پیر , 18 جنوری 2021

کیا پاکستان اب سعودی عرب اور ایران میں مصالحت کی ذمہ داری اٹھائے گا ؟؟

ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کے فیصلوں میں فراست کو سمجھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ بے یقینی کی فضا پیدا کر دینا ان کی خاصیت ہے۔ الیکشن ہارنے پر وہ اپنے ملک اور نظام پر جس طرح کا رد عمل دیتے رہے ہیں اسی کا ایک منظر نامہ اس وقت عالمی سطح پر بھی نظر آرہا ہے۔ جاتے جاتے ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں وہ آگ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی کامیابی کی صورت میں دنیا کو اگلے کئی سال خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

امریکا کے اشارے پر متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے اور تجارتی تعلقات بھی استوار کر لیے ہیں۔ سعودی عرب نے بھی اسرائیل کے ساتھ پینگیں بڑھانے میں نہ صرف اپنے پرانے حلیفوں سے تلخی پیدا کی بلکہ ایران کے خلاف بھی نئی صف بندی کا حصہ دار بن گیا۔ سعودی عرب کی مذہبی اہمیت کی وجہ سے امہ میں ایک قدر و منزلت ہے جسے محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ فیصلوں سے داؤ پر لگا دیا ہے۔

ایران پر اسرائیل کے مبینہ حملوں میں جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو قتل کرنا۔ اسرائیل خطہ میں اپنی برتری قائم کرنے کے لیے ایران کے ائیر ڈیفنس سسٹم اور ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور یہ سب ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری 2021 تک اقتدار چھوڑنے سے پہلے کرنا چاہتا ہے تاکہ امریکی فوج کا تعاون حاصل رہے اور بعد میں جوبائیڈن کی مفاہمتی پالیسی کے ساتھ چلنا آسان ہوسکے۔

اسرائیل کے ان اقدامات سے قبل اسرائیل،سعودی عرب اور امریکی گٹھ جوڑ کی خبریں مسلسل عالمی میڈیا کی سرخیاں بن رہی تھیں لیکن کسی ملک کی طرف سے کوئی واضح پالیسی بیان نہیں آرہا تھا۔ اس دوران سعودی شاہ نے جی ٹوئنٹی کے اجلاس سے کچھ پہلے دنیا سے ایران کے اٹیمی پروگرام کو نکیل ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اب جب کہ اس تکون نے اپنے کھیل کا آغاز کر دیا ہے تو محمد بن سلمان کو مسائل کی حقیقت کا ادراک ہونے لگا ہے۔اسرائیلی اقدامات کے بعدایران کے رد عمل سے سعودی عرب کو بچانے کے لیے پاکستان کی اہمیت واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔

او آئی سی کے اجلاس میں پاکستان کے تمام نکات ماننے اور کشمیر کے حق میں سعودی عرب کا بھارت مخالف بیان پاکستان سے موجودہ حالات میں معاونت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔پاکستان اپنی طاقت،فوج اور جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے اسلامی ممالک میں مفاہمت کا کردار ادا کر سکتا ہے۔او آئی سی اجلاس سے شاہ محمود قریشی یہی پیغام لے کر آئے ہیں۔ اسلام آباد میں سول اور فوجی قیادت کے مابین ہونے والی ملاقات میں واضح طور پر یہ طے کیا گیا ہے کہ اب پاکستان کے تمام اہم فیصلے ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر کیے جائیں گے۔کسی ملک کے خلاف اپنی سر زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

قریبی ہمسایہ اور برادر مسلم ملک ہونے کی بنا پر ایران کے مفادات سے پاکستان کے مفادات جڑے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے کسی بڑی اسٹرائیک کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ اس وقت ایران اپنے جوابی وار کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے جو حوثی حملوں کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ یمن کے محاذ پر پاکستانی فوج مصالحتی کردار کے لیے پہلے سے موجود ہے۔ پاکستان اس سے قبل بھی سعودی عرب اور ایران میں مصالحت کروا چکا ہے لیکن اس بار محمد بن سلمان نے خود سازشوں کا حصہ بن کر یہ راستہ چنا ہے۔ اس تکون کا حصہ ہونے کی وجہ سے سعودی عرب اپنا اعتبار کھو بیٹھا ہے جس کا پاکستان کو افسوس ہے اس لیے پاکستان اس سے آگے کوئی ذمہ داری لینے میں دلچسپی نہیں رکھتا کیونکہ اس وقت پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر روایتی حریف دانت تیز کیے بیٹھے ہیں اور کوئی بھی ایک غلط فیصلہ ملک کی سالمیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

داعش کا حل صرف زینیبون ہے

تحریر: سویرا بتول حالیہ دنوں میں داعش خراسان نے آڈیو پیغام میں مچھ میں کیے …