جمعرات , 22 اپریل 2021

ترکی قبرص تناز‏عہ ، عرب ممالک کی ترک مخالف محاذ میں شمولیت

عرب ملکوں نے یورپی ممالک کے ساتھ مل کر بحیرۂ روم میں فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

مزید اطلاعات کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب یورپی یونین ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کئے جانے کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے بعض عرب ملکوں نے یورپی ممالک کے ساتھ مل کر بحیرۂ روم میں پانچ روزہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ پیر کے روز سے شروع ہونے والی فوجی مشقیں جمعہ تک جاری رہیں گی۔ اُدھر قبرص کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ حالیہ فوجی مشقیں خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔

تربیتی مشقوں میں قبرص، فرانس، یونان، سعودی عرب، مصر اور متحدہ امارات شریک ہیں۔ ان مشقوں میں فضائیہ اور بحریہ کے دستوں کو شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد شریک ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون اور عسکری صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔

قبل ازیں قبرصی وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی تھی کہ ترکی مشرقی بحیرہ روم میں اپنے طرزعمل کو درست کرے گا اور بات چیت کے ذریعے مطالبات کا جواب دے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کے ساتھ بحیرۂ روم کے معاملے پر جاری تنازعے میں عرب ممالک بھی ترکی کے فریق بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال مشقوں کے دوران مغربی طاقتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر انقرہ کو دشمنی کا واضح پیغام دینا ہے۔

ادھر قبرصی ایوان نمایندگان کے اسپیکر ادموس ادو نے تُرک صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے شمالی قبرص کے شہر فاروشا کے دورے کی شدید مذمت کی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے عہدے دار جوزف بوریل نے الزام عائد کیا کہ قبرص سے متعلق ترکی کے بیانات سے یورپی ممالک کے ساتھ تناؤ بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب ترکی کا تحقیقاتی جہاز بحیرہ روم میں کارروائی مکمل کرنے کے بعدانتالیہ پورٹ پر واپس آ گیا ۔ وزارت توانائی کے اعلان کے مطاق تحقیقاتی جہاز نے 10 اگست کو بحیرہ روم میں آپریشن شروع کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …