بدھ , 21 اپریل 2021

امریکہ تباہ کن اور خطرناک سائبر حملوں کی زد پر

امریکہ کے سابق انٹیلی جینس چیف نے ملکی اداروں پر ہونے والے حالیہ سائبر حملوں کو انتہائی تباہ کن اور تشویشناک قرار دیا ہے۔

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کے سابق انٹیلی جینس ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے سرکاری اداروں اور محکموں پر ہونے والے سائبر حملوں کو انتہائی تباہ کن اور تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہمیں بہت زیادہ ہوشیاری سے کام لینا ہوگا۔

کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کے سرکاری اداروں اور محکموں پر کیے جانے والے حالیہ سائبر حملے اتنے سنگین تھے کہ نیشنل انٹیلی جینس ڈائریکٹوریٹ کو تمام وفاقی اداروں کی بجلی منقطع کرنے کی درخواست کرنا پڑی۔

اگرچہ امریکی ذرائع ابلاغ اور اعلی حکام نے کھل کر روس کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر برہمی ظاہر کی ہے، لیکن  ٹرمپ نے امریکہ میں ہونے والے تمام تخریبی اقدامات کی ذمہ داری روس پر ڈالنے والے ذرائع ابلاغ اور اعلی عہدیداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے نو منتخب صدر جوبائیڈن کی جانب سے نامزد کیے جانے والے وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف رون کلین نے کہا ہے کہ سائبر حملے کرنے والوں کے خلاف ہمارے اقدامات صرف پابندیاں لگانے تک محدود نہیں ہوں گے۔

قابل ذکر ہے کہ ہیکروں نے ٹیگزاس میں قائم ایک نیٹ ورکنگ مینیجمنٹ کمپنی کے تیار کردہ سافٹ ویئر کے ذریعے سرکاری اداروں اور محکموں پر سائبر حملے کیے ہیں تاکہ ان حملوں کا پتہ بھی نہ چل سکے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکی محکمۂ خزانہ، خارجہ، تجارت، ہوم لینڈ سکیورٹی اور ایٹامک سکیورٹی ایجنسی کو پچھلے چند روز میں سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اب امریکہ کی سب سے بڑی سائبر کمپینی مائیکروسافٹ بھی ان حملوں کی زد پر آگئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ کے مختلف حساس محکموں پر شدید سائیبر حملے کئے جا چکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …