اتوار , 18 اپریل 2021

پانچ ماہ کے دوران دوسری بار طالبان قیادت کی پاکستان آمد اہم

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان طالبان سیاسی کمیشن کے وفد نے بدھ کو اسلام آباد میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جب کہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بھی طالبان رہنماوں کی ملاقات متوقع ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران طالبان سیاسی کمیشن کا وفد ملا عبدالغنی برادر ہی کی سربراہی میں دوسری مرتبہ پاکستان آیا ہے۔

اسی سال اگست میں بھی طالبان کے سیاسی کمیشن کے رہنماوں نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔

اس مرتبہ طالبان سیاسی کمیشن کے وفد میں کابل حکومت کے ساتھ دوحہ میں جاری امن مذاکرات کے لیے افغان طالبان کے چیف مذاکرات کار شیخ حکیم بھی اسلام آباد آنے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔

افغان امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور ماہرین طالبان حالیہ دورے کو افغانستان میں امن کی کوششوں کے حوالے سے اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔

افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا ’اب لگتا ہے کہ مسئلہ افغانستان کے تمام فریق امن کی کوششوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے دوران رہنماوں کے کافی دورے ہوئے ہیں۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ ماضی میں کابل حکومت افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان رابطوں پر اعتراض کیا کرتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ مہینوں کے دوران طالبان سیاسی کمیشن کے وفد کا اسلام آباد آنا یقینا اہم ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان اسی سال امن معاہدے کے طے پانے کے بعد گزشتہ کئی مہینوں سے کابل انتظامیہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات جاری ہیں۔

اب تک مذاکرات بہت سست روی کا شکار رہے ہیں تاہم حال ہی میں دونوں اطراف باقاعدہ مذاکرات کے طریقہ کار پر متفق ہو گئے ہیں جس کے بعد بات چیت میں 5 جنوری تک کا وفقہ کیا گیا۔

دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) طلعت مسعود نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان میں حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور وہاں امن کی اشد ضرورت ہے۔

’ایسے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اور پاکستان بھی پڑوسی ملک میں امن کی واپسی کا خواہاں ہے کیونکہ وہاں بدامنی ہمارے فائدے میں نہیں ہے۔‘

جنرل (ر) طلعت مسعود کے خیال میں امن کی اسی ضرورت کے تحت پاکستان نے طالبان کے وفد کو بلایا ہو گا تاکہ ان پر امن مذاکرات کی کامیابی میں کردار ادا کرنے کے واسطے زور ڈالا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ بھی اس سلسلے میں پاکستان سے توقعات رکھتا ہے اور اسلام آباد کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہتا ہو گا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان گزشتہ مہینے کابل کے دورے پر گئے تھے جہاں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی کو افغانستان میں امن کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور سابق افغان وزیر اعظم انجینئر گلبدین حکمت یار بھی طالبان وفد کے پہلے دورے کے بعد سے پاکستان آچکے ہیں۔

حال ہی میں امریکہ کے افغانستان کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد بھی پاکستان آئے اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باوجوہ سے ملاقات کی۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا: پاکستان دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں موجود نہیں ہے اس لیے پاکستان کے حکومتی حکام بھی چاہتے ہوں گے کہ انہیں وہاں کے حالات کی خبر رہے۔

’شاید طالبان وفد کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ پاکستان مذاکرات کے ماحول اور پیش رفت کا حال جاننا چاہتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ افغان امن مذاکرات میں پاکستان کا اہم کردار رہا ہے اور دوحہ میں ہونے والے واقعات میں دلچسپی اور خود کو ان سے باخبر رکھنا پاکستان کے لیے قدرتی بات ہے۔

امن مذاکرات میں سست روی کا ذکر کرتے ہوئے رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ دونوں فریقین کی ترجیحات میں بہت زیادہ فرق ہے جس کے باعث کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو پا رہی۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان حکومت جنگ بندی پر زور دیتی ہے جبکہ طالبان قیادت شریعت کا نفاذ، جنگی قیدیوں کی واپسی اور آئین میں تبدیلی کی بات کرتی ہے۔

افغان طالبان سیاسی کمیشن کے وفد سے ملاقات کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے ساتھ ہونے والی دو نشستیں انتہائی سود مند رہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے قواعد و ضوابط پر اتفاق انتہائی خوش آئند ہے اور پاکستان ہمیشہ سے مذاکرات کو ہی افغانستان میں امن کا واحد راستہ قرار دیتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مستقل امن کا خواہاں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …