اتوار , 18 اپریل 2021

غیر قانونی پابندیاں لگانا دہشتگردی ہے ، یمنی حکام

یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے چیئرمین نے تاکید کی ہے کہ یمنی حکام کے خلاف امریکہ کی خودسرانہ عائد کردہ پابندیاں غیر قانونی، یمن کے خلاف جارحیت اور قابل مذمت ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے جمعرات کے روز یمن کی نیشنل سالویشن حکومت کے بعض اعلی عہدیداروں کے خلاف پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کے اس غیر قانونی اور جارحانہ اقدام پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یمن کی اعلی انقلاتی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے ان پابندیوں کو امریکی دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے امریکہ کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں کے خلاف امریکہ کی خود سرانہ پابندیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ امریکہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی نظام کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔

علی الحوثی نے کہا کہ عالمی سطح پر ایسا کوئی قانون نہیں پایا جاتا کہ جس کے تحت امریکہ کسی کے بھی خلاف اس طرح سے پابندیاں عائد کر سکے۔ یمنی حکام کے خلاف امریکہ نے ایسی حالت میں پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن، یمن کے خلاف وحشیانہ ترین جارحیت میں سعودی اتحاد کی بھرپور مدد و حمایت کرتا آیا ہے۔

دوسری جانب جنوبی یمن کے ایک مقامی عہدیدار نے یمنی سواحل پر امریکہ اور برطانیہ کی سامراجی سازشوں پر سخت خبردار کیا ہے۔ فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صوبے لحج کے گورنر احمد حمود جریب نے کہا ہے کہ مشرقی یمن کے سواحل پر امریکہ اور برطانیہ کی بحری سرگرمیوں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یمن کو جارحیت کا نشانہ بنانے اور اس جارحیت کی حمایت کرنے والے سامراجی ممالک جنوبی یمن میں سازشیں رچنے میں مصروف ہیں۔

انھوں نے جنوبی یمن کے سواحل پر اغیار کی سرگرمیوں کو کھلی بین الاقوامی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن کی مستعفی حکومت کے سربراہ منصور ہادی نے جنوبی یمن کے صوبوں میں غاصب ملکوں کو مکمل طور پر راستہ فراہم کیا ہے تاکہ وہ جنوبی یمن میں فوجی مداخلت اور اپنے سامراجی منصوبوں پر عمل کر سکیں۔

لحج کے گورنر نے کہا کہ ان سامراجی سازشوں اور منصوبوں کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے جنوبی یمن کے تمام حریت پسندوں سے اپیل کی ہے کہ ان سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے غاصب و قابض فوجیوں کو وہاں سے نکال باہر کریں۔

یاد رہے کہ امریکی حکومت کے چہیتے سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر 2015 میں اسلامی ملک یمن کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا جو روزانہ کی بنیادوں پر تاحال جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں کی تعداد یمنی عام شہری شہید و زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں تاہم یمنی عوام کی دلیرانہ استقامت و پامردی کے باعث سعودی عرب کو چھے برس گزر جانے کے بعد بھی اپنے پیش نظر مقاصد میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …