بدھ , 21 اپریل 2021

اُمت واحدہ پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا اہم اجلاس

اسلام آباد : اجلاس میں سربراہ اُمت واحدہ پاکستان حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ محمد امین شہیدی،نائب صدر اُمت واحدہ جناب پیر غلام رسول اویسی ، بذریعہ ویڈیو لنک جنرل سیکرٹری اُمت واحدہ جناب سید ضیاء اللہ شاہ بخاری صاحب، جناب علامہ محمد عباس وزیری ، جناب علامہ اقبال بہشتی، مفتی نعیم اللہ نعیمی ،مفتی سید ابرار حسین بخاری، مفتی عامر شھزاد، صاحبزادہ شعیب رضا قادری ، علامہ حیدر علوی ،علامہ محمد شفیق کمالی ، علامہ اصغر عسکری، علامہ توصیف النبی ،علامہ خطیب مصطفائی ،مفتی محمد امیر ذیب حاجی ابو شریف ڈاکٹر طارق شریف زادہ اور مختلف مسالک کے علماء و مشائخ عظام شریک ہوئے۔

اجلاس میں برطانیہ اسرائیل اور یاسر الحبیب کے اشتراک کے سے بننے والی فلم کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک بھیانک سازش قرار دیا گیا اور اتفاق کیاگیا کہ یہ فلم مسلمانوں کو لڑانے اور فرقہ واریت کے فروغ دینےکیلئے بنائی گئی ہے جس کا شیعہ اور سنی سے کوئی تعلق نہیں۔

علماء کرام نے اسلام کے دو عظیم بازو شیعہ اور سنی کو لڑانے کی ہر کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اندرون اور بیرون ملک سے ہونے والی ہر ایسی سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔
اجلاس میں صدی کی ڈیل کے عنوان سے مسلمان حکمرانوں کے ذریعے اسرائیل کو تسلیم کروانے کی امریکی مذموم کوشش کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز ریاست ہے جسکی نابودی قریب ہے اور آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام فلسطینیوں کا بنیادی حق ہے ۔

اجلاس میں قرار دیاگیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والا ہر حکمران اسلامی امت کا غدار فلسطینی امنگوں کا دشمن اور عالمی طاغوتی طاقتوں کا گماشتہ نوکر ہے جس سے امت کا کوئی تعلق نہیں۔

اس اجلاس میں مختلف اسلامی ممالک میں امریکی بلاک کی مسلط کردہ جنگوں اور مسلمانوں کے بہتےلہو پر اظہار افسوس کیا گیا اور کشمیر سمیت دنیا بھر میں چلنے والی حریت و استقامت کی تحریکوں اور مقاومتی بلاک کی بھرپور حمایت کی گئی، شھید اسلام سردار قاسم سلیمانی کی شھادت کی پہلی برسی کے موقع پر اُن کے بلند اسلامی اھداف اور استعمار ستیز اقدامات کی حمایت اور اُن کے مسلم امہ کو داعش سے نجات دلانے کی تمام کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اجلاس میں امت واحدہ کی توسیع اور مختلف اہم شہروں میں موجود مختلف اسلامی مکاتیب فکر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام کو زیادہ سے زیادہ مربوط کرنے اور اسلامی مشترکات اور عصری چیلنجز پر منظم و مربوط نشستوں کے تسلسل اور فرقہ وراریت کی ترویج کی کوششوں کے مقابلے پر اتفاق کیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …