض انجام دیتی ہے۔اس کا کام حکومتی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور پالیسیوں کو دیکھنا بھی ہے۔

3:وفاقی تحقیقاتی ادارہ(ایف آئی اے)

وزیر داخلہ کے ماتحت یہ ایجنسی شہریوں کے متعلق معلومات اکٹھی کرنے، دہشت گردی،ا سمگلنگ، جاسوسی کے علاوہ مختلف حکومتی اداروں میں ہونے والے جرائم پر نگاہ رکھتی ہے اور ان کے بارے میں تحقیقات کرتی ہے۔

4:کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی)

2015  سے مکمل طور پر کام کرنے والاسی ٹی ڈی ہر قسم کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی تحقیقات کا ذمہ دار ہے اور صوبائی حکومتوں کے ماتحت کام کرتا ہے۔تمام ممنوعہ تنظیموں، افراد،ملکی وغیر ملکی اداروں،فرقہ وارایت پھیلانے والے عناصر ان کے مقاصدپر نظر رکھنا،دہشت گردی کے نئے رحجانات کو دیکھنا اور اس سے متعلق پالیسی بنانے میں معاونت کرنا سی ٹی ڈی کا کام ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے دی گئی خصوصی فرائض کی ادائیگی بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ ڈیپارٹمنٹ میں ایک کاؤنٹر ٹیررازم فورس بھی بنائی گئی ہے جسے جدید خطوط پر ٹریننگ دے کر جدید ہتھیاروں سے لیس کیا گیا ہے۔

5:ملٹری انٹیلی جنس(ایم آئی)

یہ میجر جنرل کی سربراہی میں کام کرنے والی ایجنسی ہے جس کا ہیڈ کوارٹر زجی ایچ کیو راولپنڈی میں ہے اس میں تما آرمڈفورسز کے آفیسرز کام کرتے ہیں ان کا فوکس مجرمانہ سازشی عناصر کوڈھونڈنا، سلیپر سیلز کا خاتمہ،پاکستان کے خلاف کام کرنے والے بیرونی عناصر کی تحقیق اور فوج میں کسی ممکنہ سازشی عناصر کی بیخ کنی ہے۔

6:انٹر سروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی)

دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ جو براہ راست وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کو رپورٹ کرتی ہے۔یہ ایجنسی دنیا بھر سے ملکی مفاد میں معلومات اکٹھاکر تی اوران کا تجزیہ کرتی ہے۔1980 میں افغان جنگ میں مرکزی کردار نے اسے دنیا بھر میں مشہور کر دیا۔موجودہ دہشت گردی کی عالمی سازشوں اور ان کے توڑ میں اس ایجنسی کے کردار کی دنیا معترف ہے۔

ان کے علاوہ پاکستان رینجرز، نیول انٹیلی جنس، ایئر انٹیلی جنس، پاکستان کوسٹ گارڈز، ایئر پورٹ سیکورٹی فورس، فیڈرل سیکورٹی فورس اور بہت سی دوسری ایجنسیاں اب ڈی جی آئی ایس آئی کے ماتحت کا م کریں گی۔

اگر چہ ملک میں پہلے سے موجود نیکٹا بھی اداروں اور ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات پر حکومتی پالیسی بنانے اور نیشنل ایکشن پلان وضح کرنے کا کام کرتا ہےتاہم اس کمیٹی کا قیام کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کے ارد گرد دشمنوں کی نت نئی سازشوں کا تانابانا بنا جارہا ہے اور اپنے مکرو ہ عزائم کے لیے وہ اندرون خانہ بھی مختلف ہم مزاج افراد کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے دور میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کو جس طرح سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اب حال ہی میں ڈی جی آئی ایس آئی پر جو الزام لگائے ہیں اس سے ملک میں سیاسی انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی ہےان سازشوں کا آہنی ہاتھوں سے قلع قمع کرنا اشد ضروری ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے ماتحت تمام ایجنسیوں کی اطلاعات اورحقائق کا بہتر تجزیہ ہو سکے گا جس سے مشترکہ لائحہ عمل وضح کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی دیکھیں

داعش کا حل صرف زینیبون ہے

تحریر: سویرا بتول حالیہ دنوں میں داعش خراسان نے آڈیو پیغام میں مچھ میں کیے …