منگل , 20 اپریل 2021

ایران تحمل کا مظاہرہ کرے اور کوئی کاروائی نہ کرے ، سعودی سفارتکار کا مشورہ

اقوام متحدہ میں سعودی حکومت کے ایلچی نے کہا کہ ریاض نے قاتلانہ حملے کی پالیسی کی حمایت نہیں کی، انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اپنے جوہری سائنسدان کے قتل پر جذباتی ردعمل کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔

ابلاغ نیوز کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے نمائندے، عبداللہ المعلمی نے ایک انٹرویو میں دعوی کیا ہے کہ ریاض نے قتل کی پالیسی کو قطعی قبول نہیں کیا۔انہوں نے رشیا ٹوڈے کو بتایا ، "جو بھی مسلمان سائنس دان حملے کا نشانہ بنے اس سے پوری امت مسلمہ کو نقصان پہنچے گا۔”المعلمی نے اس دھشتگردانہ کاروائی کی بالکل مذمت نہ کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور کوئی کاروائی نہ کرے۔

انہوں نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ” جذباتی ردعمل کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے، ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کے لیے خیر سگالی کا مظاہرہ کرے تاکہ اس طرح سے اپنے بچوں اور سائنس دانوں کو خطرہ میں نہ ڈالے۔”

انہوں نے شہید فخری زادے کے قتل کے جواب میں ایران کے یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافے کے منصوبے کو "غیر ذمہ دارانہ” اور مستقبل کے نتائج سے قطع نظر قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے سعودی ایلچی نے دعویٰ کیا کہ سعودی حکومت نے ہمیشہ خطے میں مفاہمت اور امن لانے کی کوشش کی ہے، لیکن دوسری طرف ایران نے تباہ کن اقدامات اور اپنے اتحادیوں کو اسلحہ اور میزائل فراہم کر کے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ابھی تک فخری زادے کے قتل پر کوئی موقف ظاہر نہیں کیا ہے تاہم ، کویت ، بحرین ، متحدہ عرب امارات ، قطر اور عمان سمیت خلیج فارس کے تمام عرب ممالک نے اپنے بیانات میں اس قتل کی باضابطہ مذمت کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …