اتوار , 18 اپریل 2021

شہید فخری زادہ کا قتل اسرائیل کی ایرانی استحکام کیخلاف واضح سازش تھی، چلی کے تجزیہ کار

چلی کے تجزيہ کار برائے بین الاقوامی تعلقات اور مشرق وسطی امور نے کہا ہے کہ اسرائیل واشنگٹن کی حمایت سے ایرانی دفاعی اور ایٹمی صنعت کے سائنسدان شہید محسن فخری زادہ کے قتل کے ساتھ ایران کو جنگ کے آغاز کرنے پر مجبور، اس کے استحکام پر ضربہ لگانا اور امریکی نئی حکومت کی جوہری معاہدے پر واپسی کو روکنے کے لئے کوشش کر رہا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شہید فخری زادہ کا قتل ٹرمپ کے صدارتی دوران کے آخری دنوں اور بائیڈن کی حکومت کے آغاز کے بیک وقت میں ناجائز صہیونی ریاست کی سازش تھی۔

ہدوا نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قتل تل ابیب، ریاض اور واشنگٹن کی موجودہ حکومت کے مشترکہ مقصد تھا اور یہ تین ممالک اسلامی جمہوریہ ایران میں عدم استحکام قائم کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ٹرمپ کی حکومت کی حمایت کے ساتھ ایران کو جنگ میں گھسیٹنا چاہتا ہے تاکہ اس ملک کی کمزوری کے لئے ضروری شرائط مہیا کریں اور واشنگٹن انتظامیہ کی جوہری معاہدے میں واپسی کو بھی روکا جاسکے، مگر ڈونلڈ ٹرمپ 16 صہیونی مشیروں کے گھیرے میں رہنے کے باوجود اس پروگرام کے دفاع اور ترقی کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلیوں نے ایک مایوس کن حملے میں ایٹمی سائنسدان کا قتل کیا، اس کا خیال ہے کہ اس سے ملک کی سائنسی پیشرفت متاثر ہوسکتی ہے لیکن یہ ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ان واقعات سے ایران کی علاقائی طاقت متاثر نہیں ہوتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …