پیر , 18 جنوری 2021

انسٹاگرام نے شہید فخری زادے کی تصویروں کو مٹا دیا

ایرانی جوہری سائنسدان شہید محسن فخری زادہ کے قتل کے بعد انسٹاگرام نے بھی فخری زادہ سے متعلق پوسٹیں اور اسٹوریاں ہٹا دیں اور سائبر سپیس میں اس شہید کا پھر سے مجازی قتل کیا۔

مزید اطلاعات کے مطابق انسٹاگرام نے اپنے تازہ ترین متعصبانہ اقدام میں جو اس سے قبل شہید قاسم سلیمانی کے قتل کے دوران کیا تھا، شہید محسن فخری زادہ سے متعلق ان پوسٹس کو حذف کردیا جن میں اس شہید کی تصویر یا نام موجود تھے؛ ایسی کارروائی جس نے سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی کے تصور پر کسی بھی چیز سے زیادہ سوالیہ نشان لگایا ہے۔

ایرانی جوہری سائنسدان شہید محسن فخری زادہ کے قتل کے بعد انسٹاگرام نے بھی فخری زادہ سے متعلق پوسٹیں اور اسٹوریاں ہٹا دیں اور سائبر سپیس میں اس شہید کا پھر سے مجازی قتل کیا۔

اس سے قبل؛ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کیساتھ ہی اس پلیٹ فارم جس کا ملکیت فیس بک ہے، نے شہید سلیمانی سے متعلق اور ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف تمام پوسٹس کو ہٹایا تھا۔

انسٹاگرام نے صارفین کی پوسٹس اور نیوز ایجنسی سے متعلق صفحات کو حذف کرنے کے علاوہ ایسے مشہور صفحوں کو حذف کردیا گیا جس میں قاسم سلیمانی شامل تھے۔

انسٹاگرام نے ایک اور اقدام میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صفحے کے ٹیگز سیکشن کو بند کر دیا؛ کیونکہ صارفین نے قاسم سلیمانی سے متعلق خطوط پر ٹرمپ کے نام کو ٹیگ کیا تھا۔

لیکن یہاں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سی این این، بی بی سی، وائس آف امریکہ اور برطانیہ، امریکہ، اور سعودی عرب سے وابستہ دیگر ذرائع ابلاغ نے اپنے پوسٹس کو بغیر کسی حذف کے شائع کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

داعش کا حل صرف زینیبون ہے

تحریر: سویرا بتول حالیہ دنوں میں داعش خراسان نے آڈیو پیغام میں مچھ میں کیے …