منگل , 26 جنوری 2021

مفادات کا تضاد، خلیجی ریاستوں کے تعلقات میں اہم رکاوٹ

سعودی حکمران مستقبل میں ایران کے خلاف عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور اس کے نتیجے میں ایران کی اقتصادی ترقی سے شدید پریشان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی میں نظر ثانی کر کے بنیادی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اس بابت نہ صرف قطر بلکہ ترکی کے ساتھ بھی اپنے کشیدہ تعلقات میں بحالی لانا چاہتے ہیں۔

کویت کے وزیر خارجہ نے 4 دسمبر 2020ء کے دن ایک بیانیہ جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ چار خلیجی ریاستیں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر قطر سے قریب ہو رہی ہیں اور عنقریب ان کے درمیان موجود تعلقات کا بحران حل ہونے والا ہے۔ لیکن سیاسی حلقے اور عرب میڈیا ان کی اس رائے کو حقیقت سے دور اور خوش بینی پر مبنی قرار دے رہا ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قطر اور چار عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کم کرنے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن یہ دعوی مکمل طور پر غلط اور حقیقت سے دور ہے۔ قطر اور چار خلیجی ریاستوں میں تعلقات کا بحران حل کرنے کیلئے جتنی کوششیں بھی انجام پائی ہیں وہ کویت کی جانب سے ہیں۔

گذشتہ چند برس کے دوران امریکہ اور جیرڈ کشنر نے نہ صرف قطر اور بعض عرب ممالک کے درمیان موجود بحران حل کرنے کی کوئی کوشش انجام نہیں دی بلکہ الٹا اختلافات کی شدت کو مزید ہوا دی ہے۔ جیسا کہ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا خلیجی ریاستوں کے درمیان پائے جانے والے موجود بحران کی پہلی چنگاری وائٹ ہاوس نے لگائی تھی۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے اختلافات کی اس آگ کو مزید ہوا دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ یہ سمجھنے کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ ٹویٹر پیغامات پر ہی ایک نظر ڈالنا کافی ہے۔ موجودہ حالات میں قطر اور چار خلیجی ریاستوں کے درمیان موجود بحران کے خاتمے کی بات کرنا بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ فی الحال دونوں فریق ان 13 شرائط کے بارے میں کسی نتیجے تک نہیں پہنچے جو اس بحران کے آغاز میں سعودی عرب نے پیش کی تھیں۔

اس وقت قطر اور چار عرب ممالک کے درمیان صرف مذاکرات کا فریم ورک طے پایا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین قطر کے بارے میں یکسان موقف بھی نہیں رکھتے۔ اسی طرح قطر بھی ان چاروں عرب ممالک کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بحران بہت زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی حکمران قطر سے تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے کے زیادہ خواہاں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں آئندہ صدر کے طور پر جو بائیڈن کے برسراقتدار آنے کی صورت میں سعودی عرب کے قطر کے ساتھ بہتر تعلقات میں مفادات پوشیدہ ہیں۔ ویب سائٹ الخلیج الجدید کے مطابق جو بائیڈن نہ صرف ریاض اور واشنگٹن کے درمیان ہنی مون کا خاتمہ کر دیں گے بلکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں بھی واپس پلٹ جائیں گے۔

سعودی حکمران مستقبل میں ایران کے خلاف عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور اس کے نتیجے میں ایران کی اقتصادی ترقی سے شدید پریشان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی میں نظر ثانی کر کے بنیادی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اس بابت نہ صرف قطر بلکہ ترکی کے ساتھ بھی اپنے کشیدہ تعلقات میں بحالی لانا چاہتے ہیں۔ لہذا ہم کچھ عرصے سے اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ سعودی حکمران ترکی سے مفاہمت کے راستے پر چل نکلے ہیں اور مختلف ذرائع ابلاغ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی خبریں دے رہے ہیں۔ یوں سعودی حکمران قطر کا محاصرہ ختم کرنے کیلئے تیار نظر آتے ہیں لیکن متحدہ عرب امارات اس کا مخالف ہے اور یہ موقف اپنائے ہوئے ہے کہ جب تک قطر 13 شرطیں پوری نہیں کرتا اس سے تعلقات بحال کرنا ممکن نہیں۔

قطر سے تعلقات کے بحران میں سعودی عرب نے جو تیرہ شرطیں پیش کی تھیں ان کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ وہ ہر گز پوری نہیں ہو سکتیں۔ قطر کے مدمقابل عرب ممالک بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کوئی بھی ملک ایسی شرائط قبول نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اس کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔ لہذا بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور مصر ان تیرہ شرطوں میں سے دو شرطوں پر اصرار کریں گے جو اخوان المسلمین سے قطع تعلق کرنے اور ایران کے ساتھ تعلقات کی سطح میں کمی لانے پر مبنی ہیں۔ یاد رہے ایران اور قطر کے درمیان گیس کے مشترکہ ذخائر بھی پائے جاتے ہیں۔ لہذا آنے والے دنوں میں متحدہ عرب امارات کویت کی جانب سے ثالثی کی کوششوں میں روڑے اٹکائے گا اور دیگر عرب ممالک کو بھی قطر سے تعلقات بحال کرنے سے روک دے گا۔

بحرین ایک ایسا ملک ہے جس کی قطر کی نظر میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہے کیونکہ منامہ زیادہ تر مسائل میں دیگر عرب ممالک اور ریاض کے تابع ہوتا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرین سعودی عرب اور قطر کے درمیان ممکنہ معاہدے میں شمولیت اختیار کر لے گا لیکن ریاض کے خلاف موقف اختیار کرنے سے گریز کرے گا اور قطر سے اپنے تعلقات زیادہ بہتر بھی نہیں بنائے گا۔ یاد رہے منامہ اور دوحہ کے درمیان سمندری حدود کے بارے میں بھی تنازعات پائے جاتے ہیں۔ قطر بھی اسی کوشش میں مصروف ہے کہ پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت حاصل کر لے اور اس کے بعد باقی عرب ممالک سے بات چیت کرے۔ البتہ کویت نے ان ممالک کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کیلئے کافی کوششیں انجام دی ہیں اور اب بھی اس کا کردار جاری ہے۔

تحریر : علی احمدی

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی جنگی طیاروں کی لبنانی حدود میں دراندازی

غاصب صیہونی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی …