جمعہ , 23 اپریل 2021

’بیت اللحم کا معجزاتی ستارہ‘؟: مشتری اور زحل 800 سال میں قریب ترین نظر آئیں گے

 

 

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 21 دسمبر کی رات کو نظام شمسی کے دو بڑے سیاروں مشتری اور زحل کا ایسے ملاپ ہو گا کہ یہ انسانی آنکھ سے ڈبل سیارے کی طرح دکھائی دیں گے۔

یہ منظر پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21 دسمبر کی رات کو دیکھا جا سکے گا بشرطیکہ موسم صاف ہو۔

اور اس مرتبہ یہ ملاپ ایسے وقت میں ہونے جا رہا ہے جس کی وجہ سے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ 2000 سال قبل آسمان میں نظر آنے والی تیز روشنی کا ہی ذریعے ہو جسے اب ستارہِ بیت اللحم کے طور پر جانتا ہے۔

یہ دونوں سیارے ایک دوسرے کے قریب مدار مکمل کرتے ہوئے 21 دسمبر کی رات کو انتہائی قریب نظر آئیں گے۔

برطانیہ میں بھی ستاروں کا مشاہدہ کرنے والے فلکیاتی مایوسی سے بچنے کی خاطر موسم کی صورتحال پر اپنی نظریں گاڑے رکھیں گے تاکہ وہ یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرونومی کے ڈاکٹر کیرولین کرافورڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر یہ شام کو دکھائی دیا تو یہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے تاہم اس بار موسم صاف دکھائی نہیں دے رہا۔

اگر دسمبر کے موسم نے مایوس نہیں کیا تو یہ دونوں سیارے غروب آفتاب کے فوراً بعد آسمان کے جنوب مغربی حصے پر نظر آ سکیں گے۔

دونوں سیارے غروب آفتاب کے فوراً بعد افق کے بالکل اوپر جنوب مغربی آسمان میں نظر آئیں گے۔

سمن کنگ بی بی سی نامہ نگار برائے موسمیات

پیر کے دن برطانیہ میں بادل اور بارش کے ساتھ تیز ہوا چلنے کا امکان ہے البتہ شام کو زیادہ تر مطلع صاف رہے گا۔ برطانیہ میں زیادہ تر حصوں میں یہ منظر صاف دکھائی دے سکے گا۔

البتہ برطانیہ کے جنوب مغربی حصے بادل سے ڈھکے رہیں گے اور ان علاقوں میں مزید بارش کا امکان بھی ہے۔ اور برطانیہ کے جنوبی اور مڈ لینڈز کے علاقوں میں یہی صورتحال رات دیر تک جاری رہے گی۔

کیا یہ ستارہ بیت اللحم کی واپسی ہے؟

کچھ ماہرین فلکیات اور مذہبی زعما یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ستارہ بیت اللحم کی واپسی ہے۔

ورجینیا کے فِروم کالج میں مذاہب کی استاد پروفیسر ایرک ایم وینڈن ایکل کے ایک آن لائن مضمون کے مطابق ان دو سیاروں کے ملاپ کے وقت نے بہت سی قیاس آرائیوں کو بھی جنم دیا ہے کہ کیا یہ وہی فلکیاتی منظر ہے جس کے بارے میں بائبل میں بھی ذکر ملتا ہے کہ اس ستارے کی وجہ سے دانا لوگ حضرت یوسف، حضرت مریم اور ان کے نوزائیدہ بچے حضرت عیسیٰ کی جانب متوجہ ہوئے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ قدیم قیاس آرائی ہے۔ یہ نظریہ کہ مشتری اور زحل کا ملاپ دراصل ایک ’معجزاتی ستارہ‘ ہو سکتا ہے پہلی بار 17 ویں صدی میں جرمنی کے ایک ماہر فلکیات اور ماہر ریاضی دان جوہانس کیپلر نے پیش کیا تھا۔

ڈاکٹر کیرولین کرافورڈ کے مطابق 2000 سال قبل لوگ رات کے وقت آسمان پر ہونے والے واقعات سے متعلق خبر رکھتے تھے۔ لہٰذا یہ کوئی ناممکن بات نہیں ہے کہ بیت اللحم کا 2000 سال پرانا معجزاتی ستارہ سیاروں کا اسی قسم کا ملاپ ہو۔

نظام شمسی

یہ واقعہ کتنا منفرد ہے؟

چونکہ سیارے سورج کے گرد اپنے مدار میں سفر کرتے ہیں تو ایسے ملاپ کوئی انہونی بات نہیں، تاہم ان دو سیاروں کا ملاپ ایک خاص موقع ہے۔

مانچسٹر یونیورسٹی کے ایسٹرو فزکس کے پروفیسر ٹم او برائین نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاروں کے ملاپ کا نظارہ ایک خاص بات ہوتی ہے۔ اور ایسا ملاپ اکثر ہوتا رہتا ہے تاہم ان دو سیاروں کا ایک دوسرے سے ملاپ ایک بہت قابل ذکر بات ہے۔

یہ دو سیارے جو درحقیقت ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے اور سب سے چمکدار اجسام میں سے ہیں، 800 سال سے ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں آئے ہیں۔ برطانیہ میں موسم کی پیش گوئی کرنے والوں کے مطابق یہ ستارہ بینی کے لیے زیادہ سازگار موسم نہیں ہو گا مگر اس میں تبدیلی بھی واقع ہو سکتی ہے۔

پروفیسر ٹم او برائین کے مطابق یہ صورتحال گھنٹوں میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔۔ یہ برطانیہ کا موسم ہے اور یہی آپ کے لیے علم فلکیات ہے۔

یہ سیارے جنوب مغرب میں غروب ہوں گے لہٰذا آپ کو سورج غروب ہوتے ہی جلد از جلد باہر نکلنا ہوگا۔

ان کے مطابق ’ہم میں سے کوئی بھی مزید چار سو سال تک زندہ نہیں رہے گا لہٰذا موسم پر نظر رکھیں اور اگر آپ کو موقع ملے تو اس معجزاتی ستارے کے نظارے کے لیے گھر سے باہر ضرور نکلیں۔‘

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …