ہفتہ , 17 اپریل 2021

عراق پر پابندی کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ

متحدہ عرب امارات نے کئی عرب اور مسلم ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے جن میں عراق کا بھی نام شامل ہے۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے اس فیصلے پر عراقی پارلیمنٹ میں شدید رد عمل ظاہر کیا گیا۔

عراقی ارکان پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ حکومت اس مسئلے پر سخت کاروائی کرے اور متحدہ عرب امارات کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے اعتراض درج کرائے۔

عراقی ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو متحدہ عرب امارات کے ساتھ پوری طرح تعلقات منقطع کر لئے جائیں۔

گزشتہ بدھ کے روز متحدہ عرب امارات نے 13 ممالک کے شہریوں کو ویزا جاری کئے جانے پر پابندی لگا دی تھی جن میں زیادہ تر عرب اور مسلم ممالک ہیں۔

امارات کے اس فیصلے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عراق کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم سفارتی چینل سے اس مسئلے پر گفتگو کریں گے کیونکہ امارات نے اس بارے میں ہمیں پہلے سے اطلاع نہیں دی تھی۔

عراقی پارلیمنٹ میں خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن عامر الفائز نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ویسے تو یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے تاہم جن ممالک کے شہریوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہيں ان میں زیادہ تر وہ ممالک ہیں جنہوں نے اسرائیل سے معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور جو فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔

عامر الفائز نے کہا کہ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے ساتھ نام نہاد امن معاہدے کے موضوع سے متعلق ہے، اسی لئے ہم اپنی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو مسترد کرے کیونکہ یہ عراقیوں کی بے عزتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …