ہفتہ , 18 ستمبر 2021

فلسطینیوں کے لئے خاموشی کا تازیانہ

دو دن پہلے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کا عالمی دن خاموشی سے گذر گیا۔ اقوام متحدہ نے 40 برس قبل جب یہ دن منانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت اسرائیل، فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کی صرف تین فیصد سر زمین پر قابض تھا۔ آج اسرائیل، مقبوضہ غرب اردن کے 43 فیصد رقبے پر سیکڑوں غیر قانونی یہودی بستیوں کا جال بچھا چکا ہے، جہاں بچے کھچے علاقے میں آزاد خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی باتیں خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں۔

اسرائیل مقبوضہ علاقوں پر مکمل عمل دراری رکھتا ہے۔ اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کے زیر کمان بتائے جاتے ہیں۔ ایسے میں دو ریاستی حل کی بات کرنے والے یا تو فلسطین کے زمینی حقائق سے بے خبر ہیں یا کھلی آنکھوں سے سبز باغ دکھا رہے، یا پھر جھوٹ بول کر دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے دور اقتدار میں دنیا کے سامنے فلسطین کی تباہی کی داستان رقم ہو رہی ہے اور وہ کمال ڈھٹائی کے ساتھ احمقانہ انداز میں امن کی مالا جپتے نہیں تھکتے، جس پر ان کے مغربی اتحادی داد وتحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ جہاں تک فلسطینیوں کا تعلق ہے تو انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم کی خواہش ہے کہ وہ ان کے ہر فیصلے پر امنا وصدقنا کہیں اور جب اسرائیل کو انہیں کچھ رعائیتں دینے کی باری آئے تو وہ یہودیوں کی مشہور بدعہدی کی عملی تفسیر پیش کر دیں۔

اس سال عالمی یوم فلسطین کے موقع پر قضیہ فلسطین بین الاقوامی سطح پر ایک غیر اہم معاملہ بن کر رہ گیا۔ بین الاقوامی فورم کی ہدایت پر منایا جانے والا یہ دن، بغیر کسی اہم تقریب، بیان اور نوٹس کے عام دنوں کی طرح گذر گیا۔ فلسطین سے باہر بسنے والے سیاست دانوں نے اس پر بات کرنا پسند نہ کی۔ تاہم پاکستان میں اس روز سرکاری میڈیا پر چند نیوز اور ٹاک شوز میں اس دن کی اہمیت پر بات کر کے ملک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق جاری گرما گرم بحث کو بے اثر کرنے کی اپنی سی کوشش ضرور کی گئی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی یوم فلسطین منانے کا عہد کرتے وقت ادا کیے جانے والے الفاظ اور ظاہر کیے جانے والے ارادے سب کے سب ہوا میں تحلیل ہو گئے کیونکہ عالمی ادارے کی سکیورٹی کونسل میں ویٹو کے ہتھیار سے لیس امریکہ، اسرائیلی ریاست کے خلاف بلند ہونے والی ہر آواز دبانے کے لیے ہمہ وقت چوکس رہتا ہے تاکہ صہیونی ریاست فلسطینیوں کے خلاف اپنے مظالم بلا روک جاری رکھ سکے۔

 

یو این جنرل اسمبلی عملی طور پر کچھ کرنے کے قابل نہیں تاہم وہاں بہت کچھ ایسا کہا ضرور جا سکتا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے عالمی ادارے کے سربراہ اپنے پاس قوت نافذہ نہ ہونے کا شور مچا کر اپنی بقیہ ٹرم خیریت سے مکمل کرنے کی دعا ضرور کرتے ہیں۔

ماضی میں اقوام متحدہ کے ایک جنرل سیکرٹری ایسے بھی گذرے ہیں جنہوں نے قیام اسرائیل کی سالگرہ کے موقع پر صہیونی قیادت کو مبارک باد کا پیغام بھیجا اور ساتھ ہی ایک الگ سفارتی برقیے میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر سے ’یوم نکبہ‘ کی مناسبت سے اظہار ہمدردی بھی کر ڈالا۔

یاد رہے فلسطینی قیام اسرائیل کے دن کو نکبہ [بڑی تباہی] سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب ریٹائرڈ یو این جنرل سیکرٹری سے ایک بے تکلف عرب صحافی دوست نے پوچھا کہ انہوں نے ایک ہی روز اسرائیل اور فلسطینیوں کو تہنیتی اور افسوس کے ٹیلی گرام بھیج ڈالے، تو موصوف نے بتایا کہ مجھے ان دونوں واقعات کے درمیان فرق معلوم نہیں تھا!!

شاید عالمی ادارے کی سربراہی پر فائز بزرجمہروں کو معلوم نہ ہو کہ اسرائیلی تسلط میں زندگی گذارنے والے فلسطینی دوسرے درجے کے شہری شمار ہوتے ہیں۔ اسرائیلی شہریت رکھنے والے فلسطینی عربوں کی حالات مقبوضہ فلسطین میں بسنے والوں سے چنداں مختلف نہیں۔ لاکھوں فلسطینی غرب اردن کے پرانبوہ مہاجر کیمپوں اور ہمسایہ ملکوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان فلسطینیوں سے ملازمت، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ شام کے اندر خانہ جنگی میں پھنسے ہوئے مہاجر فلسطینیوں کی حالت اور مستقبل انتہائی مخدوش ہے۔

ایسے میں چند حریت پسند فلسطینیوں کی جانب سے مزاحمت کی شکل میں امید کی کرن دکھائی دیتی ہے، تاہم ان کی منزل کھوٹی کرنے کے لیے اسرائیل روز نت نئے منصوبے تیار کرتا رہتا ہے اور بہت سے مواقع پر خود فلسطینی اتھارٹی صہیونی ریاست سے سکیورٹی کوارڈی نیشن کے نام پر ان مزاحمت کاروں کو اسرائیلی جیلوں کا ایندھن بنانے میں دیر نہیں لگاتی۔ یہی مزاحمت کار فلسطینیوں کے حق وطن واپسی کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔

اسرائیل اپنے قیام سے آج تک فلسطینیوں کو ان کی آبائی سرزمین سے بے دخلی کے کئی منظم طریقے اختیار کرتا چلا آیا ہے۔ بے دخل فلسطینیوں کی وطن واپسی کا حق دراصل اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر روکنے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس حق کی ضمانت اقوام متحدہ کی قرارداد 194(III) میں دی گئی تھی۔ قرارداد کے مطابق ’بے دخل فلسطینی اگر اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن طور پر رہنا چاہیں تو انہیں واپسی کے لیے تمام سہولت اور معاوضہ دیا جائے۔ جو فلسطینی وطن واپس نہ آنا چاہیں تو انہیں بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ان کی متروکہ جائیداد کا مارکیٹ ریٹ پر معاوضہ فراہم کیا جائے۔‘

یاد رہے اسرائیل کو اقوام متحدہ کی رکنیت فلسطینیوں کی وطن واپسی کی اجازت سے مشروط کی گئی تھی۔ دنیا نے دیکھا کہ اسرائیل نے عالمی ادارے میں کیے گئے اپنے کسی بھی وعدے کا پاس نہیں کیا۔ اقوام متحدہ اسرائیل کے خلاف اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے مطلوبہ قوت نافذہ نہ ہونے کا جو رونا روتا رہتا ہے، کم از کم فلسطینیوں کو وطن واپسی کا حق دلوانے کی غرض سے یو این میں اسرائیل کی رکنیت معطل کر کے صہیونی ریاست کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل پر مجبور ضرور کر سکتا ہے۔

عالمی ادارہ اگر اپنے فیصلوں کے احترام اور ان پر عمل درآمد میں سنجیدہ ہو تو اسے اسرائیل کو فلسطین سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کرنے پر مجبور کرنا ہو گا۔ اگر وہ ایسا کرنے کی پوزیشن نہیں تو اپنی داخلی اصلاح کے لیے دوسری عالمی جنگ کے بعد یو این کی سلامتی کونسل پر قابض پانچ بڑی طاقتوں کے ساتھ نئے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ کر کے عالمی فورم میں طاقت کا توازن بہتر بنا سکتا ہے۔

فلسطینیوں کو جھوٹے وعدے اور اقوام متحدہ کے منظور شدہ بے معنی عالمی دن منا کر بہلایا نہیں جا سکتا۔ وہ ستر برسوں سے اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ اگر ایسا نہیں کر پاتا تو امسال ان کے پرچم تلے 29 نومبر کو منایا جانے والا عالمی یوم فلسطین اسرائیلی مظالم ، وحشت اور نااںصافی کے سامنے اقوام متحدہ کی شرمناک کمزوری کا برملا اعتراف ہے۔

تحریر : منصور جعفر

یہ بھی دیکھیں

کابل: شہریوں کو ہفتے میں ایک ہزار افغانی نکالنے کی اجازت، بینکوں پر رش لگ گیا

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے کنٹرول کے بعد بینکوں میں رش لگ …