بدھ , 14 اپریل 2021

تابش گوہر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی کے عہدے سے مستعفی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہرنے استعفیٰ دے دیا۔

باخبر سرکاری ذرائع نے تصدیق کی کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے دبئی سے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھیجا۔

تابش گوہر دوسرے ٹیکنوکریٹ ہیں جنہوں نے 3 ماہ میں معاون خصوصی برائے توانائی کا عہدہ چھوڑا ہے کیونکہ شعبہ توانائی کے سخت چیلنجنز حکومت کو پریشان کر رہے ہیں۔

اس سے قبل پاور ڈویژن سے سائڈلائن ہونے کے بعد نومبر کے پہلے ہفتے میں شہزاد قاسم مستعفی ہوگئے تھے اور انہوں نے صرف منرل مارکیٹنگ پر توجہ مرکوز کرنے کا کہا تھا۔

تابش گوہر، کے الیکٹرک کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر اور عارف نقوی کے مشکلات کا شکار ابراج کیپیٹل کے سینئر ایگزیکٹو تھے اور انہوں نے ستمبر میں شہزاد قاسم کی جگہ معاون خصوصی برائے توانائی کی جگہ سنبھالی تھی، شہزاد قاسم اور تابش گوہر امریکا سے تعلق رکھنے والی اے ای ایس کارپوریشن میں ساتھی تھے۔

تاہم یہ دونوں وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان اور معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کی جوڑی کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہوسکے جوکہ اے ای ایس کے سابق ایگزیکٹو تھے۔

باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ تابش گوہر نے کابینہ کے حالیہ اجلاس میں اصلاحات پر تبادلہ خیال کے دوران اپنے محدود دائرہ کار سے متعلق شکایت کی تھی۔

ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ تابش گوہر اپنے کام میں مداخلت اور کئی لوگوں کی دخل اندازی سے تنگ آچکے تھے اور وہ شکایت کرتے تھے کہ انہیں نہیں معلوم کہ انہیں کسی رپورٹ کرنا ہے، آیا انہیں وزیر برائے ترقی اسد عمر کو رپورٹ کرنا ہے یا وزیر توانائی عمر ایوب کو یا معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر یا وزیراعظم کو۔

ایک اور عہدیدار کا کہنا تھا کہ تابش گوہر کا معروف چینلز اور اخبارات میں ہائی پروفائل انٹرویو جس میں چین پاک اقتصادی راہداری کے ذریعے کے الیکٹرک-شنگھائی معاہدے کو شامل کرنے اور پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی بحالی تجویز نے میدان میں موجود کچھ اہم کھلاڑیوں کو پریشان کردیا تھا۔

تاہم ان سب سے بڑھ کر اطلاعات کے مطابق تیل بحران کی اس تحقیقاتی رپورٹ کے بعد تابش گوہر دباؤ میں تھے جس میں بائیکو پیٹرولیم کو غلط کاموں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

تابش گوہر بائیکو کی آڈٹ اینڈ ہیومن ریسورس کمیٹیز کے چیئرمین کے بطور پر کام کرچکے تھے۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …