بدھ , 21 اپریل 2021

عالمی اداروں کے دہرے معیارات اور مغرب کی دوغلی پالیسی کے نتیجے میں بے گھروں کی تعداد میں اضافہ

عالمی اداروں کے دوہرے معیارات اور مغرب کی دوغلی پالیسیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے دوران سیز فائر اور صبر و تحمل کے مظاہرے کی اپیل کے باوجود ظلم اور تشدد کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ریکارڈ سطح کو پہنچ چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینان کے مطابق 2019 کے اختتام تک تین کروڑ پناہ گزینوں سمیت سات کروڑ 95 لاکھ افراد بے گھر یا متاثر تھے۔

ابتدائی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2020 کے دوران مزید افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جس کے بعد یہ تعداد بڑھ کر آٹھ کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق 2020 کے ابتدائی چھ ماہ میں شام، کانگو، موزمبیق، صومالیہ اور یمن میں تشدد کے باعث مزید افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق کورونا کی وبا کے دور میں تشدد میں کمی کے بجائے ’انسانی زندگی کا ہر گوشہ متاثر ہوا اور زبردستی بے گھر کیے گئے افراد کے لیے پہلے سے موجود مسائل مزید گمبھیر ہوئے ہیں۔

غیر جانبدار مبصرین اور آزاد سیاسی و صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں کے دوہرے معیارات اور مغرب کی دوغلی پالیسیوں کے نتیجے میں مہاجرت پر مجبور ہونے والوں اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …