منگل , 26 جنوری 2021

یہودیوں سے وفاداری کے ثمرات ! شدید خسارے کا پھندا بن سلمان کے گلے میں

سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہونے کے باوجود نوجوان، جذباتی اور اونچی اڑان اڑنے کے شوقین ناتجربہ کار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یمن پر جنگ مسلط کرلی، علاقے میں متعدد دہشت گرد ٹولوں کی مالی امداد کا بیڑا اٹھایا، تیل کی قیمتوں پر روس اور ایران کے ساتھ الجھ پڑا، لہذا آج یہ ملک شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔

توقع کی جاتی ہے کہ اس سال سعودیہ کا بجٹ خسارہ 79 ارب ڈالر تک پہنچے گا جبکہ سنہ 2020 کے آغاز پر کہا جاتا تھا کہ یہ خسارہ 50 ارب ڈالر تک ہوگا۔ سعودیہ کے بادشاہ سلمان نے بہرحال 2021 کے بجٹ کی تائید کی ہے جبکہ اگلے سال کے لئے بھی – تیل کی آمدنی تک رسائی نہ ہونے کے سبب – اگلے سال کے بجٹ کو بھی 37 ارب اور ساٹھ کروڑ ڈالر کے خسارے کا سامنا ہوگا۔

اعداد و شمار کے مطابق سعودیہ کے زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کو ہیں اور پیشن گوئی یہ ہے کہ اگلے سال یہ ذخائر 76.6 ارب ڈالر تک کم ہوجائیں گے جبکہ 2020 میں یہ ذخائر 92 ارب ڈالر تک پہنچ سکے تھے۔ ادھر بن سلمان کا آرزمندانہ ویژن 2030 کا سنیاریو بھی فلاپ ہوتا نظر آرہا ہے لیکن بن سلمان ان حقائق نیز عالمی سطح پر ریاض کی بڑھتی ہوئی تنہائی، انسانی حقوق کے شعبے میں خودسرانہ اقدامات اور متکبرانہ رویوں نیز سیاہ کرتوتوں – بشمول خاشقجی کے آری کے ذریعے ٹکڑے کروانا اور اس کا بدن قونصل جنرل کے گھر میں بنی ہوئی انسان سوزی کی بھٹی میں جلانا، یمن پر حملہ وغیرہ – کو نظرانداز کرکے خیالی اعداد و شمار کی آڑ میں پناہ لینے کے لئے کوشاں ہے۔

بن سلمان بیرونی سرمایہ اور بیرونی سرمایہ کاروں کو ملک میں لانے کے سلسلے میں ناکام ہوچکے کیونکہ بیرونی سرمایہ کار، سعودیہ کی رو بہ زوال معیشت میں سرمایہ کاری کو بہت بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ تیل کی سعودی کمپنی آرامکو کو اسٹاک ایکسچنچ میں فروخت کرنے کے ناکام تجربے نے ثابت کیا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کے اندیشے درست ہیں۔ بن سلمان کا دعوی ہے کہ سعودیہ کی آمدنی نئے سال میں 10 فیصد تک بڑھے گی لیکن 79 ارب ڈالر کو 37.6 ارب ڈالر تک پہنچانا ایسا سپنا ہے جو شاید کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو۔

بن سلمان نے جی 20 کی کانفرنس سے بھی سرمایہ کار تلاش کرنے کی امید لگائی تھی لیکن کانفرنس کے اکثر مدعوین نے کئی ماہ قبل ہی اس کانفرنس سے بائیکاٹ کرلیا تھا اور پھر یہ کانفرنس ہوئی بھی سائبر اسپیس پر ہوئی جس میں بہت کم لوگوں نے شرکت کی اور سعودیہ کو اس کا کوئی فائدہ نہ ملا۔ ادھر اوپک کے رکن ممالک نے تیل کی قیمتوں پر اتفاق کرلیا ہے اور تیل کی قیمتیں گرگئی ہیں چنانچہ بہت مشکل ہے کہ سعودیہ اپنے بجٹ خسارے کی تلافی کرسکے۔ اور ہاں! سعودیوں نے اپنی معیشت کی ترقی کو 3.7- فیصد قرار دیا ہے جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق 5.4- فیصد قرار دیا ہے۔

سعودی بادشاہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے اخراجات کو 2021 کے بجٹ میں کم کردیا گیا ہے حالانکہ سعودی عرب کا فوجی بجٹ اگلے سال کے بجٹ میں بھی دوسرے تمام شعبوں سے کہیں بڑا یعنی بجٹ کا 18فیصد ہے؛ یا یوں کہئے کہ سعودی عرب کے مجموعی بجٹ 264 ارب ڈالر میں فوجی بجٹ 46.7 ارب ڈالر ہے۔ ادھر امریکہ اس ملک کو دودھ دینے والی گائے سمجھتا ہے اور اس کو اگلے سال بھی امریکہ اور بعض یورپی ممالک کے لئے دودھ دینے والی گائے کا کردار ادا کرنا پڑے گا؛ امریکہ کا شیردار گائے جو سرزمین حرمین کے عوام کے لئے بانجھ اور بےثمر ہے۔ بن سلمان نے اگلے سال کے بجٹ میں اِضافی قدری محاصِل (value-added tax) میں 15 فیصد یعنی تین گنا اضافہ کیا ہے۔

ادھر اخبار رای الیوم کے مطابق، سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہونے کے باوجود نوجوان، جذباتی اور اونچی اڑان اڑنے کے شوقین ناتجربہ کار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یمن پر جنگ مسلط کرلی، علاقے میں متعدد دہشت گرد ٹولوں کی مالی امداد کا بیڑا اٹھایا، تیل کی قیمتوں پر روس اور ایران کے ساتھ الجھ پڑا، لہذا آج یہ ملک شدید مالی بحران سے دوچار ہے اور عالمی بینک سے قرض مانگ رہا ہے پاکستان سے اپنا قرضہ قبل از وقت مانگ رہا ہے؛ 2015 میں آٹھ ارب ڈالر امریکہ سے، 2016 میں 30 ارب ڈالر آئی ایم ایف سے، 2018 میں 11 ارب ڈالر دنیا کے کئی بینکوں سے اور 2019 میں 31 ارب ڈالر دوسرے عالمی بینکوں سے بطور قرض وصول کیے ہیں۔

یاد رہے کہ 2015 میں سلمان بن عبدالعزیز کے تخت بادشاہی پر مسلط ہونے سے لے کر اس کی حکومت ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر میں سے بھی 233 ارب ڈالر کھا چکی ہے اور کوئی پتہ نہیں کہ خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی ہے گوکہ یمنی ماہرین کی تحقیقات کے مطابق یہ رقم 233 ارب نہیں بلکہ 300 ارب ڈالر ہے اور یہ رقم یمن پر مسلط کردہ چھ سالہ سعودی جنگ پر خرچ ہوئی ہے۔ بہرصورت سعودیہ کی زوال یافتہ معیشت کو سنبھالا دینا کچھ زیادہ آسان نہیں ہے اور جن لوگوں نے اس معیشت کو تباہ کیا ہے ان سے اس کے احیاء کی توقع رکھنا عقل کا تقاضا نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی جنگی طیاروں کی لبنانی حدود میں دراندازی

غاصب صیہونی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی …