بدھ , 21 اپریل 2021

مسلمانوں میں کورونا ویکسین کے حلال یا حرام ہونے سے متعلق تحفظات

اکتوبر میں انڈونیشیا کے سفیروں اور مذہبی رہنماؤں کا ایک گروپ طیارے کے ذریعے چین میں اترا جس میں سفارتکاروں کی موجودگی کا مقصد انڈونیشیا کے شہریوں کے لیے ویکسین کی لاکھوں خوراک کی ڈیل کو حتمی شکل دینا تھا جبکہ مذہبی رہنما یہ جائزہ لینے کے لیے گئے تھے کہ کیا کووِڈ 19 کی ویکسین اسلامی قوانین کے تحت جائز ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق جہاں ایک جانب متعدد کمپنیوں کی جانب سے کووِڈ 19 کی ویکسین بنانے اور ممالک کی جانب سے ان کی خوراکیں حاصل کرنے کی دوڑ لگی ہے وہیں اس میں خنزیر کے گوشت (پورک) سے بنی مصنوعات کے استعمال کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں جو بہت سے مذہبی گروہوں کے لیے ناجائز ہے اور اس سے مدافعتی مہم متاثر ہونے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ ویکسین کی نقل و حمل اور اسٹور کرنے کے دوران اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیبلائزر کے طور پر بڑے پیمانے پر خنزیر کے گوشت سے بننے والے جیلاٹن کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …