منگل , 13 اپریل 2021

اسرائیلی لابی کی ”فراست“ ؟

آج عالم اسلام میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں عروج پر ہیں امریکی انتظامیہ نے کھلے عام اسرائیل کو تسلیم کروانے کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے وہ ایسا اخلاقی بنیادوں پر ہی نہیں، بلکہ دھونس دھاندلی کے ذریعے ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر سرانجام دے رہی ہے متحدہ عرب امارات، سوڈان اور بحرین کے بعد سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے امریکی وزیرخارجہ مارک پومپیو کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے اور شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات بارے خبریں گرم ہیں۔ سعودی عرب نے تردید کی ہے جبکہ اسرائیلیوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ویسے دورے کی خبر انہوں نے ہی ”لیک“ کی ہو گی۔ ”باخبر ذرائع“ اور کس کے ہو سکتے ہیں۔ بہرحال اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے باتیں ”اونچے سُروں“ میں کی جا رہی ہیں۔ پہلے اسرائیل کو عربوں کے سینے پر ایک خنجر اور ناسور کہا جاتا ہے اب اسے ایک حقیقت تسلیم کرنے کی باتیں ہیں:

مسئلہ کشمیر، تقسیم ہند کے حوالے سے تکمیل پاکستان کا ایک ایسا ایجنڈہ ہے جس کی تائید عالم اقوام نے کی ہے بھارت نے اقوام عالم کے سامنے کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت کے ذریعے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار دینے کا وعدہ کیا تھا ہم سات دہائیوں تک کشمیریوں کو ان کا یہ حق دلانے کی کاوشیں کرتے رہے تین مرتبہ پاک بھارت جنگ بھی ہوئی، ہم نے اپنا مشرقی بازو بھی کھو دیا۔ سیاچن پر بھی قبضہ برقرار نہ رکھ سکے۔ کارگل کا سانحہ بھی ہو گیا لیکن ہم کشمیریوں کے لئے کچھ نہ کر سکے، حتیٰ کہ گزشتہ سال مودی سرکار نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے بھارتی یونین میں ضم کر کے اپنے تئیں مسئلہ کشمیر حل کر دیا ہم دیکھتے ہی رہے اور دیکھ ہی رہے ہیں کشمیر کے ساتھ اس جارحانہ اور غیر منصفانہ اقدام کی سوائے مذمت کے اور کچھ نہیں کر سکے اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر پر صبر شکر کر بیٹھے ہیں۔

مسئلہ فلسطین، فلسطینی مسلمانوں کے لئے ایک وطن کے قیام سے بڑا ایشو ہے۔ بیت المقدس، ارض پاک، قبلہ اول، مسلمانوں کی دینی حمیت اور عزت کا معاملہ ہے اس کا موازنہ مسئلہ کشمیر سے کرنا کسی طور بھی درست نہیں ہے مسئلہ کشمیر ہندوستان کی تقسیم یا اس سے پہلے کا پیدا کردہ ہے یہ ایک خطے کے مکینوں یعنی کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور آزادی کا مسئلہ ہے جس میں کشمیری، بھارت اور پاکستان تین فریق ہیں۔ اقوام متحدہ اس کی ضامن ہے ہم یعنی پاکستانی نظریہ پاکستان ہی نہیں تقسیم ہند کی قراردادوں کی روشنی میں اس مسئلے کو اٹھاتے رہے ہیں حالات اب اس ڈگر پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آ رہا لیکن مسئلہ فلسطین ہمارے دین و ایمان کا حصہ ہے۔ القدس شریف پر یہودی قبضے کو کشمیر پر ہندوؤں کے قبضے کے مماثل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ریاست اسرائیل کی تشکیل قطعاً غیر منصفانہ اور غیر عادلانہ انداز میں کی گئی۔ فلسطینیوں سے ان کی زمینیں پہلے خرید کر پھر جبری قبضے کے ذریعے اسرائیل کے لئے زمین مہیا کی گئی پھر اس کا جغرافیہ متعین کیا گیا،بلکہ پہلے سے طے شدہ جغرافیے کے مطابق زمینیں حاصل کی گئیں اور پھر ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ اس زمین کے اصلی باشندے، جو یہاں جدالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے پہلے ہی بودوباش رکھتے تھے۔ بے دخل کر دیئے گئے۔ ہیکل سلیمانی کی اولین تعمیر سے پہلے ہی یہاں رہنے وبسنے والے باشندوں یعنی فلسطینیوں کو ان کی جائیداد سے الگ کر دیا گیا۔

اقوام عالم نے اسرائیل کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے فلسطینیوں کے لئے ایک وطن کے قیام کی بھی منظوری دی تھی لیکن یہودیوں نے اس وعدے کو ہنوز ایفا نہیں کیا۔ ریاست اسرائیل کا ارض پاک پر قیام صہیونی تحریک کی کاوشوں کے باعث ممکن ہوا۔ صہیونی اسرائیل کے قیام سے ایک عرصہ پہلے ہی ارض موعودپر عظیم اسرائیل کے قیام کا مکمل نقشہ بنا چکے تھے اعلان بالفور کی روشنی میں جنگ عظیم دوم کے بعد جب اسرائیل کی ناجائز تخلیق کی گئی تو اپنے قیام کے روز اول سے ہی اس کی سرحدیں طے کردہ صہیونی نقشے کے مطابق بڑھانے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں صہیونی عزائم کے مطابق گریٹر اسرائیل کی تعمیر و تکمیل اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے ہیکل سلیمانی کی تیسری دفعہ تعمیرکی طرف پیش رفت جاری ہے اس حوالے سے سٹیج تیار نظر آ رہا ہے عیسائی دنیا تو پہلے ہی یہودیوں، صہیونیو ں کے سامنے سجدہ ریز ہو چکی ہے عالم اسلام کرب و الم کی کیفیت کا شکار ہے افتراق و انتشار کا شکار ہے فکری و نظری طور پر ہی نہیں،بلکہ عملی طور پر بھی مایوسی کا شکار ہے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں، اسی کمزوری کا اظہار ہیں پاکستان میں ایک لابی ایسی ضرور موجود ہے جو مسئلہ کشمیر کو بھی پس پردہ/ پشت ڈال کر ہندوستان کے ساتھ تجارتی و ثقافتی تعلقات قائم کرنے کے حق میں ہے۔ انہیں کشمیریوں کے نہ حال پر پریشانی ہے اور نہ ہی ان کے مستقبل کی فکر۔

ایسی ہی لابی اسرائیل کو تسلیم کر کے ”اپنی حالت بہتر بنانے“ کی حامی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہودیوں کے ساتھ ہماری براہ راست دشمنی نہیں ہے،اِس لئے ہمیں انہیں تسلیم کرکے اپنی اقتصادیات کو بہتر بنا لینا چاہئے۔ یہ دلیل دو طرح سے غلط ہے اولاً ہماری یہودیوں کے ساتھ دشمنی، عربوں کی وجہ سے نہیں ہے مسئلہ فلسطین کے باعث نہیں ہے، بلکہ وہ ہمارے نظری و فکری دشمن ہیں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے لائے ہوئے دین کے دشمن ہیں۔ دوسری بات کہ ہمیں ان کے ساتھ تعلقات قائم کر کے اپنی معاشیات ٹھیک کر لینی چاہئے۔ترکی نے اول روز سے اسرائیل کو تسلیم کیا، پھر عربوں میں سب سے پہلے مصر نے اسرائیل تسلیم کیا۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود کیا مصر کی معاشیات درست ہو گئی، کیا وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگی ہیں۔ خطے میں مصر سب سے زیادہ غریب و بدحال ملک ہے بدترین آمریت مسلط ہے۔ غربت کا چلن عام ہے قرضوں کی معیشت بس لڑھکتی چلی جا رہی ہے۔ اس لئے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حامیوں کو اپنی فراست پر غور کر لینا چاہئے۔

تحریر : مصطفیٰ کمال پاشا

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …