منگل , 13 اپریل 2021

شہید محسن فخری زادہ کے قتل کی کارروائی کی مزید تفصیلات منظر عام پر

سپاہ پاسداران کے ڈپٹی کمانڈر نے ایران کے سینیر ایٹمی و دفاعی سائنسداں شہید ڈاکٹر محسن فخری زادہ کے قتل کی کارروائي کی مزید تفصیلات بیان کی ہیں۔

جنرل علی فدوی نے اتوار کو تہران میں ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن سائنسی میدان میں ہمارے دانشوروں اور مجاہدین کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا اور اسی لیے اس نے انھیں قتل کیا جن میں سے آخری شہید فخری زادہ تھے۔

انھوں نے بتایا کہ شہید فخری زادہ کے ساتھ گيارہ پاسدار تھے اور پک اپ کا جو دھماکہ کیا گيا تھا وہ مذکورہ پاسداروں کو ختم کرنے کے لیے ہی تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جائے واقعہ پر کوئی بھی انسان نہیں تھا اور جو تیرہ گولیاں چلائی گئی تھیں وہ پک اپ کے اندر موجود گن سے چلائی گئی تھیں جبکہ باقی گولیاں، شہید کے محافظین نے چلائی تھیں۔

سپاہ پاسداران کے ڈپٹی کمانڈر علی فدوی نے بتایا کہ پک اپ کے اندر جو گن تھی، وہ سیٹلائٹ سے متصل ایک اسمارٹ سسٹم سے لیس تھی اور اسے شہید فخری زادہ پر ٹارگٹ کر کے رکھا گیا تھا اور اسے آرٹیفیشیل انٹیلی جنس کی مدد بھی حاصل تھی۔ انھوں نے بتایا کہ محافظوں کی ٹیم کے سربراہ کو بھی جو گولی لگی وہ اس وجہ سے تھی کہ اس نے اپنے آپ کو شہید کے اوپر گرا دیا تھا۔ جنرل فدوی نے بتایا کہ شہید فخری زادہ کی شہادت ان کی کمر پر لگنے والی گولی سے ہوئی جس کی وجہ سے ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …