منگل , 26 جنوری 2021

ایران پر عائد پابندیاں ہٹانا امریکہ اور یورپ کی ذمہ داری ہے/ امریکی اور برطانوی ویکسین کی ملک کی درآمد ممنوع ہے

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج بروز جمعہ 9 دی کی مناسبت سے ٹی وی چینل کے ذریعہ براہ راست خطاب میں عظیم اور علمی شخصیات شہید فخری زادہ، آ یت اللہ مصباح یزدی، شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہددی المہندس کی گرانقدر خدمات کی قدردانی کی۔

آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ 19دی یعنی 8 جنوری کی تاریخ اور واقعہ کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ یہ ایرانی عوام کی زندگی اور تحریک کا نقطہ عروج تھا، ان واقعات کو ہمیشہ زندہ اور یاد رکھنا چاہئیے، اس لئے کہ اس سے آئندہ آنے والی نسلوں کو جذبہ ملتا ہے او یہ تاریخ کا حصہ ہے۔

آٹھ جنوری کی تاریخ ساز تحریک کے یادگار دن کے موقع پر اپنے خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایاکہ موجودہ حالات میں امریکہ کو اپنے مفادات علاقے کی بدامنی میں دکھائی دیتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں امریکہ کی سرکردگی میں قائم سامراجی محاذ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی، غیر قانونی پابندیوں، ایران کی علاقائی موجودگی، ایران کے دفاعی طاقت اور میزائل پروگرام کی جانب بھی اشارہ کیا۔

آپ نے فرمایا کہ مغرب اور ہمارے دشمنوں کے محاذ کو چاہیے کہ وہ ایرانی قوم کے خلاف اس خیانت آمیز حرکت اور لاحاصل دشمنی یعنی پابندیوں کا سلسلہ بند کردے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد میں کمی کے حوالے سے پارلیمنٹ اور حکومت کے فیصلے کو منطقی اور دانشمندانہ قرار دیتے فرمایا کہ ہمیں ایٹمی معاہدے میں امریکہ کے دوبارہ شامل ہونے کی کوئی جلدی نہیں۔

آپ نے اپنے خطاب میں، جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی میں کمی کے ایرانی پارلیمنٹ کے فیصلے اور اس پر حکومت کی جانب سے عمل درآمد کو بالکل صحیح اور معقول اقدام قرار دیا۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو نہ ایٹمی معاہدے میں امریکا کی واپسی کی کوئی جلدی ہے اور نہ ہی اس پر اصرار ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ پابندیوں کا خاتمہ اور ہمارے غصب شدہ حق کی بحالی ہمارا معقول مطالبہ ہے اور اس کو پورا کرنا امریکا اور یورپ والوں کا فریضہ ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اسی کے ساتھ فرمایا کہ پابندیوں کے خاتمے کے بغیر، جامع ایٹمی معاہدے میں امریکا کی واپسی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اگر پابندیاں اٹھالی گئیں تو ایٹمی معاہدے میں امریکا کی واپسی کا کوئی مطلب ہوگا لیکن جو نقصانات ہمیں پہنچے ہیں ان کی تلافی ہمارے مطالبات میں شامل ہے جس کو ہم بعد کے مرحلے میں پیش کریں گے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ملک میں امریکی اور برطانوی ویکسین کی درآمد کو ممنوع قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر امریکہ والے ویکسین بنانے کے قابل ہوتے تو ان کے ملک میں صورتحال شرمناک رخ اختیار نہ کرتی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے واضح کر دیا کہ ایران میں امریکی اور برطانوی کورونا ویکسین کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آپ نے فرمایا کہ اگر امریکی کورونا ویکسین بنا لیتے تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی کہ ایک دن میں چار ہزار امریکی کورونا سے لقمہ اجل بن جائیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکا اور برطانیہ پر کسی بھی طرح اعتماد نہیں کیا جا سکتا، بعض اوقات وہ دنیا کی اقوام پر اپنی بنائی ویکسین کا تجربہ کرتے ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ علاقے میں ہماری موجودگی، اسلامی جمہوریہ ایران کے طرفداروں اور دوستوں کی تقویت اور علاقے میں ثبات و استحکام کا باعث ہے جس کا عراق اور شام میں سبھی نے مشاہدہ کیا ہے۔ بنابریں ہم خطے میں اسی طرح موجود رہیں گے اور ہمیں موجود رہنا چاہئے۔

 

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی جنگی طیاروں کی لبنانی حدود میں دراندازی

غاصب صیہونی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی …