منگل , 15 جون 2021

فرانس میں مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ جاری

فرانس میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ابلاغ نیوز نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمانِن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ شدت پسندی کی تعلیمات کے شبہ میں درجنوں مساجد اور عبادت گاہوں کی نگرانی کرے گی۔

جیرالڈ ڈرمانِن نے مقامی ریڈیو آر ٹی ایل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن 76 عبادت گاہوں کی نگرانی کی جارہی ہے اگر ان میں سے کوئی شدت پسندی کو فروغ دینے میں ملوث ہوئی تو اسے بند کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ فرانس میں مساجد کی نگرانی کا فیصلہ بھی اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کئے جانے والے ان دیگرفیصلوں کی مانند ہے جس کی رو سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ فرانس کے ایک اسکول کے ٹیچر نے آزادئ اظہار رائے کے درس کے دوران متنازعہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو میں سن 2006 میں شائع شدہ پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔ جس کے چند روز بعد ایک شخص نے اس ٹیچر کا سر قلم کردیا تھا، جسکے بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر ہی حملہ آور کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور اس معاملے کو دہشتگردانہ قرار دیا گیا تھا۔

مذکورہ واقعے کے بعد فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے ٹیچر کو ہیرو اور فرانسیسی جمہوریہ کی اقدار کا ترجمان قراردے کر اسے فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا تھا۔ جس پر عالمی سطح پر سخت رد عمل سامنے آیا اور فرانس کے صدر کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔

یہ بھی دیکھیں

کابل میں پھر دھماکے، آٹھ افراد جاں بحق، شیعہ ہزارہ نشانے پر

کابل: افغانستان کے دارالحکومت میں جمعرات کو ہونے والے دو الگ الگ بم دھماکوں میں …