جمعہ , 23 اپریل 2021

کسی کو بھی بولنے اور اپنی رائے ہم پر مسلط کرنے کا حق نہيں ہے۔ شام

شام نے کہا ہے کہ ایران، حزب اللہ اور فلسطین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا تعین کرنے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔

ابلاغ نیوز کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدر بشار اسد کی معاون خصوصی بثینہ شعبان نے کہا ہے کہ ایران، حزب اللہ اور فلسطین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے حوالے سے امریکہ دمشق پر اپنی رائے مسلط نہیں کر سکتا۔

المیادین ٹی وی چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں بثینہ شعبان نے ماسکو میں روسی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرت اور ایران و امریکہ کے سلسلے میں شام کے موقف کو بیان کیا۔

انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی نگرانی میں صیہونی حکومت کے ساتھ بعض عرب ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لا‏ئے جانے کے سلسلے اور سازشی عمل کے بارے میں کہا کہ امریکہ جس چيز کی پلاننگ کر رہا ہے، وہ کوئی پتھر کی لکیر نہيں ہے، اقوام عالم واشنگٹن کے منصوبوں کو خاک میں ملا سکتی ہیں۔

بثینہ شعبان نے کہا کہ امریکہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اپنی من مانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شام نہیں تھا کہ جس نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کئے بلکہ یہ امریکہ تھا کہ جس نے سرزمین شام پر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔

بثینہ شعبان نے شام کے امور میں امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز جیفری کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جیفری کا بیان ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، ہم شام کے اقتدار اعلی اور اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ خیال رہے کہ جیفری نے نومنتخب امریکی صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شام اور ترکی کے تعلق سے ٹرمپ کی پالیسیوں کو ہی جاری رکھیں

شام کے صدر کی معاون خصوصی بثینہ شعبان نے اپنے اس انٹرویو میں ایران، حزب اللہ اور فلسطین کے ساتھ دمشق کے تعلقات کے حوالے سے بھی بات کی اور دو ٹوک لفظوں میں کہا ہمارے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں کسی کو بھی بولنے اور اپنی رائے ہم پر مسلط کرنے کا حق نہيں ہے۔

انہوں بائڈن کی آئندہ حکومت کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکہ کی نئی حکومت کی پالیسی کیا ہوتی ہے، تاہم ہمارے لئے جو چيز‍ اہمیت رکھتی ہے وہ سرزمین شام سے امریکیوں کا مکمل انخلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اچھے اور بہتر مستقبل کے لئے عرب اقوام میں اب بھی عزم و ارادہ موجود ہے اور مغرب جو عزائم رکھتا ہے اس کا کوئی حتمی نتیجہ نہيں نکلے گا۔ بثینہ شعبان نے کہا کہ فلسطینی کاز کی پابندی اور تمام مقبوضہ علاقوں کی واپسی کے سوا اور کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …