اتوار , 18 اپریل 2021

افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کی طویل مدت موجودگی جاری

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مارک میلی نے افغانستان کے صدر سے ملاقات میں اس ملک میں بیرونی فوجیوں کی موجودگی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔

ابلاغ نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مارک میلی نے پھر سے دعوی کیا کہ افغان فوجیوں کی ٹریننگ کے لئے اس ملک میں امریکی فوجیوں (دہشتگردوں) کی موجودگی سے طالبان کے حملوں کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔

مارک میلی نے افغانستان کی رائےعامہ کو دھوکا دینے کے لئے اس ملک میں تشدد میں کمی اور جنگ کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔ امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ نے پیشگی اطلاع کے بغیر ایسے عالم میں افغانستان کا دورہ کیا ہے کہ چند روز قبل اس ملک میں امریکی فوج کے کمانڈر نے افغانستان سے امریکی دہشتگردوں کے انخلاء کا فرمان جاری کیا تھا۔

اسکاٹ میلر نے کہا تھا کہ افغانستان میں صرف ڈھائی ہزار امریکی فوجی (دہشتگرد) ہی باقی رہ جائیں گے۔ امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مارک میلی نے ایسی حالت میں یہ جھوٹا اور اشتعال انگیز بیان دیا ہے کہ افغانستان میں بیس برسوں سے امریکی دہشتگردوں کی ناکام موجودگی کے باوجود اس ملک میں بدامنی، جنگ ، تشدد، عدم استحکام، قتل و غارت گری، اسمگلنگ اور دہشتگردی اپنے عروج پر پہونچ چکی ہے۔

قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے نام نہاد امن منصوبے کی ایک شق افغانستان سے امریکی دہشتگردوں کے انخلا سے مربوط ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …