منگل , 13 اپریل 2021

دنیا کی ایک چوتھائی آبادی تک ویکسین 2022 تک ہی پہنچ پائے گی، تحقیق

دنیا کی ایک چوتھائی آبادی تک ویکسین 2022 تک ہی پہنچ پائے گی۔

ابلاغ نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک نئی تحقیق کے مطابق بہترین حالات میں بھی ابھی دنیا کی پوری آبادی کو کورونا ویکسین دینے کے لیے صنعتی استعداد موجود نہیں ہے۔

دنیا کے امیر ممالک نے ان ویکسینز کے تجربات کے نتائج سے بھی پہلے ان کے حصول کے معاہدے کر لیے تھے۔جب کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ویکسین حاصل کرنے والی ایک پارٹنرشپ ویکسین کے حصول کے لیے ابھی تک کچھ ہی حصہ حاصل کرنے کا معاہدہ کر سکی ہے۔

غیر سرکاری تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی سینئر ویکسینز پالیسی ایڈوائزر کیٹ الڈر نے کہا ہے کہ دنیا کے غریب ترین علاقوں کی حکومتیں اس وقت کے فرق کے بارے میں پریشان ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کو ویکسین کی ترسیل اور ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی ترسیل کے دوران لگے گا۔

تحقیق کے مطابق ویکسینز بنانے والی 13 کمپنیوں سے مختلف ممالک نے 75 لاکھ کے قریب خوراکیں فراہم کرنے کے معاہدے کئے ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ امیر ممالک کو جائیں گی۔کینیڈا نے اتنی بڑی تعداد میں ویکسین کی خوراکیں حاصل کرنے کے معاہدے کئے ہیں اس کی پوری آبادی کو پانچ مرتبہ ویکسین دی جا سکتی ہے۔

امریکہ نے اتنی خوراکوں کے آرڈر دیئے ہیں جن سے اس کی آبادی کو ایک مرتبہ ویکسین کے انجکشن لگائے جا سکیں۔ انڈونیشیا اور برازیل اپنی آدھی آبادی کے برابر ہی ویکسین کی خوراکوں کے معاہدے کر پائے ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق ویکسین بنانے والے چند بڑے صنعتکار یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ 2021 کے اختتام تک دنیا کی چھ ارب آبادی کے لیے ویکسین تیار کر سکیں۔ جب کہ اس وقت دنیا کی کل آبادی سات ارب 80 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔اگر یہ صنعت کار اپنے عزم پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تب بھی پونے دو ارب سے زائد افراد تک ویکسین نہیں پہنچ سکے گی۔

ترقی پذیر ممالک تک ویکسین کی رسائی ممکن بنانے کے لیے عالمی ادارہ برائے صحت نےایک سسٹم بنایا ہے۔ اس سسٹم کے تحت جو ملک ترقی پذیر ممالک تک ویکسین کے پہنچنے کے حامی ہیں وہ ایک سے زائد ویکسینز کی پیداوار پر کام کر سکیں گے۔اس سسٹم کے 184 ممبر ممالک ہیں اور ان میں 92 ترقی پذیر ممالک ہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …