منگل , 15 جون 2021

دین کے ٹھیکیداروں اور اسلام کے دعویداروں کی دوڑ بس یہودیت کی گود میں پناہ لینے تک!

میرے خیال میں آزمائش کی گھڑی ہے اور جو مسلمان ہے وہ الگ ہوگا اس سے جو مسلمان نہیں ہے وہ اپنا راستہ الگ کرلے گا اور مسلمانان عالم ان لوگوں کو بھی بہ آسانی پہچان لیں گے جو گذشتہ 35 برسوں سے شیعیان اہل بیت(ع) کو کافر قرار دے رہے تھے

جمعیت علمائے "اسلام؟” نامی تنظیم کے ایک راہنما بنام اجمل قادری جو 1980ع‍ کے عشرے کے اواخر سے یہودی ریاست (اسرائیل) کے ساتھ پاکستان کے تعلقات قائم کرنے کے لئے کوشاں رہے ہیں، نے انکشاف فرمایا ہے کہ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم جناب محمد نواز شریف کی اجازت اور جمعیت علمائے "اسلام؟” کے سربراہ جناب مولوی فضل الرحمان کے مشورے سے اسرائیل کے دورے پر تشریف فرما ہوئے تھے۔
معاف کرنا! لیکن جمعیت علمائے اسلام اور اس کے لیڈران فضل الرحمان اور اجمل قادری، ایک مذہب اور ایک فقہ اور ایک عقیدے کے نمائندے بن کر پاکستانی سیاست میں اپنا کھیل کھیلتے رہے ہیں اور یہی لوگ مذہب اور عقیدے کے حوالے سے اپنی حد تک مقبولیت حاصل کرچکے ہیں اور ان کے ہم عقیدہ مسلمان اسی بنا پر ان پر اعتماد کر بیٹھے ہیں۔
یہ لوگ عرصہ دراز تک اپنے مخالفین کو فکری لحاظ سے کچلنے کے لئے کوشاں رہے ہیں اور انہیں یہودیت سے نسبت دے کر بدنام کرتے رہے ہیں اور نواز شریف کے بھی بنی سعود سے قریبی تعلقات ہیں جو سیکولر ہوکر بھی ایک خاص فرقے کے زعماء اور قائدین کہلوانے پر اصرار کرتے آئے ہیں اور سعودیوں کے براہ راست عقیدتمند جناب نواز شریف بھی جمعیت علمائے "اسلام؟” کے ہم عقیدہ ہیں لیکن اب معلوم ہورہا ہے کہ یہ لوگ یہودی نواز ہی نہیں یہودیت کے لئے پاکستان میں ماحول سازی بھی کررہے ہیں۔
دنیا جانتی ہے کہ اس عقیدے کے بعض ٹھیکیدار گذشتہ کئی عشروں سے مذہب شیعہ کے خلاف اپنی ہرزہ سرائیوں کے ضمن میں امت کے ان حقیقی سپاہیوں اور مجاہدوں کو یہودیوں سے جوڑنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ حتی کہ یہودی شیعہ مذہب ہی یہودی ساختہ مذہب ہے! اور یوں احمقوں کی جنت بنانے میں کافی حد تک کامیاب ہوچکے تھے۔
لیکن جب ہم تاریخ اسلام کا بغور تجزیہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے اجداد کا بھی تعاقب کرتے رہے ہیں، رسول اللہ کے دادا اور پردادا اور والدین کے قتل کے لئے بھی کوشاں رہے ہیں اور اسلام کی تحریف میں کردار ادا کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ انھوں نے دارالندوہ میں بھی کردار ادا کیا اور قریشی مشرکوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے قتل کی ترکیب سکھائی، جنگ بدر میں بھی مسلمانوں کو قیدی پکڑنے کی ترغیب دلائی ہے، جنگ احد میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی شہادت کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کے حوصلے پست کیے ہیں، جنگ خندق میں بھی احزاب کا حصہ رہے ہیں اور مدینہ میں چار جنگوں کے اسباب فراہم کرتے رہے ہیں اور رسول خدا صلی اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے اسامہ مشن کو بھی ناکام بنایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے قتل میں بھی کردار ادا کیا ہے اور آپ کی وصیتوں پر عملدرآمد کی راہ میں بھی رکاوٹیں ڈالتے رہے ہیں، ولایت و جانشینی کو بھی اپنی راہ سے منحرف کئے ہوئے ہیں، اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کو بھی 25 سالہ خانہ نشینی پر مجبور کروایا ہے اور معصومین علیہم السلام کی شہادتوں میں بھی بالواسطہ یا حتی بلاواسطہ کردار ادا کرتے رہے ہیں، تشیع کی بدنامی میں بھی کردار ادا کرتے آئے ہیں اور چونکہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ مسلمین قرآن مجید کی رو سے یہودیوں کو بدترین دشمن سمجھتے ہیں، لہذا شیعیان آل رسول(ص) کو اپنے سے نسبت دے کر بدنام کرنے کا اہتمام و انتظام کرتے رہے ہیں اور آج کی تاریخ میں بھی اس زمانے کے بعد یہود نوازوں کے پیروکاروں کے ذریعے تشیّع کے خلاف پرانے انداز سے ہرزہ سرائی کرتے آئے ہیں، لیکن سورج کو کب تک انگلی سے چھپایا جاسکتا ہے؟
ہم نے دیکھا کہ گذشتہ 40 برسوں سے – جب پاکستان میں "یہود و ہنود” کی خدمت کی خاطر مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لئے – گروپ اور ٹولے بنائے گئے تو شیعہ مذہب کو ہر طرف سے – حتی کہ بعض سرکاری ایجنسیوں نے "بالکل بےپردہ اور آشکارا” – نشانہ بنایا اور ملکی تاریخ کے معمار شیعیان حیدر کرار کو پاکستان کے لئے سیکورٹی رسک قرار دیا گیا، کسی میجر اور کسی بریگیڈیئر کے زبانی، وہی جنہوں نے بعد میں سوات اور مالاکنڈ میں باغیوں کے لشکر تیار کیے جنہوں نے کئی سال تک پاکستانی افواج کے افسروں اور جوانوں کو کافر قرار دیا اور ان کے خلاف لڑے اور بعض اخوانیوں نے ان کی حمایتیں کیں۔
اس طوفان بدتمیزی کے آغاز میں ہی اجمل قادری اسی عقیدے کے نمائندے اور جمعیت علماء کی قیادتی کیڈر کے سینئر رکن کی حیثیت سے یہودی ریاست کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے اور اب تک بیٹھے ہوئے ہیں؛ اور اب معلوم ہورہا ہے کہ فضل الرحمان ایک عقیدے کے "بڑے نمائندے” کی حیثیت سے اجمل قادری کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہی نہیں ان کے امیر اور سالار بھی تھے اور جو کچھ کررہے تھے یہودیوں کے لئے کررہے تھے گویا ایک شعبہ تھا جو یہودیت کی خدمت کے لئے تیار کیا گیا تھا اجمل قادری کی قیادت میں اور اسی دور میں جو تکفیری ٹولے دہشت گردی کے میدان میں اترے اور شیعہ مذہب کے خلاف درندگی کی مثالیں قائم کرتے رہے، ان کے بڑے بوڑھے بھی اپنے آپ کو جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) کا رکن کہہ کر متعارف کروا رہے تھے۔ گویا تکفیری ٹولے بھی یہودیوں کے ساتھ اپنے پرانے رابطے برملا کرنے کے لئے ماحول سازی کرنے کی غرض سے معرض وجود میں آئے تھے؛ اور شیعہ دشمنی اسی ماحول سازی کا تسلسل تھی اور یہ الگ شعبہ تھا جو کچھ بدزبان اور اور بےادب اشخاص کی سرکردگی میں اس مشن کو سر کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا اور فضل الرحمان اپنے اخوانی اتحادیوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ کر ان سب کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے؛ مغربی اور صہیونی ایجنسیوں کی منصوبہ بندی اور مالی اور فکری پشت پناہی کے سائے میں۔
ہم ان حقائق کو سمجھ رہے تھے لیکن ہماری بات ماننے کے لئے کوئی تیار نہ تھا کیونکہ پس پردہ بڑے مولوی صاحبان اور نام نہاد صنعتی سیاستدان کئی پردوں کے پیچھے چھپے ہوئے تھے لیکن آج سب باہر آگئے ہیں، عرب حکمران بھی – بالخصوص خادم الحرمین کے عنوان کے پیچھے چھپے ہوئے سعودی حکمران – بھی بےنقاب ہوچکے ہیں، اور آج ہماری نوجوان نسل بھی – خواہ شیعہ، خواہ سنی – بخوبی سمجھ سکتی ہے اور سمجھ رہی ہے کہ گذشتہ طویل دور دھوکے اور مکر و فریب کا دور تھا اور کئی لوگوں نے مختلف حیلوں سے ہمیں دھوکے میں رکھا اور ہم نے مسلم، مولوی صاحب، قوم پرست سیاستدان، خادم الحرمین، عرب! وغیرہ کے عنوان سے ان لوگوں کا احترام کیا۔ ہم جنوب ایشیائی مسلمان نہایت سادہ لوگ ہیں ہم عربوں کا احترام کرتے تھے کیونکہ ان کی زبان ہمارے قرآن پاک اور ہماری حدیث شریف کی زبان تھی لیکن ہم آج سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور مسلمانوں کے خونخوار دشمن بھی عربی بولتے تھے اور مدینہ کے یہودی بھی عربی بولتے تھے، مشرکین مکہ بھی عربی بول رہے تھے اور مجموعی طور پر 28 غزوات میں اور بےشمار سریوں میں اسلام اور قرآن کے دشمن سب عربی بولنے والے تھے۔ ابو جہل، ابو لہب، ابو سفیان وغیرہ سب عرب تھے، احد میں ستر مسلمانوں کے قتل کے لئے ماحول بنانے والا شخص بھی عربی بولنے والا تھا اور سیدالشہداء حمزہ کی قاتلہ اور اس کا شوہر ابو سفیان بھی عربی بولتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے دانت شہید کرنے والے اور مدینہ میں مسجد ضرار بنانے والے بھی عرب تھے۔ آج عرب آگے آگے ہیں یہودیوں سے اپنا پرانا تعلق آشکار کرنے میں جو غیر عرب مسلمانوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ "اسلام کے اصل ٹھیکیدار ہیں اور ہم جب قبلہ اول اور فلسطینی عرب مسلمانوں کو یہودیوں کے ہاتھوں بیچ رہے ہیں تو تم تو بیگانے ہو ان سے، تمہیں تو بطور اتم تسلیم کرنا چاہئے اسلام کے اس دشمن نمبر ایک کو!!”۔
اگر ہمارے برادران قرآن کے قائل ہیں اور اللہ کے فرامین کے منکر نہیں ہوئے ہیں تو سورہ مائدہ کی آیت 82 کو دیکھ لیں اور جان لیں کہ قرآن کی آیات کریمہ منسوخ نہیں ہوئی ہیں اور انہیں عربوں یا عبرانیوں کی خاطر منسوخ ہونا بھی نہیں ہے۔۔۔
میرے خیال میں آزمائش کی گھڑی ہے اور جو مسلمان ہے وہ الگ ہوگا اس سے جو مسلمان نہیں ہے وہ اپنا راستہ الگ کرلے گا اور مسلمانان عالم ان لوگوں کو بھی بہ آسانی پہچان لیں گے جو گذشتہ 35 برسوں سے شیعیان اہل بیت(ع) کو کافر قرار دے رہے تھے، ۔۔۔۔ اور مسلمانوں کو جاننا چاہئے کہ جو اپنی مسلمانی کو نمبر ون سمجھ رہے تھے اور دوسروں کو کافر قرار دے رہے تھے آج کفار کی گود میں بیٹھ کر مسلمانوں کو طعنے دے رہے ہیں گویا کہ یہودیوں کے آگے ہار ماننا اور ہتھیار ڈالنا عظمت کی نشانی ہے!
عشق قرآن اور عشق یہود کا عجیب دور ہے، حق و باطل عیاں ہیں، کوئی ابہام باقی نہیں ہے۔ اللہ کی حجت تمام ہے خیال رکھنا پڑے گا ہم سب کو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: ابو بصیر بیت المقدسی

 

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …