جمعرات , 21 جنوری 2021

کیا ایران اسرائیل کے شہر حائفہ کو نشانہ بنائے گا ؟

ایران کے ایک اخبار کیہان جس کا ایڈیٹر آیت اللہ خامنہ ای کا سابق ایڈوائزر رہ چکا ہے، نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں  ایرانی تجزیہ نگار سعد اللہ زہری کا لکھا ایک آرٹیکل شائع کیا ہے جس میں ایرانی حکومت کو محسن فخری زادہ کے قتل کے جواب میں اسرائیلی ساحلی شہر حائفہ پر حملہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ محسن فخری زادہ نے2000 میں ایران کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی تھی۔چند دن پہلے تہران کے قریب ایران کے اٹیمی پروگرام کے اس روح رواں کو دہشت گردی کی ایک بڑی ٹارگٹڈ کارروائی میں شہید کر دیا گیا تھا۔

ایران کا دعوی ہے کہ اس کاروائی میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ سے اسرائیل امریکا اور سعودی عرب کے اہم رہنماؤں کی طرف سے ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام کو ہدف بنانے کی باتیں عالمی اخبارات کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے جانے سے پہلے اسرائیل خطے میں موجود ایرانی خطرے کا قلع قمع کرنا چاہتا تھا۔اسے خدشہ تھا کہ ایران اٹیم بم بنانے کے اتنا قریب ہے کہ جو بائیڈن کے آنے سے قبل یہ صلاحیت حاصل کر لے گا اور یوں خطے میں طاقت کا توازن اسرائیل کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

مذکورہ آرٹیکل میں کہا گیا کہ اس سال کے شروع میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر اسرائیل کو جو جواب دیا گیا تھا وہ کافی نہیں تھا۔ ایران کو امریکن فوجیوں پر کیے گئے بلاسٹک میزائل سے بڑا حملہ کرتے ہو ئے اسرائیلی شہر حائفہ کو نشانہ بنانا چاہیے تاکہ یہ بندرگاہ  اور یہاں کی انرجی تنصیبات کو تباہ کیا جا سکے۔ بڑے پیمانے پر نقصان اور اموات ہی اسرائیلی عزائم کی روک تھام کر سکتی ہیں۔ اخبار میں چھپنے والے اس آرٹیکل میں تجزیہ نگار کہتا ہے کہ اس وقت امریکا،اسرائیل اور اس کے ایجنٹ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ کسی جنگی مہم یا جنگ میں حصہ لے سکیں۔

کیہان اخبار اگرچہ ایک محدود سرکولیشن رکھنے والا اخبار ہے لیکن اس کے ایڈیٹر حسین شریعت مداری سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے تعینات کیے ہوئے ہیں۔ اسی لیے اس کا آرٹیکل دنیا بھر میں سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ایک پیغام میں محسن فخری زادہ کو ملک کا نمایاں اور ممتاز نیوکلئر و دفاعی سائنسدان قرار دیا ہے اور ذمے دارن کی سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

حائفہ بحیرہ روم پر واقع اسرائیل کا ایک ساحلی شہر ہے جو ایران اور اسکے لبنان میں موجود گروپ حزب اللہ کی پہنچ میں ہے۔ ایران نے کبھی اسرائیل کے کسی شہر پر براہ راست حملہ نہیں کیا۔ اس بار بھی وہ پراکسی وار کا سہارا لے کر ایسا قدم اٹھا سکتا ہے۔ اس شدت کا کوئی بھی رد عمل اسرائیل کو بھی جوابی کاروائی پر اکسائے گاجو کسی بڑی تباہی کا نکتہ آغاز ہو سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آیت اللہ العظمی بشیر نجفی کی حرم مطہر امام رضا(ع) پر امریکہ کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کی شدید مذمت

مرجع تقلید جہاں تشیع آیت اللہ العظمی بشیر نجفی نے حرم مطہر حضرت امام رضا …