منگل , 13 اپریل 2021

عراق میں شہید قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی برسی کی تیاریاں عروج پر

شہید جنرل قاسم سلیمانی اور شہید جنرل ابومہدی المہندس کی پہلی برسی کے موقع پر عراقی شہروں کو محاذ استقامت کے ان دونوں جنریلوں کی تصاویر سے مزین کر دیا گیا ہے۔

عراق کے اکثر شہروں کے چوراہوں، سڑکوں اور گلی محلوں میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے قدس بریگیڈ کے کمانڈر شہید جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے نائب سربراہ شہید جنرل ابو مہدی المہندس کی قد آدم تصاویر نصب کر دی گئی ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق عراقی عوام نے اپنے گھروں کو بھی محاذ استقامت کے ان دونوں جرنیلوں کی تصویروں سے مزین کر رکھا ہے ۔اسی طرح عراق کے مختلف صوبوں میں ان دونوں شہدائے استقامت کی برسی کے پروگراموں کی تیاری اپنے عروج پر ہے۔

امریکہ کے باوردی دہشتگردوں نے رواں برس تین جنوری کو عراقی دارالحکومت بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب ایک بزدلانہ حملہ کر کے سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور حشدالشعبی کے نائب سربراہ جنرل ابومہدی المہندس کو ان کے چند ساتھیوں کے ہمراہ شہید کر دیا تھا۔ شہید جنرل قاسم سلیمانی عراقی حکومت کی دعوت پر بغداد گئے تھے۔

امریکی وزارت جنگ پنٹاگون کے اعلان کے مطابق اس حملے کا فرمان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خود جاری کیا تھا۔

شہید جنرل قاسم سلیمانی اور شہید ابومہید المہندس مغربی ایشیا میں داعش سمیت تمام تکفیری و دہشتگرد گروہوں کے خلاف جدوجہد کی اہم اور نمایاں شخصیت تھے۔

درایں اثنا عراق کی تحریک عصائب اہل الحق اور البدر تنظیم کے سربراہوں نے ایک بار پھر ملک سے دہشتگرد امریکی فوجیوں کے باہر نکلنے پر زور دیا ہے۔عراق کی تنظیم عصائب اہل الحق عراق تحریک کے سربراہ قیس الخز علی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ یہ تحریک حکومت اور اس کے اداروں کے ساتھ اپنے عہد و پیمان کی پابند ہے تاہم ملک کے اقتدار اعلی کے تحفظ اور دہشتگرد امریکی فوجیوں کے انخلاء پر زور بھی دیتی ہے ۔

عراق کی البدر تنظیم کے رہنما علی الزبیدی نے بھی زور دے کر کہا ہے کہ جیسا کہ تحقیقاتی مراکز نے اعلان کیا ہے دنیا کے مختلف علاقوں میں امریکی فوجی چھاؤنیوں میں اس کے دو لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات ہیں جن میں سے نصف مغربی ایشیا میں موجود ہیں۔

البدر کے رہنما نے کہا کہ امریکہ کے اکیس اڈے اور فوجی چھاؤنیاں صرف عراق کے مختلف علاقوں میں ہیں جن سے ملت عراق کو اب تک کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے اور بغداد ایئرپورٹ پر بھی امریکی فوجی اڈے کی موجودگی، ملک کی سیکورٹی، فضائی حدود، مہمانوں، ہوائی اڈوں اور تمام صوبوں کے امن و سیکورٹی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے ۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …