منگل , 26 جنوری 2021

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی لہر، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

حالیہ دنوں میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق جو بحث چھڑی ہوئی ہے، اس کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دوٹوک الفاظ میں اس عزم کا اظہار ہے کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

گذشتہ دنوں سے وطن عزیز میں اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے کی بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے، ملک میں ہر تھوڑے عرصے کے بعد یہ مسئلہ سر اٹھاتا رہتا ہے کہ پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے چاہیئں یا نہیں؟ خاص طور پر موجودہ حالات میں کہ جب اسلامی دنیا کے اہم ممالک متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرکے سفارتی تعلقات استوار کرچکے اور تعلقات کی پینگیں بڑھانے میں مصروف ہیں۔ ادھر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بھی اپنے ملک میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو خوش آمدید کہہ چکے ہیں۔ گذشتہ روز خبر آئی ہے کہ ترکی بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرچکا ہے۔ پاکستان میں بھی چند اسرائیل نواز عناصر کی جانب سے یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ اب پاکستان کو بھی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کر لینا چاہیئے۔ ان عناصر کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی ذاتی نوعیت کے اختلافات نہیں ہیں اور نہ ہی کسی قسم کے سرحدی تنازعات ہیں تو پھر ہم بلاوجہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سے کیوں انکاری ہیں۔؟

پاکستان نے اب تک عرب ممالک کی حمایت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اب جبکہ اہم ترین عرب ممالک ہی اسرائیل کو تسلیم کرکے سفارتی تعلقات استوار کر رہے ہیں، پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیئے۔ جہاں تک پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے تو اپنے قیام کے وقت سے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ اہم اصول رہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کئے جائیں گے، پاکستان شروع دن سے ہی اقوام عالم کے ساتھ پرامن دوستانہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ازلی دشمن بھارت کی جانب بھی ہمیشہ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستانی حکومتوں نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے متعلق سخت مؤقف اپنایا ہے؟ وجہ بہت اہم ہے، جس پر پاکستان کے تمام سیاسی مذہبی اور عوامی حلقے متفق ہیں۔

پاکستان کی غالب اکثریت اسرائیلی ریاست کو ایک غاصب ریاست سمجھتی ہے، جس نے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے ان کی زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ اسرائیل نواز عناصر پاکستان کے خلاف یہ پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ پاکستان صرف یہود دشمنی میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہ دلیل ایک الزام سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ دنیا کی تمام ریاستیں کسی نہ کسی مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت رکھتی ہیں۔ اگر مذہبی بنیاد پر ہی سفارتی تعلقات استوار کئے جاتے تو شاید پاکستان کسی بھی غیر اسلامی ریاست کو تسلیم نہ کرتا۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی واحد وجہ یہی ہے کہ پاکستان اسے ایک غاصب ریاست تصور کرتا ہے۔ اسرائیل کو غاصب سمجھنے کا معاملہ قیام پاکستان کے بعد کا نہیں ہے بلکہ ہمارے اکابرین اور قائدین شروع دن سے ہی اسرائیل کو ایک غاصب ریاست سمجھتے تھے۔ بہت کم پاکستانیوں کے علم میں یہ بات ہے کہ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور جس میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی، اسی اجلاس میں فلسطین کی آزادی کے بارے میں بھی ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔

اسرائیلی ریاست کا قیام اعلان بالفور 1917ء کے تحت عمل میں لایا گیا تھا۔ جن دنوں اسرائیلی ریاست کے قیام کی تحریک چل رہی تھی، انہی دنوں متحدہ ہندوستان میں قیام پاکستان کی تحریک زوروں پر تھی۔ انہی دنوں جب قائداعظم محمد علی جناح برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی تحریک چلا رہے تھے اور ایک عالمی راہنماء کے طور پر سامنے آچکے تھے، وہ اپنے جلسوں اور تقاریر میں اکثر فلسطینی مسلمانوں کی کھل کر حمایت کرتے تھے۔ قائداعظم اسرائیل کے قیام کے سخت مخالف تھے اور فلسطینی مسلمانوں کو مظلوم سمجھتے تھے۔ اسرائیلی ریاست کے قیام کی تحریک کے خلاف آل انڈیا مسلم لیگ کے لکھنؤ اجلاس منعقدہ 15 اکتوبر 1937ء کی صدارتی تقریر میں انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطین کے مسئلے نے بھارت کے تمام مسلمانوں کو بری طرح دکھ پہنچایا ہے۔ مسلم لیگ کی جانب سے 16 اگست 1938ء کو پورے متحدہ ہندوستان میں یوم فلسطین منایا گیا، جس میں عرب مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کے لئے سیکڑوں کی تعداد میں مظاہرے اور جلسے کئے گئے۔

جس دور میں فلسطین کی تقسیم کا فیصلہ ہوا، اسی دور میں لاہور میں ایک احتجاجی مظاہرے کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں مفکر پاکستان علامہ اقبال نے بھی شرکت کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے واضع الفاظ میں مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔ بات صرف مظاہرے اور جلسے جلوس تک محدود نہیں تھی بلکہ قائداعظم نے فلسطین کے مسلمانوں کے لئے فنڈز جمع کرنے کی مہم بھی شروع کی اور ان کے رہنماؤں کو مسلمانان ہند کی طرف سے علامتی طور پر پانچ سو اسٹرلنگ پونڈ کا ایک بینک ڈرافٹ روانہ کیا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد اکتوبر 1947ء میں قائداعظم نے ایک مرتبہ پھر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ فلسطین سے ایک عظیم خطرہ اور ناقابل تلافی تنازعہ کھڑا ہو جائے گا۔ اس کے فوراً بعد ہی پاکستان نے اقوام متحدہ میں پالیسی بیان دیا تھا کہ اس مقدس سرزمین کو صلیب پر لٹکایا جا رہا ہے۔ آگے چل کر پاکستان کی ہر حکومت نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کے متعلق اپنے دوٹوک اور واضح موقف کا اعادہ کیا، جو پاکستانی عوام کے دلی جذبات کی عکاسی کرتا رہا۔

فروری 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل اور فلسطین کے رہنماء یاسر عرفات سمیت اس وقت کی اسلامی دنیا کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ ان رہنماؤں کی موجودگی میں اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی تقریر میں اسرائیل کی مخالفت اور فلسطینیوں کی حمایت میں پُرجوش دلائل پیش کئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی تقریر میں واضح طور پر کہا کہ بحیثیت مسلمان ہم دنیا کی کسی بھی قوم سے دشمنی نہیں رکھتے۔ بحیثیت یہودی ہمیں ان سے کوئی پُرخاش نہیں ہے، لیکن بحیثیت صیہونی ہم ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے منکر ہیں۔ اپنی تقریر میں بھٹو صاحب نے یہودی قوم پر ہونے والے گذشتہ صدیوں کے مظالم اور خاص طور پر نازی ازم کے دور میں ہونے والے مظالم، جنہیں تاریخ میں ہولوکاسٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کی سخت مذمت کی اور اسے تاریخ کا سیاہ باب قرار دیا۔

ان تاریخی حقائق کو مدنظر رکھیں تو یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے قائدین نے شروع دن سے ہی اسرائیلی ریاست کے قیام کو ناجائز سمجھا ہے اور فلسطینی مسلمانوں کی حمایت صرف اس بنیاد پر کی ہے کہ انہیں ان کے حق سے ناجائز طور پر محروم رکھا گیا ہے۔ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہمیشہ قبلہ اول اور فلسطین کی آزادی سے مشروط رکھا ہے۔ جو عناصر اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں ہیں، وہ یہ جواز پیش کر رہے ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ عربوں کی حمایت میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ لہٰذا اب جبکہ عرب ممالک ہی اسے تسلیم کرنے جا رہے ہیں تو پاکستان کو بھی اس کے متعلق سوچنا چاہیئے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستان کی حمایت فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ پاکستانی مسلمانوں کے دل اپنے قبلہ اول کی آزادی کے لئے دھڑکتے ہیں۔ جب مظلوم فلسطینی اپنے ملک پر اسرائیلی قبضے کو قبول نہیں کرتے تو پاکستان اسے کیسے قبول کرسکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق جو بحث چھڑی ہوئی ہے، اس کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دوٹوک الفاظ میں اس عزم کا اظہار ہے کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ تاہم بعض حلقوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ حکومت خطے کے تبدیل ہوتے حالات کے تناظر میں اہم اسلامی ممالک کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن ہوچکی ہے۔ لگتا ہے کہ حالیہ بحث چھیڑنے کا مقصد یہ ہے کہ عوامی ردعمل کا اندازہ لگایا جاسکے، تاکہ بعد کے حالات کا مقابلہ کرنے اور عوامی ردعمل کو قابو کرنے کی منصوبہ بندی کی جاسکے۔ اب یہ خدشات کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ہماری ملکی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہمارے حکمران سختی سے جو کام نہ کرنے کا مؤقف اپنایا ہے، وہ کام ضرور کیا ہے۔ ماضی قریب میں ہی دیکھیں تو حساس نوعیت کے بعض قومی معاملات پر شدید عوامی ردعمل متوقع ہونے کے باوجود حکومتوں نے ایسے فیصلے کئے ہیں، جن سے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور لوگ خون کے گھونٹ پینے کے سوا کچھ نہ کرسکے۔

مثال کے طور پر ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں پورے ملک کا یہی مطالبہ تھا کہ اسے کسی صورت رہا نہ کیا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس وقت کی حکومت عوام کو یقین دلاتی رہی کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ پھر کیا ہوا۔ جس طرح دن دہاڑے اسے جیل سے نکال کر سیدھا ہوائی جہاز تک پہنچایا گیا، وہ منظر ابھی تک پاکستانی عوام کے دل و دماغ میں محفوظ ہے۔ عوام سوائے پیچ و تاب کھانے اور ہاتھ ملنے کے کچھ نہ کرسکے۔ اسی طرح آسیہ بی بی کے معاملے میں ہوا۔ حکومت عوام کو یقین دلاتی رہی کہ انہیں رہا کرکے ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔ پھر کیا ہوا؟ بین الاقوامی میڈیا نے خبر دی کہ آسیہ بی بی کو رہا کرکے ملک سے بحفاظت نکال دیا گیا ہے۔ حکومت تردید کرتی رہی کہ وہ ملک میں ہی موجود ہیں۔ آخرکار تصدیق ہوگئی کہ وہ ملک سے جاچکی ہیں، عوام اس کے علاوہ کچھ نہ کرسکے کہ سب نے بی بی سی کو دیا گیا ان کا انٹرویو انٹرنیٹ پر دیکھا۔

بہرحال مندرجہ بالا تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستانی عوام کسی بھی دور میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں رہے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی قبلہ اول سے جذباتی وابستگی اور اپنے مسلمان فلسطینی بھائی بہنوں سے دلی لگاؤ ہے۔ پاکستان اسرائیل تعلقات کی بحث کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب جلد ہی سعودی عرب اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے کوئی پیشرفت ضرور ہونے والی ہے۔ بنجمن نیتن یاہو اور محمد بن سلمان کے مابین ہونے والی حالیہ مبینہ خفیہ ملاقات اس کی جانب ایک قدم ہے۔ کچھ ذرائع اس ملاقات کو محض افواہ قرار دے رہے ہیں، لیکن مثل مشہور ہے کہ دھواں وہیں سے اٹھتا ہے، جہاں آگ ہوتی ہے۔ اب کی بار فلسطین کی جلتی سرزمین پر تیل کون ڈالتا ہے، اس جانب دنیا بھر کی نگاہیں لگی ہیں۔ فی الحال پاکستان کی جانب سے اسرائیل نامنظور۔

تحریر ایم رضا

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی جنگی طیاروں کی لبنانی حدود میں دراندازی

غاصب صیہونی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی …