منگل , 15 جون 2021

سانحہ مچھ کے خلاف پورے پاکستان میں دھرنے جاری

بلوچستان کے علاقے مچھ میں کان کنوں کے المناک قتل کے خلاف شہداء کے اہلخانہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے شیعہ مسلمانوں کے احتجاج اور احتجاجی دھرنے پورے پاکستان میں جاری ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے مغربی بائی پاس میں جاری احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کیلئے کراچی کے 20 مقامات کے علاوہ حیدر آباد میں احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے اور آج صبح تک شہر کے مزید کئی مقامات پر دھرنا دیا گیا ہے، مجموعی طور پر مرکزی شاہراہوں کو 20 مرکزی مقامات پر ٹریفک کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی طرح جنوبی پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملتان، ڈیرہ غازیخان، بہاولپور، خانیوال، کبیروالا، عبدالحکیم اور شجاع آباد میں بھی احتجاج اور دھرنے ہو رہے ہیں۔ جبکہ سانحہ مچھ کے لواحقین کے دھرنے سے اظہار یکجہتی کے لیے ملتان کے نواں شہر چوک پر مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام احتجاجی دھرنا دیا گیا جس میں خواتین، بزرگ اور بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ دھرنے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قائدین نے کی۔ دھرنے کے شرکاء نے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور حکومتی ہٹ دھرمی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام اور رہنمائوں کا کہنا تھا کہ جب تک شہدائے مچھ کے ورثاء کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔

مجلس وحدت مسلمین ضلع لیہ کے زیر اہتمام سانحہ مچھ میں ہونے والے اندوہناک سانحے کے خلاف اور شہدائے کوئٹہ کے وارثین سے اظہار یکجہتی کے لیے علامتی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے فوری کوئٹہ جانے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اُس وقت تک سراپا احتجاج ہیں جب تک کوئٹہ کے مومنین دھرنا دیں گے، عمران خان اپنا ماضی یاد کریں جب وہ اپوزیشن میں تھے تو اُس وقت کے وزیر اعظم کو کوئٹہ پہنچنے کا مطالبہ کیا تھا آج خود وزیر اعظم عوام سے آنکھیں ملانے سے کیوں کترا رہا ہے۔ رہنماوں نے کہا کہ ہم ایک پرامن قوم ہیں، ہمارا صبر نہ آزمایا جائے، کل سے مزید علاقوں میں دھرنا شروع کریں گے۔

مچھ میں ہزارہ شیعہ برادری کے گیارہ افراد کی شہادت کیخلاف پاراچنار میں بھی علامتی دھرنا دیا گیا۔

در ایں اثناء پاکستان کے وزیراعظم کے معاون خصوصی مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مچھ میں دہشتگردی کا واقعہ بڑا سانحہ ہے، مچھ واقعے کے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور علماء کا ایک وفد جلد کوئٹہ کا دورہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو اجازت نہیں کہ دوسرے مذہب کے مقدسات کی بے حرمتی کرے۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کی جان، مال اور عبادت گاہوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

کابل میں پھر دھماکے، آٹھ افراد جاں بحق، شیعہ ہزارہ نشانے پر

کابل: افغانستان کے دارالحکومت میں جمعرات کو ہونے والے دو الگ الگ بم دھماکوں میں …