بدھ , 21 اپریل 2021

12لاکھ جرمانہ وصول کر کے سی ڈی اے نے وزیراعظم عمران خان کا گھر ریگولرائز کر دیا

وزیراعظم عمران خان نے قانون کی بالادستی کی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے ہی ماتحت ادارے کو 12 لاکھ روپے جرمانہ ادا کر دیا۔

صحافی عدیل وڑائچ کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ہوا وقت کے حاکم نے اپنی ہی ماتحت ادارے کے باہر مہینوں انتظار کرنے کے بعد اس کی جانب سے عائد کردہ 12 لاکھ روپے کا جرمانہ ادا کرکے عدالتی حکم پر اپنے گھر کو ریگولرائز کروایا، کیونکہ ماضی میں اس سے پہلے اگر بیوروکریٹ کو بھی اپنے ماتحت ادارے سے کام کروانا ہوتا تھا تو ادارے چل کر اس کے گھر پہنچ جاتے تھے۔

عدیل وڑائچ کے مطابق اکتوبر 2018 میں عمران خان نے سی ڈی اے کو ایک درخواست دیتے ہیں جس میں وہ ان سے استدعا کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا حکم آ چکا ہے لہذا میرے گھر کو ریگولرائز کیا جائے، وزیراعظم کی درخواست پر سی ڈی اے نظر ثانی کرنے کے بعد اعتراضات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔

وزیراعظم کی درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے سی ڈی اے یہ کہتا ہے کہ آپ جو فرد لے کر آئے ہیں اس پر آپ کا نہیں بلکہ جمائمہ کا نام ہے، پہلے انتقال وغیرہ کا سارا پروسیس کروا کر لائیں، پھر اعتراض یہ لگتا ہے کہ آپ کے گھر کے نقشے میں ٹیکنیکل مسائل ہیں انہیں دور کر لائیں، جس پر سی ڈی اے کے ڈائریکٹر اعتراض لگاتے ہیں کہ آپ سیوریج کا پلان بنا کر لائیں۔

سی ڈی اے کی جانب سے پھر اعتراض لگتا ہے کہ آپ سالیڈ ویسٹ کا پلان بنا کر لائیں، پھر اعتراض لگتا ہے کہ جو روڈ آپ کے گھر تک جاتی ہے اس تک رسائی کے لیے ریونیو کا سرٹیفیکیٹ لے کر آئیں، پھر اعتراض لگتا ہے کہ آپ اس چیز کا سرٹیفیکیٹ دیں کیا آپ نے اس پراپرٹی پر کوئی قرض تو نہیں لیا ہوا؟

عدیل وڑائچ کے مطابق سی ڈی اے کا افسر ہی اتنی زیادہ اعتراضات لگانے کے بعد خود بھی پریشان ہو جاتا ہے کہ میں نے وقت کے حاکم کی درخواست پر اعتراضات لگائے ہیں لہذا اب میری نوکری نہیں بچے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ سی ڈی اے میں چند مہینے پہلے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری سی ڈی اے کے ڈائریکٹر کو فون کر کے کہتے ہیں کہ فلاں مکان کی فائل میرے گھر پہنچائی جائے جس کا میں نے جائزہ لینا ہے، جس پر سی ڈی اے کا افسر انکار کر دیتا ہے جس پر وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری اسے نوکری سے نکال دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی رہائش گاہ کو ریگولرائز کرنے کے لیے دی گئی درخواست پر اعتراضات لگانے والا افسر اپنی نوکری پر موجود ہے جبکہ وزیراعظم نے اٹھائے جانے والے اعتراضات کو دور کرتے ہوئے خود پر عائد کیا گیا 12 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی ادا کیا، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …